علم ایک گوہر نایاب ہے جس کی تحصیل سے ایک انسان کامیابی و کامرانی کے منازل طے کرتا ہے،
يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ(المجادلہ:۱۱)اللہ تعالی اہل ایمان اور اہل علم کے درجات کو بلند کرتا ہے۔
تحصیل علم کے مختلف ذرائع و اسباب ہیں،
إقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ-خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ-اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ-الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ-عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ(العلق:۱-۵)
قرات کے مختلف انواع ہیں،
مطالعہ تحصیل علم کا ایک اہم ذریعہ ہے،
وسیع و دقیق مطالعہ کے بغیر انسان کا ذہن ادراک کی اس سطح تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا جہاں سے وہ مفید و مضر،
مدارس،
ایک استاد آپ کو کامیابی و کامرانی کی شاہراہ کی طرف رہنمائی تو کر سکتا ہے لیکن اس شاہراہ پر چلنے کی ذمہ داری آپ کی ہے،
لہذا کتابوں کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائیں اس لیے کہ یہ کتابیں آپ کے دکھ درد کی بہترین ساتھی ہیں،
وَخَيْرُ جَلِيْسِ الْمَرْءِ كُتْبٌ تُفِيْدُهُ
عُلُومًا وَآدَابًا،
متنبی نے کہا تھا:
أعز مَكَانٍ في الدُّنَى سَرْجُ سَابِحٍ
وَخَيْرُ جَلِيْسٍ في الزَّمانِ كِتابُ
عبد اللہ بن المعتز نے کہا تھا:
جَعَلْتُ كُتُبِي أَنِيسِي
مِن دُونِ كُلِّ أَنِيسِ
لأَنَّنِي لَسْتُ أَرْضَى
إلاَّ بِكُلِّ نَفِيسِ
احمد شوقی نے کہا تھا:
أَنا مَن بَدَّلَ بِالكُتبِ الصِحابا
لَم أَجِد لي وافِيًا إِلا الكِتابا
صاحِبٌ إِنْ عِبتَهُ أَو لَم تَعِبْ
لَيسَ بِالواجِدِ لِلصاحِبِ عابا
كُلَّما أَخلَقتُهُ جَدَّدَني
وَكَساني مِن حِلى الفَضلِ ثِيابا
اسی طرح ایک شاعر نے کیا ہی خوب کہا ہے:
نِعْمَ الأَنِيسُ إذَا خَلَوْتَ كِتَابُ
تَلْهُو بِهِ إنْ خَانَكَ الأَصْحَاب
لاَ مُفْشِيًا سِرًّا إذَا اسْتَوْدَعْتَهُ
وَتَنَالُ مِنْهُ حِكْمَةً وَصَوَاب
طالبان علوم و نبوت! آپ ذرا اپنے اسلاف کو دیکھیں،
امام ابن مبارک رحمہ اللہ سے عرض کیا گیا:
يا أبا عبد الرحمن،
تو انھوں نے فرمایا:
إني إذا كنت في المنزل جالست أصحاب محمد ﷺ (يعني النظر في الكتب)
امام زہری رحمہ اللہ کتب بینی میں اتنے زیادہ محو رہتے تھے کہ ان کی بیوی نے جھلا کر یہاں تک کہہ دیا کہ:
والله إن هذه الكتب أشدُّ عليَّ من ثلاث ضرائر( اللہ کی قسم! یہ کتابیں میرے لیے تین سوتنوں سے زیادہ باعث گراں ہیں)
حافظ خطیب بغدادی رحمہ اللہ کے بارے میں ملتا ہے کہ:
يمشي وفي يده جزء يطالعه( وہ چلتے تھے اور ان کے ہاتھ میں کتاب کا ایک نسخہ ہوتا،
مولانا ابو الکلام آزادؔ رحمہ اللہ اپنی کتاب ’غبار خاطر‘ میں اپنے شوق مطالعہ کو بہ ایں الفاظ بیان فرماتے ہیں:
’’میرے تخیل میں عیش زندگی کا سب سے بہترین تصور کیا ہو سکتا ہے؟ جاڑے کا موسم ہو اور جاڑا بھی قریب قریب درجۂ انجماد کا،
’آزاد کی کہانی خود آزاد کی زبانی‘میں ان کی یہ بات مرقوم ہے:
’’چنانچہ میں اپنے بستر کے نیچے کتابیں رکھتا اور موم بتی جلا کے مطالعہ کرنے لگتا،
’’حیات جاوید ایک ہزار صفحے میں ختم ہوتی ہے،
علامہ البانی رحمہ اللہ کے متعلق مشہور ہے کہ وہ ڈرائیونگ کرتے وقت بھی اپنے پاس کتاب رکھتے تھے اور جوں ہی کہیں موقع ملتا،
فَتَشَبّهوا إِن لَم تَكُونوا مِثلَهُم
إِنَّ التَّشَبّه بِالكِرامِ فَلاحُ
آج ہمارے پاس صحت و تندرستی ہے،
نِعْمَتانِ مَغْبُونٌ فِيهِما كَثِيرٌ مِنَ النّاسِ: الصِّحَّةُ والفَراغُ (صحيح البخاری:۶۴۱۲) دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے تئیں لوگوں کی ایک کثیر تعداد دھوکے کا شکار ہے،
درسی و غیر درسی کتابیں تو کجا آج ہم نے کتاب اللہ کے ساتھ کیسا رشتہ استوار کر رکھا ہے،
لمثل هذا يذوب القلب من كمد
إن كان فى القلب إسلام وإيمان






