دعا عبادت ہی نہیں اصل عبادت ہے:’الدعاء ھو العباده‘(ابوداؤد عن النعمان بن بشير)،
دعا نافرمانوں کا طریقہ نہیں بلکہ انبیاء کی بھی سنت اور طریقہ ہے۔
حضرت آدم عليہ السلام کو ممنوعہ درخت کا پھل کھانے کے بعد دعا کی ہی وجہ سے راحت ملی:
قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ(اعراف:۲۳)
حضرت ابراہیم عليہ السلام کی دعا کی قبولیت ہی تھی کہ مکہ جیسے بے آب وگیاہ علاقہ میں ہر طرح کی روزی اناج اور پھلوں کی کثرت ہونے لگی:
رَبِّ اجْعَلْ هَٰذَا بَلَدًا آمِنًا وَارْزُقْ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ مَنْ آمَنَ مِنْهُم بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ(البقرة:۱۲۶)
حضرت ایوب علیہ السلام کی ساری بیماریاں،
أَيُّوبَ إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ. فَاسْتَجَبْنَا لَهُ فَكَشَفْنَا مَا بِهِ مِن ضُرٍّ ۖ وَآتَيْنَاهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُم مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنْ عِندِنَا وَذِكْرَىٰ لِلْعَابِدِينَ(الأنبياء: ۸۳-۸۴)
حضرت یونس علیہ السلام کے لیے تمام وسائل و ذرائع معدوم ہونے کے بعد دعا ہی آخری کارگر سہارا ثابت ہوا:
وَذَا النُّونِ إِذ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ أَن لَّن نَّقْدِرَ عَلَيْهِ فَنَادَىٰ فِي الظُّلُمَاتِ أَن لَّا إِلَٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ ۚ وَكَذَٰلِكَ نُنجِي الْمُؤْمِنِينَ (الأنبياء:۸۷)
حضرت زكريا علیہ السلام کو بیوی کے بانجھ پن اور درازی عمر کے باوجود دعا اور اس پر یقین کی وجہ سے اولاد جیسی نعمت ملی:
وَزَكَرِيَّا إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْدًا وَأَنتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ۔فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَوَهَبْنَا لَهُ يَحْيَىٰ وَأَصْلَحْنَا لَهُ زَوْجَهُ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا ۖ وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ (الأنبیاء:۸۹-۹۰)
حضرت مریم کی والدہ کی دعا ہی تھی کہ اللہ نے ان کو اور حضرت عیسی کو شیطانی اثر سے محفوظ کردیا:
فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ إِنِّي وَضَعْتُهَا أُنثَىٰ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالْأُنثَىٰ ۖ وَإِنِّي سَمَّيْتُهَا مَرْيَمَ وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ(آل عمران:۳۶) یہاں تک کہ وہ کائنات کے لیے نشان راہ قرار دیے گئے:
وَالَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهَا مِن رُّوحِنَا وَجَعَلْنَاهَا وَابْنَهَا آيَةً لِّلْعَالَمِينَ(الأنبیاء:۹۱)
قرآن و حدیث میں بے شمار دعائیں ہیں۔عام بھی جس کے لیے خاص موقع اور وقت اور عدد کی شرط نہیں اور خاص موقع اور اوقات کے لیے بھی،
بعض دعائیں صبح و شام کی ہیں،
مسجد میں داخل ہونے کے لیے الگ دعا اور نکلنے کے لیے الگ،
یعنی خاص موقعوں کے لیے،
سجدہ میں بندہ رب سے سب سے زیادہ قریب لیکن اس میں رب کا کلام ہی پڑھنے کی ممانعت:
اني نهيت أن أقرا القران راكعا او ساجدا
اسی طرح بعض دعائیں اور اذکار خاص اوقات کے لیے متعین ہیں تو بعض خاص تعداد میں جیسے آیۃ الکرسی اور معوذتین کا صبح و شام تین تین بار پڑھنا،
لہذا جو دعائیں جس موقع کے لیے جس عدد میں جس انداز میں پڑھنے کا قرآن و حدیث سے ثبوت اس کو اسی طرح پڑھنا عبادت کی روح کے مطابق ہے اور الگ الگ دعاؤں کو الگ تعداد میں اپنی طرف سے بغیر ثبوت کے خاص اوقات اور مواقع کے لیے خاص کر لینا یہ دعا کی روح کے خلاف۔کیونکہ دعا عبادت ہے عبادات توقیفی یعنی ثابت طریقے پر کرنا ہی مطلوب ہے،
دعا بندے اور رب کا بالکل نجی اور ذاتی معاملہ ہے،
اسلامی تاریخ میں بہت سے مشکل مراحل آئے لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کرام سے اجتماعی طور پر دعاؤں کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اجتماعی و انفرادی تمام مواقع پر ہر بندہ اپنے رب سے انفرادی طور پر اپنے گناہوں کی معافی تلافی کرے۔حالات کو بہتر کرنے کی دعا دونوں کو دور کرنے کی دعا کرے یہی دین کا صحیح مزاج اور انبیاء و صحابہ کرام کا طریقہ ہے۔
ان دنوں پوری دنیا خاص طور پر ہندوستان میں کورونا کی وجہ سے حالات نہایت سنگین ہیں،
اصل نجات اللہ و رسول کی اتباع و پیروی میں ہے جب کہ ان کے طریقوں کے خلاف چلنا اللہ کی نافرمانی و غضب کا ذریعہ ہے،






