لگتا ہے کہ سوچ کا پیمانہ بدل گیا ہے،
جو مساکین وفقراء ہمارے تعاون کے محتاج ہوتے ہیں وہ غیر نہیں ہوتے،
تعاون کرکے تصویر لینے والے اور پھر اسے اخبار کی یا سوشل میڈیا کی زینت بنانے والے یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ وہ زکوۃ نکال کر اللہ پر یا اس غریب پر احسان نہیں کر رہے ہیں،
اللہ رب العالمین نے فرمایا:
کلا بَل لا تُكرِمونَ اليَتيمَ[الفجر:۱۷] بلکہ تم لوگ یتیموں کی عزت نہیں کرتے۔
محتاج ومساکین اور ضرورت مندوں کی عزت کرنا ایمان کا بنیادی تقاضا ہے،
اللہ رب العالمين نے فرمایا:
قَولٌ مَعروفٌ وَمَغفِرَةٌ خَيرٌ مِن صَدَقَةٍ يَتبَعُها أَذًى وَاللَّهُ[البقرة:۲۶۳]
آیت کا مفہوم: محبت بھری بہترین گفتگو اور اپنے مسلمان بھائی کے لیے دعائے مغفرت کرنا اس صدقے سے بہتر ہے جس سے تکلیف ہوتی ہو۔
امام طبری رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
بہترین بات اور اپنے مسلمان بھائی کے لیے دعا کرنا،
تعاون کرتے ہوئے فقراء ومساکین کی بلا وجہ تصویر کشی زکاۃ دینے والے کے اخلاص وللہیت پر سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہے۔
اللہ رب العالمین نے فرمایا:
إِنْ تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا هِيَ وَإِنْ تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ [البقرة: ۲۷۱]اگر تم صدقات کی تقسیم علانیہ کرتے ہو تو اچھی بات ہے،
ابن كثير رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ چھپا کر صدقہ کرنا زیادہ افضل ہے،
نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
سبعة يظلهم الله في ظله يوم لا ظل إلا ظله ...( الحديث) وفيه: ورجل تصدق بصدقة فأخفاها حتى لا تعلم شماله ما تنفق يمينه(۳)
ترجمہ: بروز قیامت اللہ رب العالمین سات قسم کے اشخاص کو اپنے سائے میں رکھے گا،
امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اہل علم کے نزدیک چھپا کر صدقہ کرنا علانیہ صدقہ کرنے سے افضل ہے۔(۴)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
صدقة السر تطفئ غضب الرب (۵) پوشیدہ طور پر صدقہ کرنے سے اللہ رب العالمين کا غصہ ٹھنڈا ہوتا ہے۔
ایک جگہ اللہ رب العالمین اپنے نیک بندوں کی صفات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے:
إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ ٱللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنكُمْ جَزَآءًۭ وَلَا شُكُورًا[سورة الإنسان:۹]
آیت کا مفہوم: اللہ کے نیک بندے جب مساکین کو کھلاتے ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ ہم تو تمھیں اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لیے کھلا رہے ہیں،
شيخ الإسلام ابن تيميہ رحمه الله فرماتے ہیں:
جو فقیروں سے دعا کا طلب گار ہوتا ہے یا اس سے تعریف کی امید رکھتا ہے تو وہ اس آیت میں داخل نہیں۔(۶)
اگر تصویر کی اشد ضرورت ہو جیسے کسی نے اپنی زکاۃ وصدقات کی تقسیم یا غریبوں کے تعاون پر دوسرے کو مامور کیا ہو اور کہیں سے اسے اس کی تقسیم میں بدعنوانی کی شکایت موصول ہوتی ہو اور صاحب مال شفافیت کی غرض سے چند تصاویر لینے کے لیے بولتا ہو جس سے شکوک و شبہات دور ہو سکے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
لیکن یہاں پر یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ صاحب مال نے تصاویر طلب کی ہے تو اسے ہی بھیجنا ہے نہ کہ اخبارات،
نیز تقسیم اموال کی تصویر لینا ہے کہ کہ غرباء ومساکین کو لیتے ہوئے اور خود کو بہت بڑے داتا کے پوز میں تصویر لینا ہے،
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم اس طرح لوگوں کو ترغیب دلانا چاہتے ہیں۔
میرے بھائی یقیناً آپ ترغیب دلائیں اور شریعت نے بھی آپ کو اس بات کی اجازت دی ہے،
خلاصہ یہ کہ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ و سلم کا مصداق بنیں،
اور یقین جانیں کہ اس قبیح عمل کی وجہ سے بہت سے ایسے حاجت مند ہیں جو وہاں جانا نہیں چاہتے کیوں کہ ان کی عزت نفس اس بات کو گوارا نہیں کرتی اور اس طرح زکاۃ سے زکاۃ دینے والے زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں جبکہ حقیقی محتاج محروم رہ جاتے ہیں۔
اس لیے ہماری زیادہ تر کوشش یہی ہونی چاہیے کہ اسٹیج لگا کر سرعام صدقہ و خیرات کرنے کے بجائے پوشیدہ طور پر تقسیم کریں تاکہ ہر قسم کے محتاج فائدہ اٹھا سکیں۔
اللہ ہم سبھوں کی اصلاح فرمائے اور ہمیں حقیقی تقوی سے روشناس کرائے۔
___________________________________
(۱)تفسیر طبری:۵/۵۲۰
(۲)تفسير ابن كثير:۱/۷۰۱-۷۰۲
(۳)صحيح البخاری:۶۲۹
(۴)جامع الترمذی:۵/۱۸۰
(۵)رواه الطبراني في ’الأوسط‘(۹۴۳) اور شیخ البانی رحمہ اللہ اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔’الصحيحة‘ (۱۹۰۸)
(۶)مجموع الفتاوى:۱۱/۱۱۱





