جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

ماہ رمضان کی آمد کے موقع پر مبارک بادی کا شرعی حکم

تحریر: دکتور کلیم یوسف مدنی12 اپریل، 20211,460قارئین3 تبصرےمطالعے کا وقت: ۴ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
ماہ رمضان کی آمد کے موقع پر مبارک بادی کا شرعی حکم
فل اسکرین دیکھیں

ماہ رمضان کی آمد آمد ہے،عنقریب یہ مبارک مہینہ اپنی پوری رعنائیوں کے ساتھ سایہ فگن ہونے والا ہے،اس بابرکت مہینے کے متعلق بہت سے ایسے مسائل ہیں جو علماء کے درمیان مختلف فیہ ہیں،انھی میں سے ایک مسئلہ اس ماہ کی مبارک بادی کا ہے۔

محترم قارئین! سب سے پہلے ہمیں یہ جاننا چاہیے کہ مبارک بادی عبادات کے باب میں آتی ہے یا عادات کے باب میں،حق یہی ہے کہ مبارک بادی عادات میں داخل ہے اور جو چیزیں عادت میں شمار ہوتی ہوں وہ مباح ہوتی ہیں الا یہ کہ کوئی ایسی خاص دلیل پائی جائے جو اس کے اوپر کوئی دوسرا حکم لگائے۔

علامہ عبد الرحمن بن سعدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:’’یہ اور ان جیسے بہت سے مسائل( یعنی مبارک بادی اور ان جیسے مسائل) کی بنیاد ایک عظیم شی پر ہے،وہ یہ کہ تمام عادات چاہے قولی ہوں یا فعلی وہ اصلا جائز اور مباح ہوتی ہیں،چناں چہ ان اشیاء میں سے کسی چیز پر بغیر شرعی دلیل کے حرام یا مکروہ ہونے کا فتوی نہیں لگایا جا سکتا،اس بنیادی ضابطہ پر کتاب وسنت میں بکثرت دلائل موجود ہیں اور ابن تیمیہ رحمہ اللہ وغیرہ نے بھی اس امر کا ذکر کیا ہے۔

یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ اگر مبارک بادی کو عبادت کے باب میں داخل کیا جائے تو بہت ساری مناسبات جیسے کسی کو امتحان میں کامیابی پر،یا کسی مؤلف کو اس کی اچھی تالیف پر،یا کسی کو گھر یا گاڑی خریدنے وغیرہ پر مبارکباد دینا غیر شرعی ہو جائے گا۔

عرف عام میں اگر کوئی چیز بہتر سمجھی جاتی ہو نیز وہ شریعت سے متصادم بھی نہیں ہو تو شریعت نے بھی اسے مستحسن سمجھا ہے۔(۱)

کعب بن مالک رضی اللہ کی توبہ جب قبول ہوئی تھی بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے انھیں توبہ کی قبولیت کی خوشخبری دی اور بعض نے مبارک باد دی۔(۲)

امام نووی رحمہ اللہ کعب بن مالک رحمہ اللہ کے واقعہ پر تعلیق لگاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:’’اگر کسی کو ظاہری،دینی یا دنیوی کوئی بھی نعمت حاصل ہو،یا اسے کسی بڑی مصیبت اورپریشانی سے نجات ملی تو ایسے موقع پر اسے خوشخبری اور مبارک باد دینا مستحب ہے۔(۳)

ابن القیم رحمہ اللہ اس واقعہ سے استدلال کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اس واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ اگر کسی کو دینی نعمت حاصل ہو تو اسے مبارکباد دینا مستحب ہے۔(۴)

ایک مسلمان کے لیے بلاشبہ ماہ رمضان کا حصول عظیم دینی نعمت ہے،چناں چہ اس نعمت کے حصول کے موقع پر ایک دوسرے کو مبارکباد دینا یا قبول کرنا مشروع عمل ہے۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ماہ رمضان آتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اپنے اصحاب کو خوشخبری دیتے ہوئے فرماتے کہ: ’’تمھارے پاس رمضان آیا ہے جو کہ ایک مبارک مہینہ ہے،اللہ رب العالمین نے اس ماہ کے روزے تمھارے اوپر فرض کیے ہیں،اس ماہ مبارک میں آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں،جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں اور سرکش شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے،اس ماہ مبارک میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینے سے بہتر ہے،جو اس کی خیر وبھلائی سے محروم رہ گیا حقیقی معنوں میں وہی محروم ہے۔(۵)

حافظ ابن رجب الحنبلی فرماتے ہیں: بعض علماء فرماتے ہیں کہ آپس میں ایک دوسرے کو ماہ رمضان کی مبارک باد دینے کے متعلق یہ حدیث اصل اوربنیاد ہے۔(۶)

علامہ محمد امین الشنقیطی،شیخ محمد بن صالح العثيمين،شیخ ابن باز،رحمہم اللہ اور شیخ عبد العزیز آل الشيخ اور شیخ صالح الفوزان حفظہما اللہ وغیرہم نے ماہ رمضان کی مبارک بادی کو مشروع قرار دیا ہے۔

قارئین کرام! مذکورہ سطور سے پتہ چلتا ہے کہ ماہ رمضان کی مبارک بادی دینا ایک مباح ومشروع عمل ہے،اس لیے اس مہینہ کی آمد کے موقع پر اگر مسلمان آپس میں خوشی کا اظہار کرتے ہوں یا ایک دوسرے کو مبارک باد دیتے ہوں تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

.............................................................

(۱)المجموعۃ الکاملۃ قسم الفتوی

(۲)صحیح بخاری:۴۴۱۸

(۳)شرح صحيح مسلم:۱۷/۹۵

(۴)زاد المعاد:۳/۵۸۵

(۵)سنن النسائی:۵/۲۵۰،حدیث نمبر:۲۱۰۶

شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔

(۶)لطائف المعارف:۱/۱۴۸

اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (3)

ا
ابو احمد کلیم الدین یوسف
13 اپریل، 2021
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ محترم ماہ رمضان کی مبارک باد کی بنیاد ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث ہے جس کا حوالہ مضمون میں دیا گیا، اور علماء کرام نے اس حدیث سے رمضان کی مبارک باد دینے پر استدلال بھی کیا ہے، نیز علماء کرام نے کتاب وسنت کی روشنی میں ماہ رمضان کی مبارک باد کو جائز اور مباح سمجھا ہے جبکہ جمعہ کی مبارک باد کو درست نہی سمجھا ہے. مزید یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح ماہ رمضان کی آمد پر صحابہ کرام کو خوشخبری دینے والے انداز میں مخاطب کرتے اس طرح جمعہ کے دن نہیں کرتے تھے. واللہ اعلم بالصواب
ا
ایاز ماسٹر
13 اپریل، 2021
شیخ محترم السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ جمعہ کے دن کی مبارک باد دینے کی بابت اکثر علماء اسے بدعت قرار دیتے ہیں۔ اگر مبارک بادی عادات میں سے ہے تو کیاعادات میں بھی بدعت ہو سکتی ہے؟
ح
حسن
12 اپریل، 2021
نفع الله بكم حديث أبي هريرة إخبار، من أين أخذوا التهنئة؟

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

ماہ رمضان کی آمد کے موقع پر مبارک بادی کا شرعی حکم - دی فری لانسر | دی فری لانسر