ماہ رمضان کی آمد آمد ہے،
محترم قارئین! سب سے پہلے ہمیں یہ جاننا چاہیے کہ مبارک بادی عبادات کے باب میں آتی ہے یا عادات کے باب میں،
علامہ عبد الرحمن بن سعدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:’’یہ اور ان جیسے بہت سے مسائل( یعنی مبارک بادی اور ان جیسے مسائل) کی بنیاد ایک عظیم شی پر ہے،
یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ اگر مبارک بادی کو عبادت کے باب میں داخل کیا جائے تو بہت ساری مناسبات جیسے کسی کو امتحان میں کامیابی پر،
عرف عام میں اگر کوئی چیز بہتر سمجھی جاتی ہو نیز وہ شریعت سے متصادم بھی نہیں ہو تو شریعت نے بھی اسے مستحسن سمجھا ہے۔(۱)
کعب بن مالک رضی اللہ کی توبہ جب قبول ہوئی تھی بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے انھیں توبہ کی قبولیت کی خوشخبری دی اور بعض نے مبارک باد دی۔(۲)
امام نووی رحمہ اللہ کعب بن مالک رحمہ اللہ کے واقعہ پر تعلیق لگاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:’’اگر کسی کو ظاہری،
ابن القیم رحمہ اللہ اس واقعہ سے استدلال کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اس واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ اگر کسی کو دینی نعمت حاصل ہو تو اسے مبارکباد دینا مستحب ہے۔(۴)
ایک مسلمان کے لیے بلاشبہ ماہ رمضان کا حصول عظیم دینی نعمت ہے،
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ماہ رمضان آتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اپنے اصحاب کو خوشخبری دیتے ہوئے فرماتے کہ: ’’تمھارے پاس رمضان آیا ہے جو کہ ایک مبارک مہینہ ہے،
حافظ ابن رجب الحنبلی فرماتے ہیں: بعض علماء فرماتے ہیں کہ آپس میں ایک دوسرے کو ماہ رمضان کی مبارک باد دینے کے متعلق یہ حدیث اصل اوربنیاد ہے۔(۶)
علامہ محمد امین الشنقیطی،
قارئین کرام! مذکورہ سطور سے پتہ چلتا ہے کہ ماہ رمضان کی مبارک بادی دینا ایک مباح ومشروع عمل ہے،
واللہ اعلم بالصواب
.............................................................
(۱)المجموعۃ الکاملۃ قسم الفتوی
(۲)صحیح بخاری:۴۴۱۸
(۳)شرح صحيح مسلم:۱۷/۹۵
(۴)زاد المعاد:۳/۵۸۵
(۵)سنن النسائی:۵/۲۵۰،
شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔
(۶)لطائف المعارف:۱/۱۴۸






