اخلاقیات ومعاملات میں شفافیت کے بغیر انسانی سماج کی صالحیت کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکتا۔مذہب اسلام نے انسانی معاشرے کوپر امن،
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ أَوْفُواْ بِالْعُقُودِ(المائدۃ:۱)اے ایمان والو! عہدوپیماں پورے کرو۔
اکثر مفسرین نے لکھا ہے کہ اس آیت میں موجود لفظ ’عقود‘عام ہے،
رسول اللہ ﷺنے بھی اپنے ارشادات وفرامین کے ذریعہ ایفاے عہد کی اہمیت اور وعدہ خلافی کی قباحت کو بیان فرمایا ہے،
آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ إِذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ ( صحيح مسلم: ۲۱۰) منافق کی تین علامتیں ہیں جب بات کرے تو جھوٹ بولے،
عہدشکنی کی متعدد شکلیں ہیں،
۱۔اللہ تعالی کے عہد کو توڑنا،
۲۔امام وقت کے عہد کو توڑنا،
۳۔ذمی،
مَن قَتَلَ مُعاهَدًا لَمْ يَرِحْ رائِحَةَ الجَنَّةِ،
۴۔عام معاملات زندگی میں کسی سے وعدہ کرکے بغیر کسی شرعی عذر کے اسے توڑ دینا۔[آفات على الطريق لسيد محمد نوح:۸۰-۸۲-بتصرف]
عہدشکنی کے اثرات:
جس طرح ایفاے عہد سےمعاشرے کی فضا خوشگوار ہوتی ہے اوراس کے خوش کن فوائد اورنفع بخش نتائج سے افراد معاشرہ محظوظ ہوتے ہیں،
۱۔اللہ تعالی کے عہد کو توڑنے والا کافر ہے:اللہ تعالی نے کفر اور نقض عہد کے باہمی ربط و تعلق کو قرآن کریم کے متعدد مقامات پر واضح کیا ہے۔اللہ کا فرمان ہے:
وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّورَ خُذُواْ مَا آتَيْنَاكُم بِقُوَّةٍ وَاسْمَعُواْ قَالُواْ سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا وَأُشْرِبُواْ فِي قُلُوبِهِمُ الْعِجْلَ بِكُفْرِهِمْ قُلْ بِئْسَمَا يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمَانُكُمْ إِن كُنتُمْ مُّؤْمِنِينَ(البقرۃ:۹۳)اور جب ہم نے تم سے عہد لیا اور طور پہاڑ کو تمھارے اوپر اٹھایا(اور کہا) کہ جو ہم نے تمھیں دیا ہے اسے پوری قوت کے ساتھ تھام لو اور سنو،
۲۔عہد شکن کا انجام گھاٹےاور خیبت وخسران پر منتج ہوتا ہے۔اللہ تعالی نے فرمایا:
الَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِن بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَن يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الأَرْضِ أُولَـئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ (البقرۃ:۲۷)جو اللہ سے کیے گئے عہد کوتوڑتے ہیں اور جس کے جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہےاسے کاٹتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں،
۳۔اللہ تعالی عہد شکن کا دل سخت کردیتا ہے اور وہ مستحق لعنت قرار پاتا ہے۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَاقَهُمْ لَعنَّاهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوبَهُمْ قَاسِيَةً يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَن مَّوَاضِعِهِ وَنَسُواْ حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُواْ بِهِ وَلاَ تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلَىَ خَآئِنَةٍ مِّنْهُمْ إِلاَّ قَلِيلاً(المائدۃ:۱۳)پھر جب انھوں نے بد عہدی کی تو ہم نے ان پر لعنت بھیج دی،
۴۔نقض عہد کا ارتکاب کرنے والے لوگ باہمی دشمنی اور بغض وحسد میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور ان کی آپسی عداوت انتہا کو پہنچ جاتی ہے۔اللہ تعالی کا فرمان ہے:
وَمِنَ الَّذِينَ قَالُواْ إِنَّا نَصَارَى أَخَذْنَا مِيثَاقَهُمْ فَنَسُواْ حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُواْ بِهِ فَأَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَسَوْفَ يُنَبِّئُهُمُ اللّهُ بِمَا كَانُواْ يَصْنَعُونَ(المائدة: ۱۴)اور جن لوگوں نے کہا کہ ہم نصاری ہیں،
۵۔اس منافقانہ روش کامآل بد کشت وخون اور قتل وتشرید پر منتہی ہوتا ہے۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
الَّذِينَ عَاهَدتَّ مِنْهُمْ ثُمَّ يَنقُضُونَ عَهْدَهُمْ فِي كُلِّ مَرَّةٍ وَهُمْ لاَ يَتَّقُونَ فَإِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِي الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِهِم مَّنْ خَلْفَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ(الأنفال: ۵۶-۵۷)جن کے ساتھ آپ نے کئی بار معاہدہ کیا اور وہ ہربار معاہدہ توڑتے رہے ہیں،
۶۔بدعہدی دنیاوی ذلت ورسوائی اور اخروی عذاب شدید کا سبب ہے۔اللہ تعالی نے بنواسرائیل کی بدعہدی،
أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ فَمَا جَزَاء مَن يَفْعَلُ ذَلِكَ مِنكُمْ إِلاَّ خِزْيٌ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يُرَدُّونَ إِلَى أَشَدِّ الْعَذَابِ [البقرة: ۸۵]کیا تم لوگ اللہ کی کتاب کے بعض حصوں کو مانتے ہواور بعض کا انکار کرتے ہو،
۷۔بدعہد اپنے برے انجام کو خود بھگتتا ہے۔اللہ تعالی نے فرمایا:
فَمَن نَّكَثَ فَإِنَّمَا يَنكُثُ عَلَى نَفْسِهِ (الفتح: ۱۰)پس جو بد عہدی کرےگا،
اخروی ثواب وعقاب پر ایمان وایقان نہ ہو تو جہاں نیکی کرنے کا جذبہ سرد پڑجاتا ہے وہیں معاصی وسیئات کا مرتکب شتربےمہار بن کر دشت گناہ میں دندناتا پھرتا ہے،
عَدُّ هَذَا مِنَ الْكَبَائِرِ هُوَ مَا وَقَعَ فِيْ كَلَامِ غَيْرِ وَاحِدٍ (الزواجر عن اقتراف الكبائر:۱/۱۸۲) متعدد علما کے کلام میں نقضِ عہد کو کبائر(کبیرہ گناہوں) میں شمار کیا گیا ہے۔
قیامت کے دن بندوں سے عہود ومواثیق کے بارے میں پوچھا جائےگا،
وَأَوْفُواْ بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْؤُولاً(الإسراء:۳۴)اور عہد وپیمان کو پورا کرو،
عہد شکنی نفاق کی علامت ہے جب کہ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ مومن نہ اللہ تعالی کے عہودومواثیق کو توڑکر اس کی نافرمانی کا مرتکب ہوتا ہےاور نہ ہی اپنی معاشرتی واجتماعی زندگی میں خائن،
وَالَّذِينَ هُمْ لِأَمَانَاتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُونَ(مومنون: ۸)اور جو اپنی امانتوں اور اپنے عہدوپیمان کا خیال رکھتے ہیں۔
اللہ تعالی ہمیں عہد شکنی کی جملہ شکلوں سے بچائے اور عہد وپیمان کی حفاظت ورعایت کی توفیق بخشے۔آمین






