عصر حاضر میں جو لوگ اپنے مخصوص افکار و نظریات سے مشہور ہیں ان میں ایک معروف شخصیت مولانا وحید الدین خان کی ہے۔انھوں نے متعدد موضوعات پر سو سے زائد کتابیں تحریر فرمائی ہیں اور اپنی منفرد قوت بیان،
ان کی کتاب ’کتاب معرفت‘ کا مطالعہ کرنے سے چار باتیں شدت سے محسوس ہوتی ہیں:
(۱)وہ پہلے کوئی عقیدہ اور نظریہ قائم کرتے ہیں پھر اسی کی روشنی میں قرآن وحدیث کا مطالعہ کرتے ہیں اگر ان کو ایسی آیتیں یا حدیثیں مل جاتی ہیں جن سے ان کے عقیدے اور نظریے کی تائید ہوتی ہو تو وہ اس کی تاویل کرکے انھیں اپنے عقیدے اور نظریے سے ہم آہنگ کر لیتے ہیں اور اگر صحیح دلائل سے ان کے فکر اور عقیدے کی ترجمانی نہیں ہو پاتی ہے تو ضعیف اور منکر روایتوں کا سہارا لیتے ہیں یا پھر ان آیتوں کی تفسیر یا احادیث کی تشریح میں صحابہ یا تابعین سے منقول ضعیف یا مجروح اقوال کو جمع کرتے ہیں،
(۲)سائنسی علوم پر ان کا مطالعہ انتہائی وسیع اور گہرا ہے اور وہ عقل پر مبنی سائنس اور وحی پر مبنی اسلام کو اس خوبصورتی کے ساتھ ملا کر پیش کرتے ہیں گویا دونوں کا منبع اور مصدر قدرے ایک ہو۔
(۳)عموماً وہ اپنے نظریے اور عقیدے کی وضاحت کھل کر اور واضح انداز میں نہیں کرتے ہیں۔
(۴)وہ ایک ہی بات کو مختلف پیرایے اور اسلوب میں بیان کرتے ہیں اور عموماً پہلے اسلوب کا مفہوم دوسرے اسلوب اور پیرایے کے مفہوم سے قدرے متضاد اور مختلف نظر آتا ہے جس کی وجہ سے قاری کا کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا مشکل ہوتا ہے۔
مولانا وحید الدین خان کی یہ کتاب جو چھ سو چوبیس صفحات پر مشتمل ہے،
موصوف کتاب شروع کرتے ہوئے صفحہ نو پر فرماتے ہیں:
’’علماء نے معرفت کو واجب اول بتایا ہے،
قرآن کی سورۃ الزاریات میں بتایا گیا ہے کہ جن وانس کو صرف اللہ کی عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔(۵۶:۵۱ ) اس آیت میں عبادت سے مراد معرفت الہی ہے،
’’قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان یا معرفت کے دو درجے ہیں-ابتدائی معرفت اور اعلی معرفت۔۔۔‘‘( ص ۱۱)
’’جنت کی سب سے بڑی خوشی حصول معرفت کی خوشی ہے حصول معرفت کا یہ سفر جنت میں ابدی طور پر جاری رہے گا،
’’توحید کا آغاز معرفت (realizasion)سے ہوتا ہے،
اور جب وہ اس کو سنتے ہیں۔۔۔‘‘(۸۳:۵-۸۵)
یہ ایک عجیب المیہ ہے کہ پوری تاریخ میں صرف چند مخلص انسانوں کے سوا کوئی بھی شخص اللہ کی عظمت کو دریافت نہ کرسکا،
قبل اس کے کہ ہم موصوف کے نظریے کا جائزہ لیں یہ جان لینا فائدے سے خالی نہ ہوگا کہ بعینہ یہی نظریہ بہت سارے باطل فرقوں مثلا اشاعرہ،
معرفت الہی کے مسئلہ میں قول فیصل یہ ہے کہ معرفت کے داعی اور مدعی یا تو توحید الوہیت کی حیثیت اور مقام سے نا آشنا ہیں یا پھر آشنا تو ہیں مگر اپنے افکار اور عقائد کی ترویج کے لیے قصدا اسے ظاہر نہیں کر رہے ہیں۔کیونکہ اگر معرفت کے داعی توحید الوہیت کے مفہوم سے واقف ہوتے تو معرفت کو اول واجب یا کم از کم مقصد انسانیت قطعا قرار نہ دیتے۔وہ اس وجہ سے کہ توحید الوہیت ہی وہ توحید ہے جس کی طرف دعوت دینے کے لیے رب العالمین نے اپنے تمام نبیوں اور رسولوں کو زمین پر بھیجا:
وَلَـقَدۡ بَعَثۡنَا فِىۡ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوۡلًا اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ وَاجۡتَنِبُوا الطَّاغُوۡتَۚ (النحل:۳۶)اور ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا (جو انھیں یہی کہتا تھا) کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔
يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَـكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ(الاعراف:۶۵)اے میری قوم کے لوگو!اللہ کی عبادت کرو جس کے علاوہ تمھارا کوئی معبود نہیں۔
یہی واجب اول،
معرفت الہی واجب اول یا مقصد انسانیت ہرگز نہیں ہے کیونکہ اگر اقرار واعتراف اور اعتقاد سے پہلے معرفت واجب ہوتی تو قرآن و حدیث میں کم از کم ایک بار ہی اس کا ذکر آیا ہوتا،
موصوف کا کہنا کہ’’علماء نے معرفت کو واجب اول بتایا ہے،
پہلی وجہ:
معرفت الہی سے اگر ذات الہی کی معرفت مراد ہے تو یہ محال ہونے کی وجہ سے باطل ہے۔اللہ تعالی فرماتا ہے:
يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِهِ عِلْمًا (طہ:۱۱۰)
یہ وضاحت اس لیے کہ معرفت کو اول واجب قرار دینے والے اکثر حضرات اللہ تعالی کی صفات کے قائل نہیں ہیں جیسے اشاعرہ وغیرہ۔لہذا وہ جس معرفت کو اول واجب قرار دیتے ہیں وہ در حقیقت ’ذات الہی‘ کی معرفت ہے۔اور اگر اس کے افعال واسماء وصفات یا اس کی آیات کے ذریعے اس کی معرفت مراد ہے _ جیسا کہ خان صاحب صفحہ نمبر چھبیس پر لکھتے ہیں کہ توحید کا آغاز معرفت (realizasion) سے ہوتا ہے،
نیز اللہ رب العالمین کو خالق ومالک کی حیثیت سے جاننا اور دریافت کرنا ’ توحید ربوبیت‘ میں داخل ہے جس کے قائل ہر دور کے مشرکین بھی رہے ہیں۔اللہ رب العزت فرماتا ہے:
وَلَئِنۡ سَاَلۡتَهُمۡ مَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ لَيَـقُوۡلُنَّ اللّٰهُ(لقمان:۲۵)اور اگر تو ان سے پوچھے گا کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو یقینا کہیں گے کہ اللہ نے۔
قُلۡ مَنۡ يَّرۡزُقُكُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ اَمَّنۡ يَّمۡلِكُ السَّمۡعَ وَالۡاَبۡصَارَ وَ مَنۡ يُّخۡرِجُ الۡحَـىَّ مِنَ الۡمَيِّتِ وَيُخۡرِجُ الۡمَيِّتَ مِنَ الۡحَـىِّ وَمَنۡ يُّدَبِّرُ الۡاَمۡرَؕ فَسَيَـقُوۡلُوۡنَ اللّٰهُۚ فَقُلۡ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ(یونس:۳۱) کہو،
ان آیات کے علاوہ اور بھی آیتیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار ومشرکین اللہ رب العزت کو خالق،
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ توحید ربوبیت کے اقرار یعنی اللہ کو خالق،
خلاصہ یہ نکلا کہ خان صاحب کی مذکورہ توحید کم از کم ’ وہ توحید نہیں جس کی دعوت دینے کے لیے رب العزت نے اپنے نبی اور رسول بھیجے تھے۔‘نیز موصوف نے اپنے اس ’ مذعومہ‘ عقیدہ پر سورہ مائدہ کی جس آیت کے ترجمہ سے استدلال کیا ہے وہ آیت ان کے اس عقیدہ پر دلالت نہیں کرتی ہے۔
پہلے آیت اور اس کا ترجمہ دیکھیں:
وَاِذَا سَمِعُوۡا مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَى الرَّسُوۡلِ تَرٰٓى اَعۡيُنَهُمۡ تَفِيۡضُ مِنَ الدَّمۡعِ مِمَّا عَرَفُوۡا مِنَ الۡحَـقِّۚ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاكۡتُبۡنَا مَعَ الشّٰهِدِيۡنَ(المائدہ:۸۳)اور جو کچھ رسول کی طرف نازل کیا گیا ہے جب اسے سنتے ہیں تو تم دیکھتے ہو کہ ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلتے ہیں اس لیے کہ وہ حق کو پہچان گئے ہیں۔کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! ہم ایمان لے آئے لہذا ہمارا نام گواہی دینے والوں میں لکھ لے۔
اس آیت میں ’مِمَّا عَرَفُوۡا مِنَ الۡحَـقِّ‘سے خان صاحب نے ’معرفت خدا‘ کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔جو درست نہیں ہے۔
اس کی تفصیل یہ ہے کہ آیت میں’ سَمِعُوۡا‘ کی ضمیر’ھم‘ کا مرجع اس سے پہلے والی آیت میں مذکور ’نصاری‘ کے قسیسین و رھبان کی طرح راجع ہے۔اور ان کی صفت یہ بتلائی گئی ہے کہ وہ تکبر نہیں کرتے بلکہ حق بات کو جاننے کے بعد قبول کر لیتے ہیں۔اور نصاری کا یہ عقیدہ تھا کہ عیسی علیہ السلام ’خدا‘ ہیں اور ان کے اندر الوہیت کی صفت موجود ہے۔جبکہ ’حق‘ کی تعیین میں کئی احتمالات نظر آتے ہیں۔کیونکہ ’ حق‘ اللہ تعالی کی بھی صفت ہے،
لہذا:
۱۔مراد یہ ہے کہ عیسی علیہ السلام اور ان کی ماں مریم دونوں اللہ کے بندے ہیں اور ان کے اندر ’الوہیت‘ کی کوئی بھی صفت موجود نہیں ہے۔
مطلب یہ ہوا کہ ان کی آنکھوں میں جس حق کی معرفت کے نتیجے میں آنسو رواں ہوئے تھے وہ یہ تھا کہ عیسی اور ان کی ماں مریم علیہما السلام تو صرف اللہ کے بندے اور مخلوق ہیں،
۲۔مراد یہ ہے کہ قرآن مجید کا اللہ کی طرف سے نازل ہونا ’ حق‘ اور یقینی ہے۔
مطلب یہ ہوا کہ ان کی آنکھوں میں جس حق کی معرفت کے نتیجے میں آنسو رواں ہوئے تھے وہ یہ تھا کہ انھیں اس بات کی معرفت ہو گئی تھی کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے جو اس نے اپنے نبی پر نازل فرمائی ہے۔
۳۔مراد یہ ہے کہ انھوں نے قرآن سننے کے بعد یہ جان لیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم یقینا وہی نبی ہیں جن کی بشارت عیسی علیہ السلام اور ان سے پہلے کے نبیوں نے دی تھی۔لہذا اس حق بات کو جان لینے کی وجہ سے ان کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔
البتہ پہلا احتمال راجح نظر آتا ہے وہ اس وجہ سے کہ مذکورہ آیت سے پہلے ’ دس‘ آیات میں نصاری کا یہ باطل عقیدہ اور نظریہ بیان کیا گیا ہے جو وہ کہتے تھے کہ اللہ حقیقت میں ’ مسیح ابن مریم‘ ہے یا اللہ ’ثالث ثلاثۃ‘ ہے پھر ان کے اس عقیدے اور نظریے کی تردید کی گئی،
دوسری وجہ:
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوری زندگی میں اس بات کی دعوت نہیں دی کہ سب سے پہلے ’معرفت الہی‘ حاصل کرو یا پھر اللہ کو ’ خالق و مالک‘ کی حیثیت سے دریافت کرو بلکہ اس کے برعکس سب سے پہلے جس چیز کی طرف لوگوں کو دعوت دی وہ شہادتین’أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمداً رسول الله‘ ہے اور اسی کی طرف بلانے کا حکم اپنے صحابہ کرام کو بھی دیا۔جیسا کہ معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجتے وقت فرمایا:
ادْعُهُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ(صحيح البخاری:۱۳۹۵) انھیں اس کلمہ کی گواہی کی دعوت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں،
یہی روایت الفاظ کے قدرے اختلاف کے ساتھ اس طرح بھی آئی ہے:
فَلْيَكُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ عِبَادَةُ اللَّهِ،
لہذا حدیث کے اس ٹکڑے ’فَإِذَا عَرَفُوا اللَّهَ ‘ سے بعض لوگوں نے استدلال کیا کہ ’معرفت الہی‘ واجب اول ہے یا مقصد انسانیت ہے۔مگر یہ استدلال اسی صورت میں درست ہو سکتا تھا جب اس سے پہلے کے فقرے میں ’ عِبَادَةُ اللَّهِ ‘ کے بجائے ’ معرفة الله‘ ہوتا۔یعنی:
فليكن أول ما تدعوهم إليه معرفة الله
اور اس کے علاوہ کوئی اور لفظ وارد نہ ہوتا۔جب کہ یہاں پر کئی الفاظ وارد ہوئے ہیں۔
چنانچہ صحیح بخاری کے رمز شناس ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’فإذا عرفوا الله أو عرفوا ذلك‘ سے معرفت کے وجوب پر استدلال اسی وقت صحیح ہو سکتا ہے جب یہ کنفرم ہو جائے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی الفاظ استعمال فرمائے ہیں،
اسی طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ،
لہذا اگر ’معرفت‘ واجب اول یا مقصد انسانیت ہوتی تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف ضرور دعوت دیتے یا پھر فرماتے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے اس وقت تک قتال کروں جب تک کہ وہ اللہ کو پہچان نہ لیں،
تیسری وجہ:
تمام انبیاء کرام علیہم السلام نے اپنی دعوت کی ابتدا توحید الوہیت سے کی ہے اور کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ اے میری قوم کے لوگو! سب سے پہلے اللہ کو پہچانو،
ٱعۡبُدُوا۟ ٱللَّهَ (اللہ کی عبادت کرو)[ المائدۃ:۷۲،
چوتھی وجہ:
بفرض محال اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ معرفت واجب اول ہے تب بھی ایک اعتراض پیدا ہوگا کہ ’معرفت‘ صرف غور وفکر اور استدلال سے حاصل ہوتی ہے لہذا پہلا فرض ’ غور وفکر‘ ہونا چاہیے نہ کہ معرفت الہی۔جیسے نماز فرض ہے مگر نماز بغیر وضو کے ناقص نہیں ہے لہذا نماز سے پہلے وضو کرنا فرض ہوتا ہے۔
پانچویں وجہ:
اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ ’ معرفت الہی‘ مقصد انسانیت یا واجب اول ہے تو ایسی صورت میں اگر کوئی کافر آپ کے پاس اسلام قبول کرنے کے لیے آئے تو آپ کو لازما کہنا پڑے گا کہ ’’ پہلے آپ غور وفکر اور استدلال کرو تاکہ اللہ کو پہچان سکو پھر اس کے بعد اس کی صفات کو پہچانو اس کے بعد آکر ’ شہادتین‘ کا اقرار کرو اور اسلام میں داخل ہو جاؤ۔‘‘
موصوف ایک جگہ فرماتے ہیں:
’’ موت سے پہلے کی زندگی آغاز معرفت ہے اور موت کے بعد کی زندگی تکمیل معرفت کی زندگی۔(کتاب معرفت: ص۹)
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ موت کے بعد کی زندگی تکمیل معرفت کی زندگی کیسے ہو سکتی ہے؟نیز یہ دنیا ’ دار العمل‘ ہے اور آخرت کی زندگی ’ دار الجزاء‘ ہے،
اگر ہاں تو کیا انبیاء کرام بھی دنیا کے اندر مکمل معرفت حاصل نہ کرسکے جو وہ موت کے بعد حاصل کریں گے؟یا پھر وہی لوگ ’ معرفت‘ کی تکمیل کریں گے جو دنیا کے اندر مکمل معرفت حاصل نہ کر سکے بلکہ کچھ کمی رہ گئی؟یا پھر دنیا کے اندر مکمل معرفت ممکن ہی نہیں ہے؟نیز موت کے بعد کی زندگی میں تکمیل معرفت کا طریقہ کیا ہوگا؟
موصوف مزید فرماتے ہیں:
’’ قرآن کی سورۃ الزاریات میں بتایا گیا ہے کہ جن وانس کو صرف اللہ کی عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔(۵۶:۵۱) اس آیت میں عبادت سے مراد معرفت الہی ہے آیت کی یہ تفسیر عبداللہ بن عباس اور علی بن ابی طالب کے قول پر مبنی ہے۔یہی معرفت الہی جن وانس کا مقصد تخلیق ہے۔‘‘(کتاب معرفت: ص۹)
تو عرض ہے کہ یہ تفسیر نہ تو ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے اور نہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے۔معلوم نہیں یہ تفسیر موصوف نے کہاں سے نقل کی ہے۔
امام بغوی کہتے ہیں کہ ’ إلّا لِيَعْبُدُونِ‘ کی تفسیر علی رضی اللہ عنہ نے ان الفاظ میں کی ہے:
أيْ إلّا لِآمُرَهُمْ أنْ يَعْبُدُونِي وأدْعُوَهُمْ إلى عِبادَتِي۔يُؤَيِّدُهُ قَوْلُهُ تعالى: وما أُمِرُوا إلّا لِيَعْبُدُوا إلَهًا واحِدًا (التَّوْبَةِ: ۳۱)[معالم التنزيل للبغوي:۴/۲۸۸،
جبکہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
إلّا لِيَعْبُدُونِ . أي: إلّا لِيُقِرُّوا بِالعُبُودَةِ طَوْعًا وكَرْهًا ( تفسير الطبری:۲۱/۵۵۴)وہ خوشی نا خوشی میرے معبود برحق ہونے کا اقرار کریں۔
ابن جریر رحمہ اللہ ’ لیعبدون‘ کی تفسیر میں اقوال نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
وأولى القولين في ذلك بالصواب القول الذي ذكرنا عن ابن عباس،
یاد رہے کہ خان صاحب نے اپنی من مانی تفسیر کی تائید میں ایک موضوع اور من گھڑت روایت کا بھی سہارا لیا ہے۔روایت یہ ہے:
كنت كنزًا مخفيًا فأحببت أن اعرف فخلقت الخلق(كشف الخفا:۲/۱۰۱۱ بحوالہ کتاب معرفت:ص۴۷) میں ایک پوشیدہ خزانہ تھا لہذا میں نے چاہا کہ میں پہچانا جاؤں،
ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
إنه ليس من كلام النبي صلى الله عليه وسلم،
معلوم ہوا کہ موصوف نے جس تفسیر کو ابن عباس اور علی بن ابی طالب کی طرف منسوب کیا ہے بالکل بھی درست نہیں ہے بلکہ ان دونوں سے اس کی دوسری تفسیر وارد ہے۔
مولانا وحید الدین ایک جگہ لکھتے ہیں:
’’ قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان یا معرفت کے دو درجے ہیں-ابتدائی معرفت اور اعلی معرفت۔۔۔‘‘( ص۱۱)
سوال یہ ہے کہ قرآن کریم میں کس جگہ ’ معرفت‘ کا تذکرہ ہے نیز کس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ معرفت کے دو درجے ہیں؟
مزید لکھتے ہیں:
’’ جنت کی سب سے بڑی خوشی حصول معرفت کی خوشی ہے حصول معرفت کا یہ سفر جنت میں ابدی طور پر جاری رہے گا،
سوال یہ ہے کہ جنت میں کون سی معرفت کا حصول سب سے بڑی خوشی قرار پائے گی؟ کیا ’ معرفت‘ سے ان کا مقصود ’ رؤیت باری تعالی‘ ہے جو کہ جنت کی سب سے بڑی نعمت ہوگی اور سب سے زیادہ جنتیوں کو محبوب بھی ہوگی،
إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ-قَالَ-يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: تُرِيدُونَ شَيْئًا أَزِيدُكُمْ؟ فَيَقُولُونَ: أَلَمْ تُبَيِّضْ وُجُوهَنَا؟ أَلَمْ تُدْخِلْنَا الْجَنَّةَ،
لہذا اگر ’ معرفت‘ سے موصوف کی مراد ’رؤیت باری تعالی‘ ہے تو یہ خود ان ہی کے قول کے مخالف ہے کیونکہ ان کے بقول ’’موت سے پہلے کی زندگی آغاز معرفت ہے اور موت کے بعد کی زندگی تکمیل معرفت کی زندگی ہے۔‘‘
لہذا یہ لازم آئے گا کہ موت سے پہلے کی زندگی میں ’ رؤیت باری تعالی‘ ممکن ہے بلکہ اسی زندگی سے انسان اللہ کو دیکھنا شروع کر دیتا ہے۔جو محال ہے۔
نیز اگر حصول معرفت سے ان کی مراد ’ رؤیت باری تعالی‘ نہیں ہے تو پھر جنت میں کون سی معرفت کا حصول ہے جو جنتیوں کو ’ رؤیت باری تعالی‘ سے زیادہ خوش کرے گی؟یا پھر دنیاوی معرفت الگ ہے اور جنت والی معرفت الگ؟
ایک اور جگہ موصوف لکھتے ہیں:
’’ یہ ایک عجیب المیہ ہے کہ پوری تاریخ میں صرف چند مخلص انسانوں کے سوا کوئی بھی شخص اللہ کی عظمت کو دریافت نہ کرسکا،
ایسا لگتا ہے موصوف دھیان نہیں دیتے ہیں کہ وہ کیا لکھ چکے ہیں اور کیا لکھ رہے ہیں،
اگر چند لوگوں سے مراد صرف انبیاء ورسل ہیں تو ان کے علاوہ بقیہ ’ اصحاب رسل،
خلاصہ یہ کہ جس قدر آپ اس کتاب ’ کتاب معرفت‘ کو پڑھتے جائیے اسی قدر الجھتے جائیے۔وہ اس وجہ سے کہ کتاب میں موصوف کا اسلوب کافی متضاد اور مبہم ہے نیز اس میں غیر واضح تعبیر کی کثرت ہے،






