رشتہ نکاح:
اللہ تعالی نے انسانوں کی پیدائش کے بعد ان کی تمام ضروریات کو بآسانی انھیں پہنچانے کا انتظام فرمایا،
قرآن کریم اور احادیث میں نکاح کی جانب ترغیب دی گئی اور اس کو ہر طرح کی پیچیدگی سے بچا کر آپسی سکون پیار ومحبت اور زندگی کی ضروریات کی تکمیل کا ذریعہ بنادیا گیا:
وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً_تمھاری ہی نسلوں سے تمھارے لیے جوڑا بنا کر ایک دوسرے کے سکون اور آپسی پیار و محبت پیدا کرنا اللہ کی نشانیوں میں اہم نشانی ہے۔(الروم:٢١) اور نکاح کو مطلوب و مسنون قرار دیتے ہوئے فرمایا:
فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ_ کہ پسند آنے والی خواتین سے نکاح کرو۔(النساء:٣)
اللہ تعالیٰ نے نکاح کو انبیاء اور رسولوں کا طریقہ قرار دیا اور فرمایا:
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّن قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّةً_ہم نے آپ سے رسول بھیجے اور ان کو بیوی بچوں سے نوازا (الرعد:٣٨) اور نکاح کی وجہ سے بننے والے رشتوں کو اپنے انعام و احسان کے طور پر بیان فرمایا:
وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْمَاءِ بَشَرًا فَجَعَلَهُ نَسَبًا وَصِهْرًا_ کہ اللہ ہی کی ذات نے پانی (انسانی نطفہ) سے انسانوں کو پیدا کیا اور انھیں دو طرح کے رشتوں نسبی اور سسرالی رشتے عطا فرمائے۔(الفرقان:٥٤) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نکاح کو خود اپنی سنت قرار دیا اور فرمایا: النِّكاحُ من سُنَّتي (ابن ماجة عن عائشة)
خواتین اور اسلام:
نکاح کا رشتہ مردوں اور عورتوں کے درمیان باہمی تعلقات کا رشتہ ہے جس میں دونوں کے حقوق اور ذمہ داریوں،
وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ_خواتین کے ساتھ اچھا سلوک و برتاؤ کرو (النساء:١٩) اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کے ساتھ اچھا اخلاق و کردار پیش کرنے کی تاکید اور وصیت فرمائی:
استوصُوا بالنِّساءِ خيرًا (البخارى عن أبى هريرة)
خواتین کی نرم طبیعت اور نازک مزاجی کو شیشوں سے تشبیہ دی اور شیشے کی طرح ان کی رعایت اور خبر گیری کا حکم اپنے آخری خطبہ حجۃ الوداع میں بھی دیا: رفقا بالقوارير (البخاري عن أنس بن مالك) اور فرمایا کہ خواتین کے سلسلہ میں اللہ سے ڈرو کیوں کہ تم نے اللہ تعالیٰ کی حفاظت اور امان کے تحت ان کو اختیار کیا اور اللہ کے نام سے ہی ان کی شرمگاہوں کو حلال اور جائز رشتہ میں بدلا:
اتَّقُوا اللَّهَ في النِّسَاءِ فَإِنَّكُمْ أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانِ اللَّهِ وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللَّهِ(مسلم عن جابر)
نکاح میں رائج غلط رسم و رواج:
نکاح کو انسانوں کی عمومی ضرورت اور نسل انسانی کی بقا و دوام کے پیش نظر شریعت میں آسان اور کم خرچ بنایا گیا۔اور لڑکی کے ولی و سرپرست،
لیکن اس اہم،
موجودہ تشویش ناک صورت حال سے بچنے کے لیے اس طرح کی تمام رسم و رواج اور بے جا پابندیوں سے مکمل اجتناب ضروری ہے۔اسی طرح بعض مطلوب چیزوں میں غلو اور حیثیت سے زیادہ مطالبہ بھی درست نہیں،
لڑکی والوں کی طرف سے زیادہ مہر كا مطالبہ،
جہیز كى برائياں:
لیکن زیادہ مہر یا جہیز کا مطالبہ سب سے زیادہ سنگین اور نقصان دہ بن کر سامنے آیا ہے جس کا سدباب فوری طور پر نہایت ضروری ہے،
اس طرح کے مسائل کو روکنا اور اس کے دیگر خطرناک اور تکلیف دہ نتائج سے بچنا اب پورے ملک،
اصلاح و تبدیلی کا مناسب اسلامی طریقہ:
اسلام میں برائیوں کو چھوڑ دینا ان سے اجتناب کرنا تو ضروری ہے،
لہذا اس سلسلے میں ابتدائی طور پر حضرت معاذ رضی اللہ تعالی عنہ کو یمن کی جانب بھیجتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح بتدریج پہلے توحید پھر نماز اور اس کے بعد زکوٰۃ کی طرف دعوت و تعلیم کا حکم دیا تھا اور فرمایا تھا:
فليكن أوَّلَ ما تَدْعُوهُمْ إلَيْهِ عِبَادَةُ اللَّهِ،
شراب خوری اور نشہ کو تمام برائیوں کی جڑ اور "أم الخبائث" قرار دیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود بھی اس کو تین مرحلوں میں حرام کیا گیا۔پہلے مرحلہ میں اس کو بڑا گناہ اور چند خوبیوں کاحامل قرار دے کر اس کے نقصانات اور گناہ کو زیادہ خطرناک بتایا گیا:
يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ ۖ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِن نَّفْعِهِمَا(البقرة:٢١٩) دوسرے مرحلہ میں نشہ کی حالت میں نماز سے دور رکھ کر پانچ اوقات کی پابندی لگا دی گئی:
یا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنتُمْ سُكَارَىٰ (النساء:٤٣) اور آخری مرحلہ میں پورے طور پر اس کوچھوڑ دینے کا حکم دیا گیا:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (المائدة:٩٠)
جہیز اور نکاح کے دوسرے رسم و رواج کا خاتمہ بھی ایک صالح سماج کی تشکیل کے لیے نہایت ضروری ہے لہذا آیئے اس کو بھی بتدریج لیکن مضبوطی اور پورے عزم کے ساتھ ختم کرنے کا فیصلہ کریں اور پہلے مرحلہ میں درج ذیل لوگوں سے مکمل طور پر دوری اختیار کرلیں:
١-جہیز کا مطالبہ کرنے والوں
٢-منع کرنے کے باوجود جہیز دینے والوں
٣-مجبوری میں جہیز دینے کی صورت میں اس کی نمائش کرنے والوں
٤-اصلاح معاشرہ اور اس کی دعوت و تبلیغ کرنے والے اداروں کے ذمہ داروں اور اس سے متعلق جہیز لینے والے افراد
کی شادیوں میں ہر گز نہ جائیں اور اس سے مکمل دوری بنالیں۔






