علامہ ابن المنذر رحمہ اللہ کے علوم ومعارف اورعلمی تراث کے متخصص،
نام ونسب:
ابوحماد صغیر احمد بن محمد حنیف سلیمان انصاری مدنی شنکر نگری
تاریخ پیدائش:
ولادت ۲۱؍ اپریل ۱۹۴۹ء کو آبائی وطن شنکر نگر ضلع گونڈہ (حال بلرامپور) میں ہوئی۔
تعلیمی مراحل:
ابتدائی اور پرائمری تعلیم جامعہ محمدیہ نصرۃ الاسلام شنکر نگر
عربی متوسطہ جامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈا نگر نیپال
ثانویہ یعنی جماعت رابعہ تک معروف درسگاہ جامعہ رحمانیہ بنارس
عالمیت وفضیلت مرکزی درسگاہ جامعہ سلفیہ بنارس اور یہیں سے۱۳۹۰ھ/۱۹۷۰ء میں فضیلت کی سند لے کر فارغ التحصیل ہوئے۔
فراغت کے چند سال بعد جامعہ اسلامیہ مدینہ سے داخلے کی منظوری مل گئی اورپھر وہاں حاضری دے کر لیسانس(۱۳۹۶ھ)،
اسی طرح دوران تعلیم منشی،
مشاہیر اساتذۂ کرام:
اساتذہ کی فہرست میں:
قاری عبد الجلیل صاحب شنکر نگری
ماسٹر عبد القادر صاحب شنکرنگری
ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری
مولانا عبد الرؤف رحمانی جھنڈانگری
مولانا محمد عابد رحمانی
مولانا عبد الوحید رحمانی
مولانا عبد الوحید سلفی
مولانا شمس الحق سلفی
مولانا ابوعبیدہ عبدالمعید بنارسی
مولانا ادریس آزاد رحمانی
اسی طرح عرب علماء میں:
محدث زماں شیخ ناصر الدین البانی
مفتئ اعظم شیخ ابن باز
شیخ محمد امین شنقیطی
محدث مدینہ شیخ حماد انصاری-رحمھم اللہ اجمعین-وغیرھم کثیر کےنام گرامی شامل ہیں۔
مشاہیر رفقاء درس:
حکیم مولانا شکر اللہ سلفی جھنڈانگر
مولانا محمد الیاس سلفی لچھمی نگر
مولانا محمد عیسی شنکرنگری لکھنؤ
مولانا عزیزالرحمن سلفی (ٹکریا)
مولانا عبدالوھاب حجازی (ڈومریاگنج)
مولانا محمد مسلم (اونرہوا)
مولانا محمد حسان سلفی( پریوا،
تدریسی خدمات:
فراغت کے بعد ان کی علمی صلاحیتوں کی وجہ سے جامعہ رحمانیہ بنارس میں تقرری ہوگئی،
جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں ان کو تدریس کابھی شرف ملا۔یہاں کلیۃ الشريعہ میں ربیع الاول۱۴۰۱ ھ سے لے کر شعبان۱۴۰۳ھ تک استاذ معید کی حیثیت سے منسلک رہے اور شعبہ مخطوطات میں بھی کام کرتے رہے۔
کچھ سالوں تک فجیرہ اور ام القوین کے اسلامک دعوہ سنٹر میں بطورداعی اوررہبر کام کرتے رہے۔
۱۴۱۱تا ۱۴۲۹ھ جامعۃ الامام محمد بن سعودالاسلامیہ کے تابع راس الخیمہ میں واقع کلیة الشریعہ واللغہ العربیہ میں بحیثیت استاذ مساعدخدمات انجام دیں۔
۲۰۰۰ء سے لے کر۲۰۰۶ءتک جامعہ عجمان براے سائنس و ٹکنالوجی میں استاذ مساعد کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔
۱۴۲۷ھ سے لے کر۱۴۲۸ھ تک جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ ریاض کے کلیہ اصول الدین میں استاذ مساعد اوراس کے بعد کلیۃ الشریعہ میں۱۴۲۹ھ سے۱۴۳۵ھ تک استاذ مشارک اور۱۴۳۶ھ سے۱۴۳۸ھ تک بحیثیت استاذ خدمات انجام دیں۔
مشاہیر تلامذہ:
یوں تو عرب وعجم میں تدریس کی وجہ سے ان کے شاگردوں کی تعداد بے شمار ہے۔سردست معروف عالم دین مولانا عبداللہ مدنی جھنڈانگری رحمہ اللہ اوراسی طرح شیخ یاسین احمد بن ادریس مدنی کا تذکرہ ملتا ہے۔
تصنیفی خدمات:
شیخ محترم دیگر علوم وفنون کے ساتھ علامہ ابن منذر رحمہ اللہ (متوفی۳۱۸ھ) کی کتابوں کے محقق،
۱۔الاجماع لابن منذر
۲۔الاقناع لابن منذر (دوجلدیں)
۳۔الاشراف علی مذاھب الفقھاء لابن منذر (دس جلدیں)
۴۔الاوسط لابن منذر(بارہ جلدیں)
اس کے علاوہ:
۵۔نظام الأسرة في ضوء الكتاب والسنة
۶۔العزة لله و لرسولہ و للمؤمنین
۷۔الجهاد في سبيل الله ( غير مطبوع)
۸۔مفتاح كنوز الحديث والفقہ (غير مطبوع)
۹۔متعدد بحوث و مقالات جو عربی اور اردو میں ملک وبیرون ملک جرائد ورسائل میں شائع ہوئے۔
مکتبۃ الثقافہ:
ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ نے علمی کاموں کی تحقیق واشاعت کے لیے مکتبہ الثقافۃ کے نام سے ایک لائبریری بھی قائم کی تھی۔جس میں دیگرمفید کتابوں کے ساتھ عربی مؤلفات وافر مقدار میں موجود ہیں۔اسی ادارے سےعلامہ ابن المنذر کی کتابیں ودیگر تالیفات بھی شائع کیا کرتے تھے۔اور متعدد علمی کتب اورفقہی رسائل وبحوث کی تیاری واشاعت کا بھی پروگرام تھا۔اللہ کرے یہ سارے منصوبے ان کے وارثین وا خلاف مکمل کرسکیں۔
شادی واولاد:
ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ کا ایک بھراپرا خاندان ہے،
وفات:
ڈاکٹر صاحب گردے کی خرابی سے بھی جوجھ رہے تھے۔ابھی کچھ دنوں قبل ہی امارات سے وطن لوٹے تھے اورلکھنو کے ایک ہسپتال میں زیر علاج تھے،
مراجع ومصادر:
ریکارڈ مرکز تاریخ اہل حدیث،
استفسار از حکیم شکر اللہ سلفی جھنڈانگر
مضمون عزیز قدر مولوی مسعود عبدالغفار شنکر نگری






