مکر کا معنی ومفہوم:
علامہ سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
المكْر: ما يَقْصد فَاعله في بَاطِنه خلاف ما يَقْتَضِيه ظَاهره (معجم مقاليد العلوم في الحدود والرسوم:۲۰۷) مکر یہ ہے کہ مکر کار اپنے باطن میں اپنے ظاہر کے برخلاف قصد کرے۔
علامہ جرجانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هو إيصال المكْروه إلى الإنسان مِن حيث لا يشعر (التعريفات:۲۲۷)کسی انسان کے ساتھ اس طور پر بدخواہانہ اور فریب کارانہ معاملہ کرنا کہ وہ سمجھ نہ سکے۔
علماے دین نے مکر کی دو قسمیں بیان کی ہیں،
عُدَّ هذا كبيرةً،
ذیل میں مکرمذموم سے بچنے کے چند شرعی طریقے معرض تحریر میں لانے کی کوشش کی گئی ہے۔
صبروتقوی:
بدخواہ کی بدخواہی اور مکار کی مکاری سے بچنے کا سب سے پہلا طریقہ یہ ہے کہ انسان ہرحال میں صبروتقوی کا جامہ زیب تن کرکے رہے،
إِن تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ وَإِن تُصِبْكُمْ سَيِّئَةٌ يَفْرَحُواْ بِهَا وَإِن تَصْبِرُواْ وَتَتَّقُواْ لاَ يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا إِنَّ اللّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌ(آل عمران:۱۲۰) تمھیں اگر بھلائی ملے تو یہ ناخوش ہوتے ہیں،
حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ نے اس آیت کے تحت لکھا ہے:
’’ گویا منافقین اور دیگراعداے دین ومسلمین کی سازشوں سے بچنے کے لیے صبراور تقوی نہایت ضروری ہے۔اس صبروتقوی کے فقدان نے غیرمسلموں کی سازشوں کو کامیاب بنا رکھا ہے۔لوگ سمجھتے ہیں کہ کافروں کی یہ کامیابی مادی اسباب ووسائل کی فراوانی اور سائنس وٹیکنالوجی میں ان کی ترقی کا نتیجہ ہے۔حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی پستی وزوال کا اصل سبب یہی ہے کہ وہ اپنے دین پر استقامت(جوصبرکامتقاضی ہے) سے محروم اور تقوی سے عاری ہوگئے ہیں،
اللہ تعالی کی عطاکردہ نعمتوں کوحاسدین کی نگاہوں سے مخفی رکھنے کی حتی الامکان کوشش کرنا:
جب حضرت یوسف علیہ السلام نےاپنے باپ حضرت یعقوب علیہ السلام کے سامنے اپنے لیے گیارہ ستاروں کی سجدہ ریزی کا خواب بیان کیا اور خواب سن کرانھوں نےیہ اندازہ لگا لیا کہ ان کے اس بیٹے کو اللہ تعالی بلند مقام عطا کرےگا،
قَالَ يَا بُنَيَّ لاَ تَقْصُصْ رُؤْيَاكَ عَلَى إِخْوَتِكَ فَيَكِيدُواْ لَكَ كَيْدًا إِنَّ الشَّيْطَانَ لِلإِنسَانِ عَدُوٌّ مُّبِينٌ(يوسف:۵)یعقوب نے کہا پیارے بچے! اپنے اس خواب کا ذکر اپنے بھائیوں سے نہ کرنا،
اس آیت کے تحت علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’الإكليل‘ميں علامہ إلکیا ہراسی رحمہ اللہ کایہ قول نقل کیا ہے:
يدُلُّ على جوازِ تَركِ إظهارِ النِّعمةِ لِمَن يُخشَى منه حَسَدٌ ومَكرٌ(الإكليل للسيوطي ص:۱۳۰) جس سے مکروحسد کا اندیشہ ہو اس کے سامنے اظہار نعمت نہ کرنے کے جواز پر یہ آیت دلالت کناں ہے۔
اللہ تعالی کی جناب میں پناہ طلب کرنا اوراس کے سامنے صدق واخلاص کے ساتھ دست دعا دراز کرنا:
ایک مومن کے لیے دعا بھی ایک مضبوط ہتھیار ہے۔عزیز مصر کی بیوی نے جب حضرت یوسف علیہ السلام کو دعوتِ گناہ دی،
قَالَ رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا يَدْعُونَنِي إِلَيْهِ وَإِلاَّ تَصْرِفْ عَنِّي كَيْدَهُنَّ أَصْبُ إِلَيْهِنَّ وَأَكُن مِّنَ الْجَاهِلِينَ فَاسْتَجَابَ لَهُ رَبُّهُ فَصَرَفَ عَنْهُ كَيْدَهُنَّ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (يوسف:۳۳-۳۴)یوسف نے دعا کی اے میرے پروردگار! جس بات کی طرف یہ عورتیں مجھے بلارہی ہیں اس سے مجھے جیل خانہ بہت پسند ہے،
اللہ تعالی پر توکل:
حضرت ہود علیہ السلام نےجب اپنی قوم کو دعوت توحید دی،
إِن نَّقُولُ إِلاَّ اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوَءٍ قَالَ إِنِّي أُشْهِدُ اللّه وَاشْهَدُواْ أَنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ مِن دُونِهِ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لاَ تُنظِرُونِ إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّهِ رَبِّي وَرَبِّكُم مَّا مِن دَآبَّةٍ إِلاَّ هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ (هود:۵۴-۵۶)بلکہ ہم تو یہی کہتے ہیں کہ تو ہمارے کسی معبود کے برے جھپٹے میں آگیا ہے۔اس نے جواب دیا کہ میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں تو اللہ کے سوا ان سب سے بیزار ہوں،
اللہ تعالی ہمیں اپنے حفظ وامان میں رکھے اور بدخواہوں کے مکروفریب سے بچائے۔آمین






