الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ وسلم تسلیما کثیرا،
تکفیر کی تعریف:
تکفیر لغت میں کفر سے مشتق ہے اور کفر کسی چیز کو ڈھانپنے اور چھپانے کو کہتے ہیں۔
ابن فارس کہتے ہیں:
الكاف والفاء والراء أصل صحيح يدل على معنى واحد،
امام ابن اثیر کہتے ہیں:
أصل الكفر: تغطية الشيء تغطية تستهلكه(النہایۃ،
کفر کی شرعی تعریف:
کفر کی تعریف میں علماء کے متعدد اقوال ہیں اور ان سب کا مدار دومعانی پر ہے:
پہلا: ایمان کی ضد،
پہلا معنی امام لیث نے بیان کیا ہے جسے زہری نے ان سے نقل کیا ہے،
الكفر: نقيض الإيمان آمنا بالله وكفرنا بالطاغوت (تہذیب اللغۃ: ۴/۳۱۶۰)
دوسرے معنی کی طرف امام ابن قیم رحمہ اللہ نے اشارہ کیا ہے،
الكفر جحد ما علم أن الرسول جاء به،
اسی معنی کی طرف امام راغب اصفہانی،
لغوی اور شرعی معنی میں وجہ اتفاق یہ ہے کہ کفر لغت میں ڈھانپنے اور چھپانے کو کہتے ہیں اور شرعی طور پر کفر کا اطلاق یا تو ایمان کی ضد پر ہوتا ہے یا نبی ﷺ کے لائے ہوئے احکامات کے یا ان میں سے بعض کے انکار پر،
کفر کی قسمیں:
پہلی بات تو ہمیں یہ سمجھنی ہوگی کہ قرآن وسنت کے نصوص کو کسی خاص واقعہ یاحالت یا جگہ پر فٹ کرنا کسی عام انسان کا کام نہیں اور نہ ہی کسی خاص عالم کی خاص رائے ہی کا اس میں کوئی دخل ہے بلکہ اس کام کے لیے علماء راسخین فی العلم کی ایک جماعت کا متفقہ قرار ہونا ضروری ہے۔یا کسی ایک عالم کی اگر رائے ہے تو اس پر ویسے ہی کبار علماء کا اس فیصلہ سے متفق ہونا بھی ضروری ہے۔یا یہ کہ ولی امر کا فیصلہ ہو،
دوسری بات: کفر کے بھی ویسے ہی درجات ہیں جیسے ایمان کے درجات ہیں،
کفر کی عموما علماء نے دو قسمیں کی ہیں:
کفر اکبر (اسلام سے خارج کرنے والے)،
إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَغۡفِرُ أَن يُشۡرَكَ بِهِۦ وَيَغۡفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَآءُ(النساء:۴۸)
کفر اصغر (اسلام سے خارج کرنے والے نہیں) اس کی دلیل اللہ کے نبی ﷺ کا فرمان:
سباب المسلم فسوق وقتاله كفر (بخاری)
ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ولم يرد حقيقة الكفر التي هي الخروج عن الملة بل أطلق عليه الكفر مبالغة في التحذير (فتح الباری: ۱/۱۱۳)
امام بخاری رحمہ اللہ نے باب باندھا ہے:
باب: المعاصي من أمر الجاهلية،
اس کا ماحصل یہ ہے کہ جب اس سے پہلے یہ باب باندھا کہ گناہوں پر کفر کے لفظ کا اطلاق ہوتا ہے،
تکفیری فکر کے اسباب:
تکفیری فکر کے اسباب یعنی یہ فکر انسان کے اندر کیوں پیدا ہوتی ہے،
(۱) دینی احکام وقوانین سے لا علمی اور جہالت،
اسی لیے امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ بکری پر رد کے سیاق میں فرماتے ہیں:
وهذه الطريقة التي سلكها هذا وأمثاله هي طريقة أهل البدع؛
(۲)نفسانی خواہشات کی پیروی،
وَمَنۡ أَضَلُّ مِمَّنِ ٱتَّبَعَ هَوَىٰهُ بِغَيۡرِ هُدٗى مِّنَ ٱللَّهِ(القصص:۵۰)،
(۳)کتاب وسنت کے نصوص کی غلط تاویل اور اس کو سلف صالحین کی فہم سے الگ کر کے سمجھنا،
ما أخاف على هذه الأمة من مؤمن ينهاه إيمانه ولا من فاسق بين فسقه،
خوارج کے فتنہ کے ضمن میں اسی کی طرف امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بھی اشارہ کیا ہے،
إنما تأولوا آيات من القرآن على ما اعتقدوه،
(۴)شیطان کا دھوکہ اور تلبیس،
بؤسا لكم،
(۵) کفر اکبر اور کفر اصغر میں تفریق نہ کرنا اور ان دونوں میں حد فاصل کا علم نہ ہونا۔
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
التكفير نوعان: أحدهما: كفر النعمة. والثاني: الكفر بالله. والكفر الذي هو ضد الشكر: إنما هو كفر النعمة لا الكفر بالله. فإذا زال الشكر خلفه كفر النعمة لا الكفر بالله(مجموع فتاوی: ۱۱/۱۳۷۔۱۳۸)
(۶)شہر،
اس کی دلیل نبی کریم ﷺ کی یہ حدیث ہے:
إن الله لا يقبض العلم انتزاعا ينتزعه من العباد،
مسلمان حکمراں علماء کی کیسی توقیر کرتے تھے اس کے ذکر سے تاریخ ورجال کی کتب بھری پڑی ہیں ہم یہاں صرف ایک واقعہ ذکر کرتے ہیں:
وعن سفيان الثوري رضي الله عنه قال أدخلت على أبي جعفر المنصور بمنى فقال لي ارفع إلينا حاجتك فقلت له اتق الله فقد ملأت الأرض ظلماً وجوراً،
(۷) اصول دین اور منہج استدلال سے عدم واقفیت،
اسی کو امام شاطبی رحمہ اللہ نے بیان کرتے ہوئے فرمایا:
وهو الجهل بمقاصد الشريعة،
(۸) جاہلوں کو اپنا پیشوا اور امام بنانا اور ان کی اقتدا کرنا۔
اس کی دلیل نبی کریم ﷺ کی یہ حدیث ہے:
إن الله لا يقبض العلم انتزاعا ينتزعه من العباد،
یہ وہ چند بنیادی اسباب ہیں جن کی وجہ سے یہ فکر انسان کے اندر پیدا ہوتی ہے اور انسان ایک کلمہ گو کی تکفیر وتبدیع کرنے کے درپے ہوتا ہے۔
اس فکر کے مفاسد اور نقصانات:
اس فکر کے نہایت ہی بدترین اثرات رونما ہوتے ہیں،
اس فکر کے غلط اثرات ہر اس انسان پر پڑتے ہیں جس کے پاس قلب سلیم ہو،
اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جس کی تکفیر کی گئی اس کے رشتہ دار معاشرہ سے متنفر ہوجائیں گے،
یہ اور اس طرح کے بے شمار نقصانات اس فکر کی وجہ سے پیدا ہوں گے،
آج اپنے معاشرہ پرنظر ڈالو تو یہ اندازہ ہوگا کہ جس قدر فتنہ مصائب وآلام ہیں ان میں سے اکثر کی وجہ یہی تکفیری فکر اور اس کے حاملین کا طریقہ کار ہے۔اپنے ارد گرد کے ماحول پر نظر رکھنے والا شخص اس چیز سے بخوبی واقف ہے کہ اس فکر کی وجہ سے کتنے ناحق مسلمانوں کا خون بہہ رہا ہے مسلمان ہی کیا انسانوں کا خون بہہ رہاہے۔
افسوس تب زیادہ ہوتا ہے کہ ایک شخص جسے اللہ نے ابھی ابھی ایمان کی دولت سے مالا مال کیا ہوتا ہے یا اس پر حق کی راہ کھلنا شروع ہوئی ہے اور اس کے اندر نصوص شریعت کو ان کے مظان سے حاصل کر کے سمجھنے کی صلاحیت بھی نہیں ہوتی کہ اردو یا انگلش یا مختلف زبانوں کے ترجمے اور ذاتی سمجھ کی بنیاد پر علماء امت کی،
اب ہمارا کام یہ ہے کہ ہم کتاب وسنت کی طرف لوٹیں اور اس کی سچی تعلیمات سے اپنے آپ کو مزین کریں اور کتاب وسنت کے نصوص کو راسخین علماء سے پڑھیں اور ان کے مفہوم کو جیسے وہ بیان کریں ہم ویسے ہی سمجھنے کی کوشش کریں اور جہاں نہ سمجھ آئے بار بار ان سے رجوع کریں جلد بازی سے دور رہیں،
خود كو اور طلاب علم کو ایک نصیحت:
عموما دیکھنے میں آتا ہے کہ طلاب علم اپنے مشایخ یا رفقاء کار میں سے کسی کی تعریف کرتے ہیں یا توثیق کرتے ہیں تو اس کے علاوہ تمام لوگوں کی تجریح کر دیتے ہیں،
مثال کے طور پر ہمارا یہ کہنا کہ فلاں اپنی زبان کی بہت حفاظت کرتا ہے ہمارے شہر کا دوسرا کوئی عالم ایسا نہیں ہے،
۱۔آپ نے تمام لوگوں کے ساتھ جب تعامل نہیں کیا ویسا جیسا اس کے ساتھ آپ کا تعامل ہے جس کی آپ توثیق کر رہے ہیں تو آپ کو دوسروں پر حکم لگانے کا حق کس نے دیا۔
۲۔اس قول میں علماء کی تنقیص ہے۔
۳۔عوام کے ذہن میں علماء کی عزت گھٹانے کا باعث ہے۔
۴۔لوگوں میں نفرت پھیلانے کا سبب ہے۔
۵۔ہوسکتا ہے کہ جس کی آپ توثیق کر رہے ہیں اللہ کی نظر میں اس کا مقام جس کی آپ تجریح کر رہے ہیں اس سے کم ہو،
لہذا ایسے کاموں سے دور رہیں جس میں اتنی ساری خرابیاں ایک ساتھ موجود ہوں۔
اللہ تعالی ہمیں صحیح سمجھ عطا کرے،
وصلی الله علی نبینا محمد وعلی آله وصحبه وسلم






