تغسیل و تکفین اور صلاۃ وتدفین میت کے واجبی حقوق ہیں،
أَسْرِعُوا بِالْجِنَازَةِ،
البتہ یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص دن کے آخری حصے میں فوت ہو،
جواب: اس سلسلے میں فقہائے کرام کے یہاں اختلاف پایا جاتا ہے،
۱۔رات میں مردے کو دفن کرنا درست اور جائز نہیں ہے۔
دلیل:
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تَدْفِنُوا مَوْتَاكُمْ بِاللَّيْلِ إِلَّا أَنْ تُضْطَرُّوا (سنن ابن ماجہ:۱۵۲۱)تم اپنے مردوں کو رات میں دفن نہ کرو،
وجہ استدلال:
اس حدیث میں ’’ لا تَدْفِنُوا‘‘ نہی کا صیغہ ہے جو کہ حرمت پر دلالت کرتا ہے۔
جابر رضی اللہ عنہ ہی سے دوسری جگہ یہ روایت تفصیلا آئی ہے کہ:
أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ يَوْمًا،
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مردے کو رات میں دفن کرنا درست نہیں ہے الا کہ کوئی مجبوری ہو۔
۲۔رات میں مردے کو دفن کرنا مکروہ ہے۔
دلیل:
اس کی دلیل بھی وہی حدیث ہے جو پہلے قول کی دلیل ہے لیکن چونکہ رات میں مردے کو دفن کرنے کے جواز پر احادیث موجود ہیں اس لیے اس قول کے قائلین نے پہلی حدیث کے نہی کو تحریم کے بجائے کراہت پر محمول کیا ہے۔
۳۔رات میں مردے کو دفن کرنا جائز اور درست ہے۔
اور یہی راجح اور درست ہے۔
اس کے دلائل درج ذیل ہیں:
(۱)ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں:
مَاتَ إِنْسَانٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ،
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے اگر کوئی شخص رات کو مر جائے اور رات ہی کو اس کی تجہیز وتکفین اور نماز جنازہ ہو سکے تو دن کا انتظار نہ کر کے رات ہی میں دفن کر دینا جائز اور درست ہے۔کیونکہ اگر یہ حرام یا مکروہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ ہرگز نہیں کہتے کہ:’’ مجھے آپ لوگوں نے بتایا کیوں نہیں‘‘ بلکہ اس پر تنبیہ فرماتے۔
(۲)اسی طرح کا واقعہ اس عورت کے ساتھ پیش آیا تھا جو مسجد میں جھاڑو دیتی تھی کہ جب رات میں اس کا انتقال ہوا تو صحابہ کرام نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دیے بغیر اسے رات ہی میں دفن کر دیا،
(۳)ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ:
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدْخَلَ رَجُلًا قَبْرَهُ لَيْلًا،
(۴)عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ:
ثَلَاثُ سَاعَاتٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَانَا أَنْ نُصَلِّيَ فِيهِنَّ،
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ تینوں اوقات کے علاوہ دن رات کے کسی بھی وقت میں مردے کو دفن کر سکتے ہیں۔
(۵)عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:
مَا عَلِمْنَا بِدَفْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَمِعْنَا صَوْتَ الْمَسَاحِي مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ لَيْلَةَ الْأَرْبِعَاءِ (احمد:۴۳/۱۸۲ برقم:۲۶۰۴۹،
امام طحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وهَذا بِحَضْرَةِ أصْحابِ رَسُولِ اللهِ ﷺ لا يُنْكِرُهُ أحَدٌ مِنهُمْ. فَدَلَّ ذَلِكَ عَلى أنَّ ما كانَ مِن نَهْيِ النَّبِيِّ ﷺ عَنِ الدَّفْنِ لَيْلًا إنَّما كانَ لِعارِضٍ،
(۶)حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو بھی رات کے وقت دفن کیا گیا۔(أخرجه البخاري تعليقا ( قبل الحديث:۱۳۴۰)
نیز عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:
۔۔۔فَلَمْ يُتَوَفَّ حَتَّى أَمْسَى مِنْ لَيْلَةِ الثُّلَاثَاءِ،
(۷)حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو عشاء کے بعد بقیع میں دفن کیا گیا۔(أخرجه ابن أبي شيبة:۳/۲۲۷،
(۸)حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو رات میں دفن کیا گیا۔( أخرجه ابن سعد في الطبقات:۸/۷۸ بسند صحيح،
(۹)حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے رات میں دفن کیا۔(ما صح من آثار الصحابة في الفقه:۲/۵۸۲،
(۱۰)ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو رات میں دفن کیا گیا۔(أخرجه ابن أبي شيبة:۳/۲۲۷،
رہی بات ابن ماجہ اور مسلم وغیرہ کے حدیث کی جس میں رات کے وقت مردے کو دفن کرنے سے منع کیا گیا ہے تو وہ مطلق نہیں ہے بلکہ وہ دو علتوں سے معلل ہے۔
۱۔جب اسے رات میں اچھے طریقے سے کفنانے کا انتظام نہ ہو سکے۔وہ اس طور سے کہ رات کی وجہ سے بہترین کفن نہ مل رہا ہو۔
جیسا کہ اسی حدیث میں مذکور ہے:
فَكُفِّنَ فِي كَفَنٍ غَيْرِ طَائِلٍ یعنی: اسے معمولی (کپڑے) میں کفنایا گیا تھا۔
۲۔اس پر افضل اور احسن طریقے سے نماز پڑھنے کی گنجائش نہ ہو۔چاہے وہ نماز پڑھنے والوں کی قلت کی وجہ سے یا رات کی تاریکی کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے۔
جیسا کہ اسی حدیث میں ہے:
فَزَجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْبَرَ الرَّجُلُ بِاللَّيْلِ حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهِ یعنی: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈانٹا کہ کسی بھی آدمی کو رات میں دفن کیا جائے الا یہ کہ اس کی نماز جنازہ ادا کر لی جائے۔
اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ دن میں بغیر نماز پڑھے دفنایا جا سکتا ہے بلکہ معنی ہے کہ اچھے طریقے سے نماز پڑھ لی جائے۔
یعنی: اگر اچھے طریقے سے نماز پڑھنا ممکن ہو تو رات میں دفن کر دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔( فتح ذي الجلال والإكرام بشرح بلوغ المرام:۲/۶۲۲ ملخصا)
خلاصہ کلام یہ کہ اگر رات میں میت کو غسل دینے یا کفنانے یا اس پر نماز جنازہ پڑھنے اور دفنانے میں کسی کمی کا خدشہ نہ ہو تو رات میں میت کو دفن کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
جیسا کہ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مناسب قول یہ ہے کہ اگر رات میں میت کو دفن کرنے کی وجہ سے اس کے حقوق میں سے کسی حق کے فوت ہونے اور صلاۃ جنازہ میں کسی کمی کا خدشہ نہ ہو تو پھر کوئی حرج نہیں ہے جیسا کہ احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں۔اور اگر کسی حق کے فوت ہونے یا نماز میں کمی کا خدشہ ہو تو ایسی صورت میں ممنوع ہے۔( عون المعبود وحاشية ابن القيم:۸/۳۰۹،






