سیدھا رستہ ایک ہے،
چورن بیچنے والے کا کاروبار خریدنے والے پر زیادہ منحصر ہوتا ہے اسی لیے جس سماج میں جتنی جہالت ہوتی ہے اتنی مقدار میں گولیاں بکتی ہیں۔ہمارے یہاں رہنما علم کی بنیاد پر کم تجدد،
زیر نظر مضمون اپنے موضوع پر اردو میں موجود کتابوں اور ان تمام تحریروں سے بہتر ہے جو میرے علم میں اب تک لکھی گئی ہیں۔زبان اور لہجے میں بلا کی ہمدردی ہے،
اس سرکل سے ہٹ کر جتنے لوگ مسئلے مسائل کا ڈھول بجاتے ہیں،
جو کم علم اچک اچک کر بات کرتے ہیں اور جو انھیں سن سن کر تالیاں بجاتے ہیں یہ مضمون صرف انھی کے لیے نہیں ہے،
اوریجنل اور ڈپلیکیٹ کا فرق انسانی فطرت میں شامل ہے۔چھوٹا سے چھوٹا سامان خریدتے وقت بھی اس فرق کو ہم مد نظر رکھتے ہیں۔ہر میدان میں ہمیں تلاش ہوتی ہے ایسے ماہر ومتخصص کی جو مطلوبہ کام بخوبی جانتا ہو۔اگر کسی نے ڈرائیونگ نہیں سیکھی ہے تو اس کی گاڑی میں بیٹھنا ہمیں گوارا نہیں گرچہ فری سروس ہو۔اگر کوئی اچانک نائی بن جائے اور ہمیں معلوم ہو کہ اسے بال بنانا نہیں آتا تو ہم اس کی خدمات لینے سے پہلے دس بار غور وفکر کرتے ہیں۔شریعت کی رہنمائی حاصل کرنے کا معاملہ اس سے جدا نہیں ہے،
هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ[الزمر:۹]
جس طرح بینا ونابینا،
فاسألوا أَهْلَ الذكر إِن كُنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ [الأنبياء:۷]
(اگر تم نہیں جانتے تو علما سے پوچھ لو) ہر کسی سے نہیں۔
جس طرح ہر میدان میں بعض اناڑی پائے جاتے ہیں اسی طرح شرعی مسائل کی رہنمائی کے میدان میں بھی ان کی کمی نہیں ہے،
بردرس کا اطلاق ایسے حضرات پر کیا جاتا ہے جنھوں نے بہ تدریج کسی استاد سے (چاہے مدرسے میں ہو یا غیر مدرسے میں) کتاب وسنت کا علم حاصل نہ کیا ہو۔اور نہ معروف سلفی علما نے ان کے علم کی شہادت دی ہو۔شریعت کو اس کے اصل مصادر سے سمجھنے کی جن کی اہلیت نہیں۔کسی مسئلے کی تحقیق کے لیے کہا جائے تو اصل مصادر سے اسے حل کرنے کی استطاعت نہیں۔کیونکہ یہ صلاحیت واہلیت علوم اسلامیہ مثلا صرف،
اس لیے مدرسوں سے سند یافتہ شخص بھی عدم صلاحیت کی بنا پر برادر اور متعالم ہو سکتا ہے اور بغیر مدرسے میں داخلہ لیے علما کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرکے بھی کوئی عالم دین بن سکتا ہے،
ایسے نا اہل لوگوں کا حصول علم کے بجائے نشر علم کی طرف میلان گزشتہ چند سالوں سے کچھ زیادہ ہی بڑھ گیا ہے۔یہ الگ بات ہے کہ ایسے لوگ ہر زمانے میں موجود رہے ہیں اور سلف صالحین نے ان کی خوب نقاب کشائی کی ہے۔
یہ حضرات اپنے اس اقدام کے جواز میں بعض شرعی نصوص سے بھی استدلال کرتے ہیں،
بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً [صحیح بخاری: حدیث نمبر۳۴۶۱]
حالانکہ یہ حدیث ان کی تائید نہیں،
پہلی وجہ:
اس حدیث سے سلف صالحین نے وہ نہیں سمجھا ہے جو بردرس سمجھانا چاہتے ہیں۔اس حدیث سے سلف صالحین نے قطعا یہ نہیں سمجھا ہے کہ کوئی عام آدمی جس نے کسی استاد سے کتاب وسنت کا علم حاصل نہیں کیا ہے محض کتابوں کے ذاتی مطالعہ سے شرعی مسائل پر دوسروں کی رہنمائی کرے،
امام مسلم رحمہ اللہ ابو الزناد رحمہ اللہ-جو صغار تابعین میں سے ہیں-سے نقل کرتے ہیں:
أدركت بالمدينة مئة كلهم مأمون،
یعنی میں نے مدینہ میں ایسے سو لوگوں کو پایا جو–دین وامانت کے معاملے میں-بالکل مامون تھے،
”الکفایہ“(ص۱۶۲) میں ’’لَا يُؤْخَذُ عَنْهُمُ الْعِلْمُ،
امام مالک رحمہ اللہ ایسے لوگوں سے علم حاصل نہ کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ انھوں نے یہ علم علما سے نہیں سیکھا تھا،
سلیمان بن موسی-جو تابعین میں سے ہیں-فرماتے ہیں: ”کتابوں سے علم حاصل کرنے والوں سے علم نہ لو“۔[الکفایہ: ص۱۶۲]
اور ثور بن یزید-جو کبار اتباع تابعین میں سے ہیں-فرماتے تھے:
لا يفتي الناس صحفي ولا يقرئهم مصحفي [الکفایہ: ص۱۶۲]
(کتابوں سے علم حاصل کرنے والا لوگوں کو فتوے نہ دے اور نہ مصحف سے قرآن سیکھنے والا لوگوں کو قرآن پڑھائے)
یہی بات ابو زرعہ رازی رحمہ اللہ نے بھی کہی ہے۔[الفقیہ والمتفقہ للخطیب البغدادی:۲/۱۹۳]
اور عبد الرحمن بن یزید بن جابر-جو تبع تابعین میں سے ہیں-فرماتے ہیں:
«لا يؤخذ العلم إلا ممن شهد له بالطلب» [الكفايہ للخطیب البغدادی: ص۸۸]
(صرف ایسے شخص سے علم حاصل کیا جائےگا جس کے متعلق طلب علم کی شہادت دی گئی ہو)
اسی طرح کی بات مشہور تابعی عبد اللہ بن عون رحمہ اللہ نے بھی کہی ہے:
لَا نَكْتُبُ الْحَدِيثَ إِلَّا مِمَّنْ كَانَ عِنْدَنَا مَعْرُوفًا بِالطَّلَبِ [الكفايہ: ص۱۶۱]
اور خارجہ بن زید بن ثابت رحمہ اللہ فرماتے تھے:
خُذُوا الْعِلْمَ عَمَّنِ الْعِلْمُ بَيْشَكُهُ[الکفایہ: ص۱۶۱]
(ان سے علم حاصل کرو جن کا پیشہ علم ہو)
اور سعید بن عبد العزیز تنوخی-جو کبار اتباع تابعین میں سے ہیں-فرماتے ہیں:
كان يقال: لا تأخذوا القرآن من مصحفي،
یعنی ان کے زمانے میں کہا جاتا تھا کہ قرآن کی تعلیم ایسے شخص سے مت حاصل کرو جس نے اسے مصحف سے اخذ کیا ہے اور علم ایسے شخص سے نہ حاصل کرو جس نے اسے کتابوں سے حاصل کیا ہے۔
خطیب بغدادی رحمہ اللہ نے ”الجامع لاخلاق الراوی وآداب السامع“ (۱/۲۹۷-۳۰۰) میں بہت سارے ایسے بردرس کی مثالیں پیش کی ہیں جنھوں نے قرآن کسی استاد سے نہیں بلکہ مصحف سے پڑھنا سیکھا تھا،
اگر اس مسکین نے مصحف سے نہ سیکھ کر کسی استاد سے پڑھنا سیکھا ہوتا تو یہ نوبت نہ آتی۔
اسی طرح ایک بردر نے ﴿وَعِبَادُ الرَّحْمَنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا﴾ کو ﴿هُوِيًّا﴾ پڑھا۔
ایک نے ﴿وَمَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ﴾کو ﴿الْخَوَارِج مُكَلِّبِينَ﴾ پڑھا۔[دیکھیں: الجامع لاخلاق الراوی وآداب السامع للخطیب البغدادی:۱/۲۹۸]
اس طرح کی مثالیں بے شمار ہیں۔استاد کے بجائے مصحف سے قرآن سیکھنے والے بردرس کے احوال جاننا ہو تو ابو احمد العسکری (متوفی۳۸۲ھ) کی کتاب ”اخبار المصحفین“ کی طرف رجوع کریں۔
یہی حال آج کے بردرس کا ہے،
ان تمام نصوص سے بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ سلف صالحین نے اس حدیث کا وہ معنی بالکل نہیں سمجھا ہے جو بردرس سمجھانا چاہتے ہیں۔انھوں نے کبھی بھی اس سے استدلال کرتے ہوئے کسی عام شخص کو کتاب وسنت کا علم حاصل کرنے سے پہلے دعوت وتبلیغ کی اجازت نہیں دی ہے،
دوسری وجہ:
اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”بلغوا عنی“ کہا ہے۔یعنی داعی ایسی چیز کی تبلیغ کرے جو حقیقی معنوں میں ’’عن رسول اللہ‘‘ ہو۔اور اسے جاننے کے لیے کہ میں جس چیز کی تبلیغ کر رہا ہوں وہ حقیقت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت بھی ہے یا نہیں،
خوارج ومعتزلہ جیسے گمراہ فرقے بھی نصوص کتاب وسنت سے اپنے باطل افکار کی دلیل پیش کرتے ہیں،
اس سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ ہر داعی کو علوم اسلامیہ میں مہارت تامہ پیدا کرنے کے بعد بذات خود ہر ہر حدیث کی تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔یہ مقصد نہیں کہ ہر مسئلے کی خود سے تحقیق کریں تبھی وہ دعوتی کاز کر سکتے ہیں۔بلکہ مقصد یہ ہے کہ ان کے اندرصحیح وغلط کی تمییز کی صلاحیت ہو۔علمائے کرام علوم اسلامیہ سے آراستہ ہوتے ہیں جس سے وہ آسانی سے صحیح اور غلط کی تمییز کر سکتے ہیں،
ایسے حضرات کسی تحریر کو پڑھتے وقت اپنے عقل وقیاس سے فیصلہ کرتے ہیں کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط،
بلکہ اکثر یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ جس تحریر یا تقریر سے انھوں نے اپنا موقف تیار کیا ہے اسے صحیح طریقے سے سمجھا ہی نہیں،
اس کی ایک مثال پیش کرتا ہوں:
ایک برادر کی ایک کتاب نظر سے گزری،
میرا ان کے ساتھ مناقشہ ہوا،
میں نے ان سے کہا کہ آپ نے روایت کے آخر میں جو عربی عبارت نقل کی ہے اس میں خود اس محدث نے کیا کہا ہے؟ تو وہ بغلیں جھانکنے لگے،
میں نے کہا کہ میرے بھائی ان کے ترجمے میں عیب نہیں بلکہ آپ کے سمجھنے کا قصور ہے۔اگر آپ اسے سمجھ جاتے تو قطعا نقل ہی نہ کرتے اور جس طرح ترجمے میں وہ کلام نقل نہیں کیا ہے عربی عبارت میں بھی نقل نہ کرتے۔
اس واقعہ سے صرف اس بات کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ علوم اسلامیہ سے آراستہ علمائے کرام کا کسی کی تحقیق پڑھنا اور بردرس کا کسی کی تحقیق پڑھنا دونوں میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔
ایک داعی کے لیے بذات خود ہر ہر حدیث کی تحقیق کرنا گرچہ ضروری نہ ہو،
وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ [سورہ آل عمران:۱۰۴]
یہ خاص لوگ کون ہیں اس کا بیان اس آیت میں آیا ہے:
وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنْفِرُوا كَافَّةً فَلَوْلا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ [التوبة:۱۲۲]
انذار کا فریضہ ان پر ہے جو تفقہ فی الدین کی زینت سے مزین ہیں۔دعوت دین کا مکلف اللہ تعالی نے صرف انھیں بنایا ہے جنھوں نے کتاب وسنت کا علم حاصل کیا ہے،
ایک دوسری آیت میں اللہ رب العالمین نے اسے مزید واضح کرکے بیان کیا ہے:
قُلْ هذِهِ سَبِيلِي أَدْعُوا إِلَى اللَّهِ عَلى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي [يوسف:۱۰۸]
یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ دعوت دین کی بنیاد علم وبصیرت پر ہوگی جہالت وخواہشات نفس پر نہیں،
قُلْ إِنَّما حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَواحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْها وَما بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَأَنْ تُشْرِكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطاناً وَأَنْ تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
اس آیت میں گناہوں کو بتدریج بیان کیا گیا ہے،
إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ [فاطر:۲۸]
دعوت بردرس کی ظاہری چمک دمک سے مرعوب ہونے والوں کو یہ نصوص بار بار پڑھنے چاہئیں۔پھر فیصلہ کرنا چاہیے کہ ان کی دعوت امت کے لیے رحمت ہے یا زحمت۔
افسوس کہ بعض علما بھی ان کے ظاہری ٹیپ ٹاپ اور چکاچوندھ سے دھوکہ کھا جاتے ہیں اور یہ کہتے ہوئے سنے جاتے ہیں کہ ان کے خلاف کچھ کہنا مناسب نہیں۔بعض تو یہاں تک کہتے ہیں کہ بردرس بہت اچھا کام کررہے ہیں،
سلف صالحین کا منہج اس بارے میں کوئی مختلف فیہ یا ڈھکا چھپا منہج نہیں بلکہ دن کے اجالے کی طرح بالکل واضح اور روشن ہے جس کی ایک جھلک اوپر آپ کو مل چکی ہے۔
علامہ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
من أفتى الناس وليس بأهل للفتوى فهو آثم عاص،
یعنی جو فتوی دینے کی اہلیت نہیں رکھتےاس کے باوجود لوگوں کو فتوے دیتے ہیں وہ گنہگار اور نافرمان ہیں۔اور اولیائے امور (حکمراں،
علامہ ابن القیم رحمہ اللہ نے ”اعلام الموقعین“ (۶/۱۳۱) میں علامہ ابن الجوزی رحمہ اللہ کا ایک بہت ہی عمدہ قول نقل کیا ہے،
ويلزم ولي الأمر منعهم كما فعل بنو أمية،
ولی امر (یعنی حکمراں،
علامہ ابن الجوزی رحمہ اللہ کا یہ قول آب زر سے لکھنے کے قابل اور ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔
کیا سلف صالحین کے اس واضح موقف کے بعد بھی کوئی بردرس کی دعوت کو امت کے لیے رحمت کہہ سکتا ہے؟
ایک غلط فہمی کا ازالہ:
بہت سارے لوگوں کے یہاں ایک غلط فہمی یہ پائی جاتی ہے کہ وہ ہر شخص پر دین کی دعوت واجب سمجھتے ہیں۔اسے صرف اہل علم کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر فرد کی ذمہ داری تصور کرتے ہیں اور اس کے لیے بعض نصوصِ کتاب وسنت سے استدلال بھی کرتے ہیں۔مثلا:
مُرُوا أولاكمِ بالصلاةِ وهم أبناءُ سبعِ سِنينَ،
كُلُّكُمْ رَاعٍ،
مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ ...الحدیث [صحیح مسلم: حدیث نمبر۴۹] وغیرہ۔
ان نصوص کو سامنے رکھتے ہوئے سوال کرتے ہیں کہ کیا صرف وہی باپ اپنی اولاد کو نماز کا حکم دےگا جو عالم ہو یا یہ ہر ایک باپ کی ذمہ داری ہے؟
کیا صرف وہی شخص اپنے ماتحتوں کا مسئول ہوگا جو عالم ہو یا ہر ایک پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے؟
اگر کسی کے سامنے کوئی زنا کرے،
اس طرح کے متعدد سوالات کے ذریعہ وہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ہر شخص دین کا داعی ہے اور ہر ایک کو اپنے اپنے حساب سے دعوت کا کام کرنا ضروری ہے۔
بظاہر ان سوالات سے کسی کو بھی لگ سکتا ہے کہ بات تو صحیح ہی کہی جا رہی ہے،
حالانکہ یہ ایک غلط فہمی ہے جو شرعی مسائل کے مابین فرق مراتب کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے در آئی ہے۔سب سے پہلے ہمیں یہ ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ دین کے تمام مسائل یکساں نہیں ہیں۔اور نہ انھیں سیکھنے کا حکم ہر ایک کے لیے یکساں ہے۔اللہ تعالی نے ہر ایک کو اپنے اپنے علم کے مطابق مکلف بنایا ہے۔اور دینی مسائل کے سیکھنے کا بھی یہی حکم ہے۔بعض مسائل ایسے ہیں جنھیں ”معلوم من الدین بالضرورۃ“ کہا جاتا ہے۔ان کا سیکھنا اور جاننا ہر ایک مسلمان پر فرض ہے۔مثلا وضو،
ایک باپ پر واجب ہے کہ اپنے گھر میں منکرات کو جگہ نہ دے۔اس انکار کے لیے اس کا عالم ہونا ضروری نہیں ہے۔یا وہ یہ کہہ کر سبکدوش نہیں ہو سکتا کہ میں عالم نہیں ہوں اس لیے اپنے گھر میں ان منکرات سے کسی کو نہیں روک سکتا۔
یقینا شریعت نے ہر ایک شخص پر چاہے وہ عالم ہو جاہل اس طرح کی بعض ذمہ داریاں عائد کی ہیں،
اپنے گھر میں،
علامہ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”میں نے شیخ الاسلام ابن تیمیہ-رحمہ اللہ-کو فرماتے ہوئے سنا: جس طرح لوگوں میں سب سے بہتر انبیا ہیں،
اسی طرح انبیا کے بعد لوگوں میں سب سے بہتر علما،
شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی بات صد فیصد درست ہے۔جب بردرس لوگوں کے سامنے عالم بن کر ظاہر ہوتے ہیں تو لوگ ان سے دھوکہ کھا جاتے ہیں اور شرعی مسائل کے متعلق سوال بھی کرتے ہیں۔چونکہ ان کے پاس شریعت کا علم نہیں ہوتا اس لیے بلا علم ہی فتوے دیتے ہیں،
إن الله لا يقبض العلم انتزاعا ينتزعه من العباد،
(اللہ تعالی بندوں سے علم کو چھین کر نہیں اٹھا لےگا،
غور فرمائیں! یہاں سائل ومسؤول دونوں جاہل ہیں۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب دونوں جاہل ہیں تو ایک جاہل دوسرے جاہل سے اپنے دینی مسائل کا حل تلاشنے ہی کیوں جاتا ہے؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ گرچہ جہالت میں دونوں مبتلا ہیں لیکن ایک نے علما کا بھیس اختیار کیا ہوا ہے،
خلاصۂ کلام یہ کہ عام لوگوں کو ایک محدود دائرے میں محدود اور خاص مسائل پر ماتحت لوگوں کی تربیت کا مکلف بنایا گیا ہے۔عوامی سطح پر بطور داعی اور مفتی اپنے آپ کو پیش کرنے اجازت نہیں دی گئی ہے۔ورنہ اس کا انجام وہی ہوگا جو ’فسُئِلُوا فأَفْتَوْا بغير علم،
اللہ تعالی پہلے ہمیں علم حاصل کرنے،





