چند دن قبل میری ایک تحریر ’قلبی واردات‘ کے عنوان سے عام ہوئی۔اس تحریر کے عام ہونے کے بعد بعض اہل علم نے اپنے چنداشکالات اور تحفظات کا اظہار فرمایا۔ہوسکتا ہے ایسا ہی خیال کچھ دیگرلوگوں کے ذہن میں بھی آیا ہو (حالانکہ خود سابقہ تحریر میں ان اشکالات کے تدارک کی بہت حد تک کوشش کی گئی تھی تاہم پھر بھی سوال اٹھے)اسی لیے یہ مناسب معلوم ہوا کہ اسی عنوان کی ایک اور قسط لکھ کر ان کے ازالہ کی کوشش کی جائے۔
۱۔پہلا اشکال یہ تھا کہ امام کا قرآن کی تلاوت میں اپنی آواز اور انداز پر توجہ دینا تاکہ سامعین محظوظ ہوسکیں ایک مستحسن عمل ہے اور اس میں شرعا کوئی قباحت نہیں ہے،
لو علمت أنك تسمع لحبرته لك تحبيراً[متفق عليہ]اگر مجھے پتہ ہوتا کہ آپ سن رہے ہیں تو میں آپ کی خاطر اور زیادہ خوبصورت تلاوت کرتا۔
یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں نہیں ٹوکا،
اس سلسلے میں عرض یہ ہے کہ:
تحبیر یا سامعین کی خاطر تلاوت کی تحسین و تزئین پر توجہ دینے کے دو پہلو ہیں،
لیکن اسی تحسین و تزئین کا دوسرا پہلو ہے لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنا ان سے تعریف کی چاہ،
گویا قرآن کی تحبیر فی نفسہ ریاکاری نہیں ہے البتہ تحبیر میں ریاکاری کے درآنے کا امکان رہتا ہے۔جو بعض مخصوص حالات میں بڑھ بھی جاتا ہےجیسے اجتماعات وغیرہ میں خود سے آگے بڑھنا جس کا تذکرہ پہلی قسط میں ہوا۔
اسی تفصیل کو بیان کرتے ہوئے امام أبوبكر الآجُرِّي (متوفی۳۶۰ھ) نے لکھا ہے:
ينبغي لمن رزقه الله حسن الصوت بالقرآن أن يعلم أن الله قد خصه بخير عظيم؛
۲۔دوسرا اشکال یہ سامنے آیا کہ قلبی واردات کی سابقہ قسط پڑھ کر ہوسکتا ہے بہت سارے لوگ محض ریاکاری کے ڈر سے خیر کے کاموں میں سبقت کرنے سے باز آجائیں جبکہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی کو ریاکاری کے ڈر سے خیر کے کام میں پیچھے نہیں رہنا چاہیے۔
اس سلسلے میں عرض یہ ہے کہ:
یہ بات بجا ہے کہ محض ریاکاری کے ڈر سے خیر کے کام کو ترک نہیں کرنا چاہیے،
وإذا كنت في الصلاة فقال الشيطان: إنك ترائي فزدها طولا[السنن الكبرى للنسائی:۱۱۸۵۶] اگر حالت نماز میں شیطان تمھارے پاس آئے اور کہے کہ تم ریاکار ہو تو تم ذرا اور لمبی نماز پڑھنا۔
تاکہ اس کے اس وسوسہ کا مقابلہ کرسکو اور اس کے اس حربے و حملے کو ناکام کرسکو۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں پہلو مطلوب ہیں،
اسی سلسلے میں ایک بھائی نے یہ سوال کیا تھا:
أي الموقفين صحيح؟ ترك العمل لأجل الخوف من الرياء أم الإقدام عليه مع إصلاح النية(دونوں میں سے کیا صحیح ہے؟ ریاکاری کے ڈر سے عمل چھوڑدے یا نیت کی اصلاح کرتے ہوئے عمل کرتا رہے؟؟
اس کا جواب یہی ہے کہ:الإقدام عليه مع إصلاح النية (آدمی کو عمل نہیں ترک کرنا چاہیے مگر نیت پر مسلسل گرفت ہوتی رہنی چاہیے۔
یہ دقیق فرق ہے کہ آدمی عمل میں ریاکاری نہ کرے مگر ریاکاری کے ڈر سے عمل ترک بھی نہ کرے۔انھی دونوں حقیقتوں کو یکجا کرکے بیان کرتے ہوئے فضیل بن عياض رحمہ الله نے فرمایا ہے:
إن ترك العمل لأجل الناس رياء،
۳۔تیسرا اشکال بلکہ یہ اعتراض سامنے آیا کہ سابقہ تحریر میں ائمہ و خطباء کی نیتوں پر سوال اٹھایا گیا ہے،
اس سلسلے میں پہلی بات یہ عرض ہے کہ:
سابقہ تحریر بنیادی طور پر ان حضرات کے سلسلے میں ہے جو خودنمائی کی راہ اپناتے ہوں،
اور ان حضرات کے سلسلے میں بھی اخلاص کی نفی نہیں کی گئی ہے بلکہ دو باتیں کہی گئی ہیں،
اور دوسری بات یہ کہ بحیثیت امام یہ آپ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ایسی تمام باتوں سے پرہیز کریں جو آپ کے مقتدی کو امتحان میں مبتلا کردے،
حقیقت یہ ہے کہ جس طرح کسی کے اخلاص کی گواہی نہیں دی جاسکتی بالکل اسی طرح کسی کے اخلاص کی نفی بھی نہیں کی جاسکتی،
وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِیمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ(المائدة:۷)
تاہم اخلاص کی ترغیب دلانا اور ریاکاری کے مظاہر سے پرہیز کی دعوت دینا بھی عین خیرخواہی اور شرعا ایک مطلوب و مستحسن عمل ہے۔
ایک امام مؤذن یا خطیب کو اپنے عمل میں یہ احتسابی کیفیت جاری رکھنی چاہیے کہ میرا عمل اللہ کے لیے ہو،
وفقنا الله جميعا لما يحبه ويرضاه۔آمین





