(ہمارے ایمان کو آزمائش سے دوچار نہ کریں)
دینی اجتماعات میں اکثر ایک چیز کا تجربہ ہوتا ہے،
اچھی آواز اللہ تعالی کی دی ہوئی ایک عظیم نعمت ہے جس کا استعمال و اظہار ایک مستحسن عمل ہے۔تحديث نعمت کے طور پر یا تعبد یعنی عبادت کی نیت سے اذان یا قرآن کی تلاوت میں اپنی آواز کے حسن کا استعمال و اظہار ایک عبادت ہے،
مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْءٍ مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ حَسَنِ الصَّوْتِ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ،
تاہم کسی بھی مؤذن،
کسی بھی خطیب مؤذن یا امام کے لیے یہ ایک مشکل امتحان ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے کس قدر اپنے اخلاص کی حفاظت کرپاتا ہے۔
اس باب میں خود احتسابی کا پیمانہ یہ ہے کہ ہم یہ جائزہ لیں کہ اذان امامت یا خطابت کے دوران ہمارا دل کس طرف مائل ہے،
یہ بات مؤذنين ائمہ اور خطباء سے مخفی نہیں ہے کہ یہ ایک مشکل عمل اور مسلسل جہاد ہے جو انھیں اذان امامت اور خطابت کے دوران خود اپنے نفس کے ساتھ جاری رکھنا پڑتا ہے،
ما عالجت شيئا أشد علي من نيتي لأنها تتقلب علي(مجھے نیت سے زیادہ کسی اور چیز کو سنبھالنے میں مشکل پیش نہ آئی کیونکہ وہ بار بار پلٹ جاتی تھی،
یوسف بن اسباط اسی حقیقت کو ان الفاظ سے تعبیر کرتے ہیں:
تخليص النية من فسادها أشد على العاملين من طول الاجتهاد( عمل کرنے والوں کو لمبی عبادت کرنے سے زیادہ نیت کو خلل سے پاک رکھنے میں محنت کرنی پڑتی ہے)[جامع العلوم والحكم:۱/۷۰]
اس لیے بہتر یہی ہے کہ ایسے کسی بھی موقعہ پر جہاں اذان امامت یا خطابت آپ کی ذمہ داری نہ ہو خود کو آگے نہ بڑھائیں تا آنکہ لوگ خود مطالبہ کریں۔
الا اینکہ کسی کو اللہ کی مدد اور اپنے نفس کے مجاہدہ پر کچھ اس قدر یقین ہو کہ اس کی نیت نہیں ڈگمگائے گی،
مگر آدمی ایسا نفس کہاں سے لائے؟ جو عمل سے قبل بھی عمل کے دوران بھی اور عمل کے بعد بھی یکسو ہو اوراللہ کی خوشنودی اس کی جستجو ہو اور اس کا مطمح نظر اللہ کی رضا ہو؟
رہی سہی کسر وہ سامعین اور مقتدی پوری کردیتے ہیں جو بعد میں تعریف کے پل باندھنے لگتے ہیں۔والله المستعان
نفس کے ساتھ مجاہدہ کا یہ عمل بسا اوقات بعض ائمہ و مؤذنين وغیرہ کی کرم فرمائی سے سامعین اور مقتدی حضرات تک بھی پہنچ جاتا ہے،
بعض ائمہ تو اس امتحان کو مقتدی حضرات کے لیے اور زیادہ مشکل بنادیتے ہیں جب ایسے ہی مخصوص اوقات اور مناسبتوں میں عذاب و حساب کی آیتوں کا انتخاب کرتے ہیں اور دوران نماز ہی خشوع و خضوع کے اثر سے ان کی آواز بھاری ہونے لگتی ہے۔
نماز میں خشیت کا طاری ہونا اور آواز کا بھرا جانا خود بھی تقوی کاایک عظیم مقام ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی یہ کیفیت تھی کہ عبداللہ بن الشخیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
أتيت رسول الله ﷺ وهو يصلي،
لہذا کسی مسجد کے امام پر یہ کیفیت از خود طاری ہوجاتی ہو تو بات الگ ہے۔تاہم کسی شخص کا کسی پروگرام یا اجتماع کی مناسبت پر خاص طور پر آگے بڑھنا،
ایسے حضرات وہ حوصلہ کہاں سے لاتے ہوں گے کہ جس میں وہ اخلاص کا تحفظ کرپاتے ہوں؟اور اگر واقعی وہ اس میں کامیاب بھی ہوں تو کم از کم ہم جیسے کمزور ایمان والے سامعین اور مقتدی حضرات پر رحم فرمائیں جو پہلے ہی اپنی نماز میں اپنے نفس کے ساتھ ایک جہاد سے گزر رہے ہوتے ہیں،
یقین کریں وہ بھی آپ کے ساتھ اس خشوع کا تجربہ کرنا چاہتے ہیں،
لہذا عاجزانہ درخواست ہے کہ ایسی مناسبتوں کو بخش دیں بلکہ باجماعت نمازوں کو بھی بخش دیں،
قارئین!
یہ چند گزارشات ہیں،
كل شيئ أظهرته من عملي لا أعده شيئا ً لعجز أمثالنا عن الإخلاص إذا رآه الناس(اپنے ہر اس عمل کو میں شمار ہی نہیں کرتا جس کو میں نے لوگوں کے سامنے ظاہر کردیا ہو کیونکہ لوگوں کی نظروں میں آجانے کے بعد ہم جیسے لوگوں کا اخلاص کو بچالےجانا ممکن نہیں ہے)
بس اللہ ہی سے امید ہے کہ ہمارے اعمال ناموں کے کٹے پھٹے اوراق محض اپنے فضل خاص سے قبول فرمالے۔





