سورہ لقمان کی آخری آیت،
إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ ۖ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا ۖ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ(لقمان ۳۴)
یعنی انسان اس دنیا میں ایک مدت گزارنے،
یعنی انسان کی پیدائش خالص اللہ کا انتخاب اور اختیار ہے اور اس وجہ سے ہماری پیدائش کے لیے ہندوستان کا انتخاب صرف اللہ کا انتخاب ہے جس سے ہندوستانی مسلمان مطمئن اور راضی ہونے کی وجہ سے اس کی ترقی،
انگریز جو ہندوستان میں تجارتی راستے سے ایسٹ انڈیا کمپنی کے توسط سے داخل ہوئے اور دھیرے دھیرے یہاں کے اقتصاد ہی نہیں بلکہ اقتدار میں بھی دخیل ہوگئے اور ایک وقت ایسا آیا کہ یہاں کے بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو ان کے تخت پر بیٹھنے سے منع کردیا۔اور۱۸۵۷ء میں بہادر شاہ ظفر کے سبھی بیٹوں کے سر قلم کر کے ایک تھالی میں سجا کر ان کو پیش کرنے کے بعد بلا شرکت غیرے ۱۹۴۷ء تک یہاں پر غیر قانونی ظالمانہ جابرانہ اور ہر طرح سے ناقابل قبول راج کرتے رہے۔یہاں تک کہ ملک کے تمام مذاہب طبقات کی مستقل مشترکہ کوششوں (جس میں مسلمانوں کا کردار سب سے زیادہ نمایاں اور اہم رہا)کے نتیجے میں ۱۵؍اگست۱۹۴۷ء کو آزادی کا سورج طلوع ضرور ہوا لیکن ساتھ ہی انگریزوں کی منافقانہ اور مکار ذہنیت اور سازشوں کی وجہ سے ایک ناقابل برداشت اور نہایت تکلیف دہ زخم یعنی عظیم ہندوستان کی دو ملکوں ہندوستان اور پاکستان میں تقسیم کا درد بھی سہنا پڑا۔
۱۹۴۷ء میں تقسیم کے وقت پاکستان میں زیادہ تر مسلمان گئے لیکن بڑی تعداد میں مسلمانوں نے ہندوستان میں رہنے کو ترجیح دی اور اس کو خیر باد کہنے پر آمادہ نہیں ہوئے۔یہی نہیں بلکہ منقسم ہندوستان کے ذمہ داروں نے بھی اس کو پسند کیا اور بعض مسلم اکثریتی علاقوں جیسے کشمیر،
اس طرح ہندوستان کسی خاص مذہب کا نہ ہو کر ایک سیکولر جمہوریہ کے طور پر دنیا کے نقشے میں اپنی عظمت کے جھنڈے لہراتا رہا۔اور اس کی شناخت ایک ایسے عظیم ملک کے طور پر کی جاتی رہی جس میں ہر مذہب ہر طبقہ ہر رنگ ہر نسل اور بے شمار زبان بولنے والے لوگ ہمیشہ سے بلا کسی تفریق کے پوری آزادی اور اختیار کے ساتھ تھے اور ہیں۔
ہمارا ملک۱۵؍ اگست۱۹۴۷ء کو آزاد تو ہوگیا لیکن ابھی تک یہاں برطانوی پارلیمنٹ میں پاس ہونے والا ’گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ۱۹۳۵‘ ہی رائج رہا۔ہاں آزاد ہندوستان کے نئے دستور کے لیے تمام مذاہب،
دستور میں ملک کو مذہب کے بجائے ایک سیکولر عوامی جمہوریہ بنانے،
اور یوم آزادی۱۵؍ اگست کی طرح قانون سازی کی تکمیل کے دن۲۶؍ نومبر کے بجائے قانون کے نفاذ کے دن۲۶؍ جنوری کو دوسرا قومی دن مان کر ان دونوں دنوں۱۵؍ اگست اور۲۶؍ جنوری کو ملکی سطح پر جشن منانے اور عام تعطیل رکھنے کو قانونی حیثیت دی گئی۔اور یہ پیغام دیا گیا کہ جس طرح مکان کا نقشہ بنانے کے بجائے اس کے مطابق تعمیر اور کسی پروجیکٹ کے پلان کے بجائے اس کے مطابق اس کا نفاذ اصل ہے اسی طرح ملک کے لیے دستور سازی سے زیادہ اس کا نفاذ اصل ہے۔اس لیے ہمارا دوسرا قومی دن۲۶؍ جنوری ہوگا۔
مسلمانوں سے عام طور پر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ ان کے نزدیک مذہب اصل ہے یا ملک؟ تو اس سلسلے میں یہ وضاحت ضروری ہے کہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس میں کسی ایک پہلو کو مدنظر نہیں رکھا جاتا بلکہ اس میں زندگی کے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھا جاتا ہے اور اس میں عقائد عبادات اخلاق و کردار دیگر معاملات کے ساتھ ملک کی ترقی وخوشحالی،
اسلام میں تو دیگر حقوق نظرانداز کرکے صرف اللہ کے حقوق کی فکر کو بھی درست نہیں مانا گیا۔چنانچہ حضرت سلمان فارسی نے حضرت ابو الدرداء کو دن میں روزہ رکھنے اور رات میں صرف عبادت کرنے سے روکا اور کہا تم پر تمھارے رب کا،
إن لربك عليك حقا،
اس ملک میں مسلمانوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ کردار ادا کرنا چاہیے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت سے پہلے حلف الفضول کے موقع پر قریش کے کچھ با اثر لوگوں کے ساتھ مل کر ادا کیا تھا کہ آج کے بعد اس سرزمین پر کسی پر بھی ظلم نہیں ہونے دیں گے۔اور نبوت کے بعد بھی اس طرح کے موقع پر شرکت کو باعث فخر قرار دیتے ہوئے اس کے بدلہ میں سرخ اونٹنی کو بھی نا پسند قرار دیا تھا:
لقد شهدت مع عمومتي حلفا في دار عبد الله بن جدعان،





