کسی لفظ پر حرکت لگانے کے لیے عربی میں ”ضبط“ اور ”شکل“ کا لفظ معروف ہے،
عربی بلکہ اردو میں بھی بعض کلمات ایسے ہوتے ہیں جن میں زبر زیر کے فرق سے معنی میں زمین وآسمان کا فرق پیدا ہوجاتا ہے۔اگر معنی میں فرق نہ بھی پیدا ہوپھر بھی ہر کلمہ کو صحیح ضبط اور تلفظ کے ساتھ ادا کرنا اس کا علمی تقاضا ہے۔ایسے مشکل کلمات جن میں یہ شبہ ہو کہ قاری سے پڑھنے میں غلطی ہو سکتی ہے انھیں لکھتے وقت اعراب لگانے کا خصوصی اہتمام ہونا چاہیے ورنہ اچھے خاصے ماہر قاری کے بھی بھٹکنے کا قوی اندیشہ ہوتا ہے،
ابھی میں فتح الباری میں ”باب ہجرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم وأصحابہ إلی المدینہ“ کی تحقیق کر رہا تھا،
وإذا تَنَكَّرَتِ البِلَا دُ فأَوْلِهَا كَنَفَ البِعَادِ
واجْعَلْ مُقَامَكَ أو مَقَرَّ كَ جانِبَيْ بَرْكِ الغُمَادِ
لَسْتَ ابنَ أمِّ القَاطِنِيـــ ــــنَ ولا ابنَ عَمٍّ للبِلَادِ
[فتح الباری:۷/۲۳۲]
میں نے توثیق کے لیے جب ابن دُرَید کی کتب کی طرف رجوع کیا تو ان کے دیوان (ص۲۱) میں یہ قصیدہ مل گیا،
اس طرح کے کلمات کو ضبط کرتے وقت صرف حرکت پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ لفظوں میں بھی وضاحت کے ساتھ بیان کر دینا چاہیے تاکہ اگر آپ کی کتاب سے کوئی نقل کرے اور حرکت نقل کرنا چھوڑ دے تو لفظوں کی وضاحت باقی رہے اور کبھی بھی اس ضبط کے فوت ہونے کا ڈر نہ رہے۔
حافظ ابن حجر نے حافظ ذہبی کی ایک کتاب ”المُشْتَبِہ“ پر اس لیے بھی دوبارہ کام کیا تھا کیونکہ اس میں کلمات کو ضبط کرنے میں حافظ ذہبی نے صرف حرکت پر اکتفا کیا تھا،
لفظ ”برک الغماد“ کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے۔اس کا ضبط بیان کرتے ہوئے حافظ ابن حجر فرماتے ہیں:
’’الغِمَادُ: فهو بكَسْر المُعْجَمَة وقد تُضَمُّ... وحَكَى ابن فارِس فيها ضَمَّ الغَيْن‘‘
یہاں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ ابن فارس سے اس لفظ کا ضبط غین کے ضمہ کے ساتھ نقل کر رہے ہیں۔مجھے ابن فارس کی کتب میں یہ ضبط کہیں نہیں ملا۔”مجمل اللغہ“ (ص۶۸۵) میں انھوں نے صرف اتنا کہا ہے: ”والغماد: أرض“،
میں نے ظن غالب کی بات اس لیے کی کیونکہ علامہ ابن الملقن،
بلکہ علامہ ابن الملقن نے ”مجمل اللغہ“ کی ان کی تشریح بھی نقل کی ہے۔فرماتے ہیں: ’’(الغماد): بكسر الغين،
ان کا ابن فارس سے ضبط کے ساتھ ساتھ مذکورہ الفاظ کے ساتھ اس معنی کا نقل کرنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ”مجمل اللغہ“میں ضمہ کا ضبط موجود تھا۔واللہ اعلم
اس واقعہ سے جو ہمیں درس ملتا ہے وہ یہ کہ مشکل کلمات پر اعراب لگانے کا اہتمام کرنا چاہیے تاکہ قاری کو پڑھنے میں کوئی دشواری نہ ہو اور وہ کسی طرح کی غلطی کا شکار نہ ہو۔نیز لفظوں میں اس کا اعراب بیان کرنا اولی وانسب ہے۔اگر کسی کو یہ بارِ گراں معلوم ہو تو کم از کم حرکت کے ساتھ اعراب لگانے کا اہتمام تو کرنا ہی چاہیے۔خصوصًا نام،
ابو اسحاق النجیرمی فرماتے ہیں:
’’أولى الأشياء بالضبط أسماء الناس؛
(لوگوں کے ناموں میں حرکت لگانے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے،
عبد اللہ بن ادریس فرماتے ہیں کہ مجھے شعبہ نے حسن بن علی سے حوراء والی حدیث بیان کی۔آپ نے بعدہ لفظ ’’حوراء‘‘ کے نیچے ’’حور عین‘‘ لکھا تاکہ پڑھنے والا غلطی سے اسے جیم اور زا کے ساتھ ’’الجوزاء‘‘ نہ پڑھے۔[تدريب الراوي:۱/۴۹۷]
اگر ایک شخص کا نام سلَّام ہو اور دوسرے کا سلَام،
کتبِ حدیث میں ایسے ناموں سے بارہا سابقہ پڑتا ہے اور ضبط کے ساتھ لکھا ہوا نہ ہو تو اکثر طلبہ سے غلطی ہو جاتی ہے۔مجھے یاد آرہا ہے جامعہ اسلامیہ فیض عام مئو ناتھ بھنجن میں صحیح بخاری کی قرأت میں اکثر ہم سے حدیثِ عُسَیلَہ کی سند میں واقع عبد الرحمن بن الزَّبِیر رضی اللہ عنہ کو پڑھنے میں غلطی ہو جاتی تھی اور صدر صاحب فضیلۃ الشیخ محفوظ الرحمن فیضی-حفظہ اللہ ومتعہ بالصحۃ والعافیہ-ہمیں تنبیہ کرتے تھے کہ یہ زا کے ضمہ کے ساتھ زُبَیر نہیں،
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اس طرح کے کسی مشکل لفظ کا صحیح ضبط معلوم کرنا ہو تو ہمیں کن کتب کی طرف رجوع کرنا چاہیے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ کئی علمائے کرام نے اس موضوع پر بہت ہی نادر اور قیمتی کتابیں تصنیف کی ہیں۔لہذا ایسے ناموں کے ضبط کے وقت اس فن کی خاص کتب کی طرف رجوع کرنا چاہیے اور صحیح حرکات کے ساتھ ان ناموں کو ضبط کرنا چاہیے۔مثلًا:
(۱)المُؤْتَلِف والمُخْتَلِف للدَّارقُطني
(۲)المُتَّفِق والمُفْتَرِق للخطيب البغدادي
(۳)تلخيص المُتَشابِه في الرَّسْم للخطيب البغدادي
(۴)تالِي التلخيص للخطيب البغدادي
(۵)الإكمال لابن ماكُولا
(۶)تهذيب مُسْتَمِرِّ الأَوْهام لابن ماكولا
(۷)تَقْيِيد المُهْمَل وتَمْيِيز المُشْكِل للغَسَّانِي الجَيَّاني
(۸)توضيح المُشْتَبِه لابن ناصر الدين الدمشقي
(۹)تبصير المُنْتَبِه لابن حجروغیرہ۔
یہ تمام کتابیں الحمد للہ مطبوع ہیں۔ان میں سے ابن ماکولا کی الإکمال،
ان کتب کا تعلق شخصیات کےناموں کے ضبط کے ساتھ ہے۔
اسی طرح دیگر فنون کا معاملہ ہے۔مثلًا:
احادیث نبویہ کے لیے کتب غریب الحدیث مثلًا «مَشَارِقُ الأنوار للقاضي عياض» اور «النهاية لابن الأثير» وغیرہ کی طرف رجوع کیا جائے۔
فقہی اصطلاحات کے لیے نسفی کی طَلِبَة الطَّلَبة،
لغوی مباحث کے لیے کتب المعاجم مثلًا البارع لأبي علي القالي،
قبائل اور بلدان کے لیے معجم ما استعجم لأبي عبيد البكري،
ایک سوال اور: کیا ہر کلمے کو اعراب کے ساتھ لکھنا بہتر ہے یا صرف مشکل کلمات کو اعراب کے ساتھ لکھا جائے؟
بعض علما ہر ہر حرف پر حرکت لگانے کو مستحسن قرار دیتے ہیں۔معاصرین میں شیخ محمد یعقوب الترکستانی حفظہ اللہ اس کا حد درجہ اہتمام کرتے ہیں۔در حقیقت زمانۂِ قدیم سے اس میں علما کا اختلاف رہا ہے۔جہاں بعض علما کا یہ نظریہ رہا ہے وہیں دوسرے بعض علما صرف جن کلمات میں التباس کا خوف ہو ان پر حرکت لگانے کی بات کرتے ہیں۔
راجح یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر اس کا تعلق نصوصِ کتاب وسنت،
لیکن عام تحریروں میں ہر ہر حرف پر اعراب لگانا کاتب وقاری دونوں کے لیے باعثِ مَلَل و بارِ گراں ہے۔البتہ جہاں التباس کا خوف ہو وہاں بالاتفاق اعراب لگانا ضروری ہے۔[تفصیل کے لیے دیکھیں: تدریب الراوی:۱/۴۹۲]
خلاصۂِ کلام یہ کہ ایسے کلمات جو مختلف ضبط کے ساتھ الگ الگ معانی میں مستعمل ہیں انھیں مناسب حرکات کے ساتھ لکھنا نہایت ضروری ہے۔
اللہ تعالی ہمیں اس کی رعایت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔





