آج جب میں نے بی بی سی ہندی کی ویب سائٹ کھولی تو ایک خبر پر نظر پڑتے ہی کچھ دیر تک رب العالمین کی قدرت کے بارے سوچتا رہا۔خبر کی سرخی تھی:
बांग्लादेश का सरकार परिवार, जिसके पुरुष सदस्यों के पास फिंगरप्रिंट नहीं होते
”بنگلہ دیش کا سرکار پریوار،
اس میں بتایا گیا ہے کہ بنگلہ دیش میں ایک خاندان ہے جس کے مرد حضرات کے ہاتھوں کی انگلیاں سَپاٹ ہیں،
آج کل بینک لاکر سے لے کر آفس کی حاضری تک فنگر پرنٹ ایک چابی کی شکل میں استعمال کیا جانے والا اہم آلہ بن گیا ہے،
اسے تالے کی شکل میں استعمال کیے جانے کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ اللہ تعالی نے انسانوں کی ساخت ایسی بنائی ہے جس میں ہر شخص کا چہرہ،
کسی جرم کا پتہ لگانے کے لیے پولیس بھی موقع واردات سے سب سے پہلے فنگر پرنٹ کو بطور ثبوت اکٹھا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
مذکورہ خبر پڑھنے کے بعد کچھ دیر کے لیے میں سوچنے لگا کہ جس دن سے یہ دنیا بنی ہے آج تک کتنے لاتعداد لوگ اس دنیا میں آئے اور اپنی حیات مستعار گزار کر سفر آخرت پر جا چکے،
کیا یہ اللہ رب العالمین کے وجود کی ایک بہت بڑی دلیل نہیں؟
کیا یہ کام کسی مخلوق کے بس کا ہے؟
کیا قادر مطلق کے سوا یہ کوئی اور کرسکتا ہے؟
نہیں،
هُوَ اللَّهُ الْخالِقُ الْبارِئُ الْمُصَوِّرُ [سورة الْحَشْرِ:۲۴]
جس کا ہر کام نہایت ٹھوس اور پختہ ہوتا ہے۔:
صُنْعَ اللَّهِ الَّذِي أَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ [سورة النَّمل:۸۸]
جو رحم مادر میں ہی جیسے چاہتا بچے کو شکل وصورت عطا کردیتا ہے:
هُوَ الَّذِي يُصَوِّرُكُمْ فِي الْأَرْحَامِ كَيْفَ يَشَاءُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمَُ[سورة آل عمران: ۶]
دنیا کے کسی بڑے سے بڑے آرٹسٹ سے اگر خیالاتی تصویروں کی فرمائش کی جائے تو ایک مخصوص عدد کے بعد اس کی قوت جواب دے جائےگی اور وہ کوئی نئی شکل کی ڈیزائنگ سے عاجز آجائےگا۔
لیکن اللہ تعالی روزانہ بے شمار انسانوں کو پیدا کرتا ہے،
اگر کسی کی شکل کسی سے مل بھی جائے تو انگلیوں کے نشان اور پردۂِ بصارت ضرور مختلف ہوتے ہیں۔
کیا اس میں عقل والوں کے لیے دلیل نہیں؟
کیا یہ ان کی ہدایت کے لیے کافی نہیں؟
اللہ ہمیں ان لوگوں میں سے بنائے جن کے بارے میں اس کا ارشاد ہے:
يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ





