یادش بخیر! یہ کوئی۱۹۹۴-۹۵ء کی بات ہے،
مجھے آج بھی وہ وقت وہ لمحہ،
حضرت انس رضی اللہ عنہ کو کون مسلمان نہیں جانتا۔خادم رسول تھے۔صبح شام آپ کی خدمت میں رہتے تھے۔بخاری مسلم کی روایت ہے۔ان کی ماں ام سلیم نے ایک دن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ آپ اپنے اس چھوٹے سے خادم انس کے لیے دعا کردیجیے۔اللہ کے رسول نے فرمایا ’’اللھم اکثر مالہ وولدہ وبارک لہ فیما اعطیتہ‘‘ اے اللہ انس کو خوب مال واولاد عطا کر اور جو کچھ اسے دے اس میں خوب برکت دے۔ایک زمانہ آیا حضرت انس کہتے ہیں کہ میں انصار میں سب سے مالدار آدمی تھا۔مسلم کی روایت ہے کہ ان کے بیٹوں اور پوتوں کی تعداد سینکڑوں میں تھی۔امام نووی نے لکھا ہے کہ صحابہ میں حضرت انس کی اولاد کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔ابو نعیم اصفہانی نے حلیۃ الصحابہ میں لکھا ہے حضرت انس کہتے ہیں کہ میرے باغات سال میں دو بار پھلتے تھے۔یہ تھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ان کے لیے ’’برکت کی دعا‘‘ کی برکت۔
ایک صحابی عروہ بارقی تھے۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تجارت میں برکت کی دعا کی۔اس برکت کی دعا کی یہ برکت ہوئی کہ کہاجاتا ہے اگر وہ مٹی بھی خریدتے تو اس میں برکت ہوتی۔(بخاری)
مشہور صحابی سائب بن یزید کہتے ہیں میری خالہ مجھے لے کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئیں۔آپ نے میرے سر پر ہاتھ رکھا اور میرے لیے برکت کی دعا کی۔سائب بن یزیدچورانوے (۹۴)سال کی عمر میں بھی ہٹے کٹے تھے اور کہتے تھے کہ میں صرف اور صرف اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی برکت کی وجہ سے اپنی سماعت وبصارت کی قوت سے محظوظ ہورہا ہوں۔(متفق علیہ)
میں نے یہ ساری لمبی تمہید اس لیے باندھی ہے کہ آج کے زمانے میں لوگوں کو اس دعا کی جامعیت کا پتہ نہیں۔خاص طور سے برصغیر کے لوگوں کو اس کی اہمیت پتہ نہیں۔میں کبھی کبھی اپنے شاگردوں سے بالمشافہ یا فون پر یا فیس بک پر بارک اللہ فیک کہتا ہوں تو اس پر ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔آمین تک نہیں کہتے۔بلکہ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ واٹس اپ یا فیس بک پر کسی کو بارک اللہ فیک لکھاجائے تو اس پر آمین لکھنے کے بجائے اس پر ری ایکٹ کرتا ہے۔کیسے کیسے ٹیڑھی ٹیڑھی ناک کے کارٹون کے ذریعے لوگ ری ایکٹ کرتے ہیں کہ اللہ کی پناہ۔حالانکہ انھیں اس پر آمین لکھنا چاہیے۔اسی طرح کسی کو’’ جزاک اللہ خیرا‘‘ بھی کہاجاتا ہے تو اس پر لوگ آمین کے بجائے ری ایکٹ کرتے ہیں۔جو میرے خیال سے ان دعاؤں کی جامعیت سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔
دوستو! یہ مسنون دعائیں بہت جامع ہیں۔ان کے معنی ومفہوم بھی بہت اہم ہیں۔میں فیس بک پر اپنے والد صاحب یا حماد صاحب سے متعلق کوئی شے صرف اور صرف لوگوں کی دعاؤں کے حصول کے لیے شیئرکرتا ہوں۔نہ جانے کب کس کی دعا سے اور دعاپرکس کی آمین کی برکت سے ان متوفین کے درجات بلند ہوجائیں یا کسی زندہ آدمی کے لیے کی جانے والی یا اسے دی جانے والی دعا سے کب اس کی زندگی میں بہار آجائے کسی کو کیا پتہ۔لہذا ہمیں ان دعاؤں پر ایمان ویقین کے ساتھ آمین کہنا چاہیے۔ان کے معنی ومفہوم کو بھی اپنے اندر اتارنے کی کوشش کرنا چاہیے۔اللہ ہم سب کو توفیق ارزانی کرے۔آمین





