دن بھر کی خواری کے بعد گھر آتے ہی ان پر نظر پڑتے ہی تکان اور بیزاری سو کا لیول پار کرچکی ہوتی ہے۔اور ہو بھی کیوں نہ جہاں جہاں نظریں جاتی ہیں سلم ٹرم چیزیں دیکھنے کی عادت جو ہوچکی ہے حتی کہ ہتھیلی میں دبے ہوئے فون کے وال پیپر پر موجود دبلی پتلی سی حسینہ بھی منہ چڑارہی ہوتی ہے۔تو پھر کچن سے اچانک پانی کا گلاس تھامے باہر آنے والی اس منہ جھاڑ سر پہاڑ والی مخلوق کو دیکھ کر شوہر کا موڈ کیوں نہ آف ہو۔پورے دن کی تھکان اور انتظار کا یہ بدلہ ہے کہ اس پر ایک انتہائی ناگوار سی نظر ڈال کر اپنے روٹین میں مشغول ہوجائیں۔
یہ تقریبا ہر مشرقی میاں بیوی کی کہانی ہے۔لیکن میرا مدعا ہے انھیں ’کمر سے کمرہ تک‘ کا سفر کروایا کس نے،
تقریبا ہر گھر میں خواتین موجود ہیں بالخصوص ٹین ایج بچیوں سے لے کر مڈل ایج تک۔اور موٹاپے کے مسائل بھی انھی عمر کی خواتین میں زیادہ پائے جاتے ہیں۔کچھ باتیں جن پر ہمیں غور کرکے ان کا حل ڈھونڈنا تھا وہ سماجی لطیفوں کی نذر ہوگئیں۔آج شعور وبیداری کے بعد ہمیں سمجھ آیا کہ ایسی سنگین باتوں پر کبھی ہم بھی بہت ہنسا کرتے تھے،
ہندوستانی خواتین کی ۹۰ فیصد خواتین پی سی او ڈی(PCOD)اورپی سی او ایس(PCOS) کا شکار ہیں۔جس کے سبب بچیاں اور عورتیں سبھی مختلف مسائل کا شکار ہیں۔ممکن ہے آپ میں سے کسی نے اس بیماری کا نام ہی پہلی مرتبہ سنا ہو۔بہرحال اس بیماری پر تفصیلا بات ان شاءاللہ پھر کبھی ہوگی۔
آج فقط اتنا ہی کہ ہر موٹاپا ہنسی خوشی اور عیش وعشرت خوشحالی کی گواہی نہیں ہوتا کہ آپ ہنستے ہی چلے جائیں۔بیوی کوموٹاپے کے طعنے دے دے کر اس کا موازنہ پروفیشنل ماڈل یا کسی دوسری قریبی عورت سے کرکر اسے زک پہنچائی جائے۔کمر سے کمرے تک کا سفر۔۔۔۔۔بیماری پر بیماری کے ساتھ طے ہوا۔
بے شمار ہارمونل ڈس بیلینس۔کئی پیچیدگیوں سے گذرتی خواتین،
آپ چونکہ ساتھی،
آج کا پہلا کام:
گھر میں موجود بچی بیوی بہن وغیرہ کی صحت کے متعلق معمولی شبہے پر بھی انھیں گائینا کولوجسٹ (ماہر امراض نسواں) کے پاس ضرور لے جائیں۔ڈاکٹر کے مشورے پر ان کے ضروری چیک اپس ضرور کروائیں۔وزن میں غیر معمولی اضافے کا سبب صرف بہت زیادہ کھانا پینا نہیں ہوتا۔اکثر بیماری ہی وزن بڑھانے کا سبب بنتی ہے۔
خواتین کی بد زبانی،
نتیجتا کارٹیسول(Cartisol)نامی ہارمونز کی بڑھوتری جو دباؤ اور ذہنی اذیت کی وجہ سے جسم میں بننا شروع ہوتا ہے۔اسٹریس اور ذہنی دباؤ سے پیدا ہونے والا یہ مادہ (ہارمونز)رفتہ رفتہ پورے جسم کی کارکردگی پر اثر ڈالتا ہے۔کارٹیسول کا زور اگر اسی طرح برقرار رہا تو پورا جسمانی نظام اس کے زیر اثر ہوجاتا ہے پھر شروع ہوتی ہیں بہت سی پیچیدگیاں جیسے ہائی بلڈ پریشر،
اس کے علاوہ اگر کوئی خاتون بہت زیادہ اسٹریس (Stress) لینے کی عادی ہوچکی ہیں تو پھر وہ بار بار موڈ سوئنگز،
آج خواتین میں پی سی او ڈی اور پی سی او ایس نامی بیماری وبا کی طرح پھوٹ پڑی ہے۔اسے میڈیکل سائنس کبھی ایک خاص حالت کا نام دیتا ہے تو کبھی اپنی تحقیق کی بنا پر اسے خواتین کی بیضہ دان کی بیماری کا نام دیتا ہے جسے میڈیکل کہتا ہے:
Polycystic ovary syndrom // disease
اب تک میڈیکل سائنس کی یہ تحقیق نامکمل ہے کہ اس کی وجوہات کیا ہیں؟یہ مرض موروثی بھی ہوتا ہے،
حاصل کلام یہ ہے کہ مذکورہ بیماری عورت کے رحم کے دونوں کناروں پر موجود بیضہ دان سے متعلق ہے اسی لیے اس کا نام ہی پولی سسٹک اوورین ڈسورڈریا ڈسیز ہے۔پی سی او ڈی اور پی سی او ایس ہوتا یہ ہے کہ ایک صحت مند بیضہ دان عورت کے رحم میں اپنے فطری معمول کے مطابق ایام حیض میں جنین تیار کرنے والے بیضوں کو تیار کرتا ہے۔لیکن اگر اس نظام میں بگاڑ آجائے تو تولیدی نظام کے یہ انڈے اپنی مدت مکمل کرکے پھوٹ کر مادر رحم میں داخل ہونے کی بجائے اپنی جگہ پڑے رہ جاتے ہیں اور رفتہ رفتہ بڑھ کر سسٹ (چھالے،
انڈوں کے اپنے جگہ پڑے رہ کر رحم کے چھالے بن جانے سے کئی بیماریاں پیدا ہونا شروع ہوتی ہیں کیونکہ یہ فطری نظام سے بالکل الگ معاملہ چل رہا ہوتا ہے۔جس کی وجہ سے خواتین کے مخصوص ایام میں ایک بڑی گڑ بڑ شروع ہوتی ہے۔جن میں حیض کا کم ہونا،
اب ان حالات کا سیدھا اثر عورت کے بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت پر پڑتا ہے۔فطری حیض کے سائیکل میں ہی اگر بگاڑ آجائے اور اس مرض پر وقت رہتے توجہ اور کنٹرول نہ رکھا جائے تو عورت میں بانجھ پن بھی آسکتا ہے،
اس مرض کا دوسرا حملہ کچھ اس شکل میں ہوتا ہے کہ خواتین میں ایسٹروجن نامی ہارمونز بڑی تعداد میں بننے لگتے ہیں جس کی وجہ سے خلاف معمول خواتین کے جسم میں کئی جگہوں پر بالوں کی کثرت ہونے لگتی ہے جن میں سب سے بدنما مردوں کی طرح داڑھی یا مونچھ کی جگہوں پر گھنے بالوں کا اگ جانا ہوتا ہے۔
ہم اگر بزرگ خواتین سے اس بابت پوچھیں تو پتہ چلے گا انھیں کبھی پارلر کی ضرورت نہیں پڑی کیونکہ ان کے دور میں خواتین کو غیر ضروری بال نہیں آتے تھے اور اس وقت ایسی بیماریاں بھی ناپید تھیں۔
یہ بھی نئے دور کی ایک دین ہے کہ خواتین کے ساتھ ایسے مسائل بھی جڑ گئے ہیں بالوں کی یہ افراط ایسٹروجن کی زیادتی کی وجہ سے ہوتی ہے۔پھر ساتھ ہی کیل مہاسوں کی بھرمار،
وقت رہتےاگر ان نشانیوں کو سنجیدہ نہیں لیا گیا اور بروقت ان کا علاج نہیں کیا گیا توآگے چل کر یہ نشانیاں مہلک بیماریوں میں تبدیل ہوسکتی ہیں مثلا ایک غیر متوازن مدت حیض رحم کو زبردست نقصان پہنچاکر عورت کو ہمیشہ کے لیے بانجھ بناسکتا ہے۔
بریسٹ کینسر،
ہمارے سماج کا ایک بڑا المیہ ہے کہ انسان ایک ان دیکھی اور ان سمجھی بیماری کے ساتھ اپنے وجود کو زندگی کے پیچ وخم میں گھسیٹتا رہتا ہے لیکن لوگ اسے نارمل سمجھتے ہیں۔جب تک وہ سخت بیمار ہوکر بستر پر نہیں پڑتا یا موت کے دہانے تک نہیں جا پہنچتا۔
تو آئیے ان کی مدد کرتے ہیں اس طرح کہ خاتون کے علاوہ افراد خانہ اپنے کاموں کے اوقات منظم کرلیں تاکہ کام کرنے والی بچی یا خاتون بد نظمی اور وقت بے وقت کے کاموں کے سبب بہت زیادہ تھکاوٹ کا شکار نہ ہو وقت پر وہ اپنی غذا لے سکے اور وقت پر سو سکے۔
شوہر اس طرح ساتھ دے کہ زندگی کے تام جھام اور ان الجھنوں کو سلجھانے میں اس پر اپنا اعتماد،
گھر کے افراد دوسرے چھوٹے موٹے کاموں میں خواتین کا ہاتھ بٹاکر ان کے کام کے بوجھ کو ہلکا بناسکتے ہیں۔اولاد سے محروم خواتین کو امید ویقین کے ساتھ طبی امداد فراہم کریں اللہ نے اپنی اس دنیا میں ہر بیماری کی شفا رکھی ہے ہمیں بس اسے تلاشنے کی ضرورت ہے۔وزن سے پریشان خواتین کا مذاق بنانے کی بجائے ان کا معاون اور گائیڈنس بننے کی ضرورت ہے۔گاہے گاہے انھیں ان کا گول یاد دلانا،





