[پہلی قسط میں سنن ابو داود کے پندرہ(۱۵) رواة کے مختصر سوانح کو قارئین نے پسند کیا،
(۱۶)علی ابن احمد بن خلف الانصاری المقرئی:
آپ کی کنیت ابو الحسن اور ابن الباذش سے مشہور ہیں۔آپ شہر غرناطہ میں ۴۴۴ھ میں پیدا ہوئے اور ۵۲۸ھ میں وفات پائی۔آپ کے شاگردوں میں ابن بشکوال اور ابن عطیہ مشہور ہیں۔ابن بشکوال کہتے ہیں کہ آپ ادب،
(۱۷)طرطوشی الفہری:
آپ سنہ ۴۵۱ھ میں پیدا ہوئے،
(۱۸)ابن داسہ:
آپ کا مکمل نام محمد بن بکر بن محمد بن عبد الرزاق بن داسہ البصری التمارہے۔ابو بکر کنیت اور ابن داسہ سے شہرت رکھتے ہیں۔آپ نے امام ابو داود،
حافظ ذہبی،
ابن داسہ کی وفات سنہ۳۴۶ھ میں ہوئی۔
(۱۹)محمد بن عبد الرحمن بن علی بن عبد الرحمن النمیری:
آپ غرناطہ کے رہنے والے تھے۔آپ کے اساتذہ میں ابن عطیہ،
ابن فرحون کہتے ہیں کہ آپ حدیث کے ماہر،
(۲۰)ابو عیسی الرملی:
آپ کا پورا نام اسحاق بن موسی بن سعید بن عبد اللہ بن ابو سلمہ الرملی ہے۔آپ کی کنیت ابو عیسی ہے۔آپ کے اساتذہ میں محمد بن عوف الحمصی اور شاگردوں میں ابو حفص بن شاہین شہرت رکھتے ہیں۔امام الدار قطنی نے آپ کو ثقہ قرار دیا ہے۔آپ کا سال وفات ۳۲۰ھ ہے۔
(۲۱)احمد بن سعید بن حزم بن یونس الصُدفی:
آپ کی کنیت ابو عمر تھی۔آپ سنہ۲۸۴ ھ میں پیدا ہوئے اور ۳۵۰ ھ میں وفات پائی۔آپ کے اساتذہ میں سعید بن عثمان الاعناقی،
حُمیدی کہتے ہیں کہ آپ علم وادب میں ید طولی رکھتے تھے خاص طور سے علم بلاغت میں آپ کو کامل دسترس حاصل تھا۔امام ذہبی نے آپ کو علم حدیث کے ساتھ بڑا مورخ قرار دیا ہے۔
(۲۲)احمد بن محمد بن زیاد بن بشر بن درہم بن الاعرابی:
آپ کی کنیت ابو سعید ہے۔آپ نے مکہ میں سکونت اختیار کی اور حرم کے استاد رہے۔آپ کی ولادت سنہ۲۴۳ یا۲۴۶ھ میں ہوئی اور ۳۴۰ ھ میں مکہ ہی میں وفات پائی۔
آپ کے اساتذہ میں الحسن بن محمد بن الصباغ الزعفرانی،
امام ذہبی کہتے ہیں کہ ابن الأعرابی کے سنن ابو داود کی روایت میں سند اور متن کے لحاظ سے کچھ اضافے بھی ہیں۔آپ نے مختلف شہروں کا سفر کرکے اپنے مشائخ سے حدیثیں سنیں اور احادیث پر مشتمل معجم بھی تیار کیا۔
امام ذہبی مزید ان سے متعلق فرماتے ہیں کہ یہ امام،
(۲۳)ابو عمر الحذاء:
آپ کا پورا نام احمد بن محمد بن یحی بن احمد بن محمد بن عبد اللہ بن محمد بن یعقوب بن داود التمیمی ہے۔آپ ابن الحذاء سے مشہور تھے اور ابو عمر کنیت ہے۔ولادت ۳۸۰ھ اور وفات۴۶۷ ھ میں ہوئی۔
آپ نے بچپن سے حدیثوں کو سننا شروع کردیا تھا،
ابو علی غسّانی کہتے ہیں: ابو عمر لوگوں میں سب سے زیادہ اخلاق مند اور خوش مزاج تھے۔لوگوں کی ضروریات کی تکمیل میں پیش قدمی کرتے تھے۔
(۲۴)ابن العبد:
آپ کا مکمل نام علی بن محمد بن العبد الوراق ہے۔ابن العبد اور ابو الحسن کی کنیت سے معروف ہیں۔آپ نے سنن ابو داود کو براہ راست امام ابو داود اور عثمان بن خرزاد الانطاکی سے سنا۔آپ کے شاگردوں میں امام الدار قطنی اور ابن الثلاج کا نام کافی مشہور ہے۔آپ کی وفات۳۲۸ ھ میں ہوئی۔
(۲۵)ابو طاہر السِّلفی:
آپ کا پورا نام احمد بن محمد بن احمد بن محمد بن ابراہیم السلفی الاصبہانی ہے۔آپ کی کنیت ابو طاہر ہے۔آپ سال۴۷۵ ھ میں اصبہان میں پیدا ہوئے اور ۵۷۶ھ میں وفات پائی۔
آپ کے مشہور اساتذہ میں محمد ابن محمد بن عبد الرحمن المدینی،
ابو سعد السمعانی کہتے ہیں کہ ابو طاہر السلفی ثقہ،
حافظ ابن نقطہ کہتے ہیں کہ ابو طاہر نے بہ کثرت علمی اسفار کیا،
ابن الآبار اور امام ذہبی نے بھی ابو طاہر السلفی کے علمی مقام ومرتبہ کا اعتراف کیا اور ان کی شان میں اچھے کلمات قلمبند کیے ہیں۔
(۲۶)علی بن محمود بن احمد بن علی بن احمد بن عثمان بن موسی المحمودی الصابونی:
آپ کی کنیت ابو الحسن ہے۔ولادت تقریبا۵۵۶ھ میں ہوئی اور وفات کا سال ۶۴۰ ھ ہے۔۸۴ سال کی کل عمر پائی۔آپ کے اساتذہ میں آپ کے والد محمود،





