بسا اوقات نام میں مشابہت کی وجہ سے بڑی پریشانیاں کھڑی ہو جاتی ہیں اور ایک ہی نام سے مشہور دو یا اس سے زیادہ لوگوں میں تفریق نہ کر پانے کی وجہ سے ایک کے کارنامے دوسرے کی طرف منسوب ہو جاتے ہیں۔مسئلہ تب زیادہ پیچیدہ ہو جاتا ہے جب ان میں سے ایک بد عقیدہ اور گمراہ ہو اور دوسرا سلفی العقیدہ۔
اسی طرح کا معاملہ امام ابن جریر طبری رحمہ اللہ کے ساتھ ہوا ہے۔ان کے نام،
دونوں کے نام ونسب میں مشابہت ملاحظہ فرمائیں:
امام ابن جریر طبری رحمہ اللہ کا نام ونسب اس طرح ہے: ابو جعفر محمد بن جریر بن یزید الطبری [میزان الاعتدال:۳/۴۹۸)
اور شیعی کا نام ونسب اس طرح ہے: ابو جعفر محمد بن جریر بن رستم الطبری [ میزان الاعتدال:۳/۴۹۹،
دونوں کے نام ونسب میں مشابہت کے متعلق حافظ عراقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
شَاركهُ فِي الإسم وَاسم الْأَب والكنية وَالنِّسْبَة،
(یہ–یعنی رافضی–ان کے نام،
یہ فرق یاد رکھنے کے لیے بھی بہت معاون ہے،
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
إنما ضره الاشتراك في اسمه واسم أبيه ونسبه وكنيته ومعاصرته وكثرة تصانيفه [لسان الميزان:۵/۱۰۰]
(یہ نقصان امام طبری کو اپنے نام،
ان تمام امور میں مشابہت کے ساتھ ساتھ بعض علما نے کہا ہے کہ دونوں کی سن وفات بھی ایک ہے۔
شیخ عثمان بن محمد الخمیس فرماتے ہیں کہ دونوں کی وفات سن تین سو دس (۳۱۰) ہجری میں ہوئی ہے۔[حقبۃ من التاریخ لعثمان الخمیس:ص۳۸]
حالانکہ دوسرے علما نے کہا ہے کہ شیعی کی سن وفات امام طبری کے بعد ہے۔[ البلدان لابن الفقیہ کے محقق شیخ یوسف الہادی کا مقدمہ:ص۲۳]
نیز ”تاریخ التراث العربی“(۳/۲۹۱) میں بھی فؤاد سزگین کے کلام سے اسی کا اشارہ ملتا ہے۔
اس رافضی کے متعلق علما نے کافی سخت جرح کی ہے۔حافظ عراقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یہ ایک خبیث رافضی تھا“۔[ذیل میزان الاعتدال:ص۱۷۸]
اور احمد بن علی السلیمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یہ رافضیوں کے لیے-حدیثیں-گھڑتا تھا“۔[میزان الاعتدال:ص۳/۴۹۹]
لیکن افسوس کہ سلیمانی کی اس سخت جرح کو بعض علما نے امام طبری پر جرح سمجھ لیا ہے۔اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ نام ونسبت میں اس طرح کی مشابہت سے کس طرح بڑے بڑے علما بھی التباس اور وہم کے شکار ہو جاتے ہیں۔ان کبار علما میں حافظ ذہبی رحمہ اللہ بھی ہیں جنھوں نے یہ جرح امام طبری کے متعلق سمجھ لیا ہے اور ان کے ترجمہ میں سلیمانی کا یہ قول نقل کیا ہے اور کہا ہے:
أقْذَعَ أحمد بن علي السليماني الحافظ،
(احمد بن علی السلیمانی الحافظ نے طعن وتشنیع سے پُر ہجو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ–یعنی امام طبری–رافضیوں کے لیے–حدیثیں–گھڑتے تھے)
پھر آگے حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے سلیمانی پر رد کیا ہے کہ ان کا یہ قول کذب پر مبنی بلا دلیل محض ایک تہمت ہے کیونکہ امام طبری اسلام کے معتمد کبار ائمہ میں سے ہیں۔پھر آخر میں یہ احتمال ذکر کیا ہے کہ شاید ان کا قول اس ابن جریر کے متعلق ہے جس کا ذکر ان کے بعد آرہا ہے۔یعنی محمد بن جریر بن رستم الرافضی کے متعلق۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس پر نوٹ چڑھاتے ہوئے فرماتے ہیں:
ولو حلفت أن السليماني ما أراد إلا الآتي لبررت والسليماني حافظ متقن كان يدري ما يخرج من رأسه فلا اعتقد أنه يطعن في مثل هذا الإمام بهذا الباطل والله أعلم [لسان الميزان:۵/۱۰۰]
(اگر میں قسم کھاؤں کہ سلیمانی نے آگے آنے والے-ابن جریر-کے علاوہ کسی کو مراد نہیں لیا ہے تو اپنے قسم میں برحق ہوں گا۔سلیمانی حافظ اور متقن ہیں،
اور قاسم بن قطلوبغا رحمہ اللہ حافظ ذہبی کے مذکورہ قول پر نوٹ چڑھاتے ہوئے فرماتے ہیں:
أنت الذي غَلَّظْتَ على السليماني،
(آپ ہی نے سلیمانی پر سختی کی ہے،
حافظ ذہبی ہی کی طرح ابن حیان الاندلسی رحمہ اللہ کو بھی یہ التباس اور وہم ہوا ہے اور انھوں نے بھی سلیمانی کی مذکورہ جرح کو امام طبری پر جرح سمجھ لیا ہے۔یہاں تک کہ امام طبری کو ”امام من أئمۃ الامامیہ“کے وصف سے بھی متصف کر دیا ہے جیسا کہ حافظ ابن حجر نے لسان المیزان (۵/۱۰۰) میں کہا ہے۔
اسی التباس کی وجہ سے بعض لوگوں نے بعض ایسے مسائل جو طبری شیعی نے حسب عادت اہل سنت کے موقف کے برعکس اختیار کیا ہے امام طبری کی طرف منسوب کر دیا ہے۔
ان میں سے ایک مسئلہ وضو میں دونوں پیروں کے دھلنے کا ہے۔روافض کا موقف یہ ہے کہ وضو میں دونوں پیروں پر مسح کیا جائےگا،
اس مسئلے کو بیان کرتے ہوئے بہت سارے علما نے شیعی موقف کے ساتھ امام ابن جریر طبری کا بھی نام ذکر کیا ہے۔[ شرح السنہ للبغوی:۱/۴۲۹،
غالب گمان یہی ہے کہ وہ ابن جریر طبری شیعی کا قول ہے،
حافظ ذہبی رحمہ اللہ امام ابن جریر طبری کے سوانح میں فرماتے ہیں:
بعضهم ينقل عنه أنه كان يجيز مسح الرجلين في الوضوء،
(بعض لوگوں نے ان سے نقل کیا ہےکہ وہ وضو میں دونوں پیروں پر مسح کرنےکو جائز کہتے تھے،
اور علامہ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
إن ابن جرير الطبري رجلان رافضي وسني،
(ابن جریر طبری نام کے دو شخص ہیں،
اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ ابن جریر طبری شیعی کے ترجمے میں فرماتے ہیں:
لعل ما حكي عن محمد بن جرير الطبري من الاكتفاء في الوضوء بمسح الرجلين إنما هو هذا الرافضي فإنه مذهبهم [لسان الميزان:۵/۱۰۳]
(شاید کہ وضو میں دونوں پیروں پر مسح کرنے پر اکتفا کے متعلق محمد بن جریر طبری کا جو قول نقل کیا جاتا ہے وہ اسی رافضی کا قول ہے،
یہی بات حافظ عراقی رحمہ اللہ نے بھی ”ذیل میزان الاعتدال“(ص۱۷۹) میں کہی ہے۔اور علامہ محمد عبد الحی لکھنوی نے ”السعايۃ في كشف ما في شرح الوقايۃ“(ص۱۵۶) میں اسی کی تائید کی ہے۔
اسی طرح مذکورہ التباس کی وجہ سے بعض لوگوں نے طبری شیعی کی بعض کتابیں امام طبری امام اہل سنت کی طرف منسوب کر دی ہیں جن میں بدعات وخرافات کی بھرمار ہے اور جن سے امام طبری بالکل بری ہیں۔ان میں سے بعض کتابیں یہ ہیں:
(۱)بشارة المصطفى
یہ طبری شیعی کی کتاب ہے۔فؤاد سزگین فرماتے ہیں کہ غلطی سے یہ کتاب طبری مؤرخ کی طرف منسوب ہو گئی ہے۔[تاریخ التراث العربی:۳/۲۹۱]
(۲)دَلَائِل الْإِمَامَةِ الْوَاضِحَةِ وَنُور الْمُعْجِزَاتْ
یہ بھی ابن جریر طبری شیعی کی کتاب ہے اور غلطی سے امام طبری کی طرف منسوب ہو گئی ہے۔[حقبۃ من التاریخ:ص۳۸]
(۳)المُسْتَرْشِد في الإمامة
شیعہ عالم آغا بزرگ طہرانی کہتا ہے کہ یہ محمد بن جریر بن رستم بن جریر کی تصنیف ہے لیکن بعض نسخوں میں ”ابن یزید الطبری“لکھا ہوا ہے۔شاید یہ عامی–اس کے بقول–مؤرخ کے ساتھ اشتباہ کی وجہ سے ہوا ہے کیونکہ ان کے اجداد میں ”یزید“ہے۔[الذریعہ الی تصانیف الشیعہ لآقا بزرك الطہرانی:۲۱/۹]
آغا بزرگ طہرانی کے اس قول سے ان شیعوں کی بھی تردید ہو جاتی ہے جو کہتے ہیں کہ امام طبری ہی مشہور شیعہ تھے اور ابن رستم یہ کوئی الگ شخصیت نہیں تھی بلکہ یہ اہل سنت کے اختراع میں سے ہے،
یہاں آغا بزرگ طہرانی کے کلام سے واضح ہے کہ وہ امام محمد بن جریر بن یزید طبری سے اس کتاب کی نفی کر رہا ہے اور ابن رستم سے ثابت کر رہا ہے،
نیز کتاب کے مشمولات سے بھی اس کی خوب تردید ہو جاتی ہے۔چنانچہ طبری شیعی کتاب کے مقدمہ (ص۱۱۱) میں ہی ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت پر طعن وتشنیع کرتے ہوئے کہتا ہے:
احتج قوم من أهل الزيغ والعداوة لله جل ذكره ولرسوله صلى الله عليه وآله أن الخلافة لم تصلح بعد الرسول صلى الله عليه وآله وسلم إلا لأبي بكر بن أبي قحافة بدعواهم أنه كان أفضل الناس بعد رسول الله صلى الله عليه وآله،
اس بدبو دار عبارت سے ہی واضح ہے کہ یہ امام طبری کا کلام نہیں ہو سکتا۔بلکہ یار غار صدیق اکبر کے متعلق ان کا وہی عقیدہ تھا جو اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے۔( ابو بکر وعمر رضی اللہ عنہما کی خلافت پر طعن وتشنیع کرنے والوں کے متعلق ان کا دو ٹوک موقف آگے آ رہا ہے)
مذکورہ التباس کے ساتھ ساتھ اور بھی بعض اسباب وعوامل ہیں جن کی وجہ سے امام طبری پر بعض لوگوں نے شیعیت کا الزام لگایا ہے۔
ان الزام لگانے والوں میں سب سے پیش پیش ابو بکر محمد بن داود ظاہری ہیں جن کے ساتھ ان کے کافی تلخ بحث ومباحثے ہوئے ہیں۔امام طبری نے ان کے والد کے رد میں ایک کتاب تصنیف کی ہے جس کا نام ہے’الرد علی ذی الأسفار‘ جس کے جواب میں ان کے لڑکے ابو بکر محمد نے ’الانتصار من محمد بن جریر‘ نامی کتاب لکھی ہے اور انھیں بہت کچھ برا بھلا کہا ہے اور رافضیت کی تہمت سے متہم کیا ہے۔
اس کتاب کو متعصب حنابلہ کی جانب سے خوب پذیرائی ملی ہے اور انھوں نے امام طبری پر خوب ستم ڈھایا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ امام طبری نے ’فقہا کے اختلاف‘ پرایک کتاب لکھی ہے جس میں امام احمد کا نام نہیں ہے۔جب ان سے پوچھا گیا تو انھوں نے یہ عذر پیش کیا کہ ان کا شمار محدثین میں ہوتا ہے فقہا میں نہیں۔متعصبین حنابلہ کو یہ بات نہایت گراں گزری اور انھوں نے ان کے خلاف مورچہ کھول دیا اور ان پر طرح طرح کے بے جا الزامات لگانے لگے جن میں سرفہرست تشیع کا الزام تھا۔[الکامل فی التاریخ لابن الاثیر الجزری:۸/۱۳۴]
یہ تمام الزامات چونکہ تعصب اور دشمنی پر مبنی تھے اس لیے محققین علما ئے متقدمین نے امام ابن جریر کا خوب خوب دفاع کیا۔
البتہ حافظ ذہبی رحمہ اللہ اور بعض دوسرے لوگوں نے کہا ہے کہ ان میں تھوڑا بہت شیعیت کا اثر تھا۔حافظ ذہبی فرماتے ہیں:
فيه تشيع يسير وموالاة لا تضر[میزان الاعتدال:۳/۴۹۹]
لیکن دوسرے علما نے اس کی بھی نفی کی ہے۔اور یہی راجح بھی ہے۔بلکہ خود حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ”سیر اعلام النبلاء“(۱۴/۲۷۷) میں کہا ہے:
وكان ابن جرير من رجال الكمال،
علامہ ابن اثیر جزری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ادعوا عليه الرفض،
(لوگوں نے ان پر رافضیت اور الحاد کا دعوی کیا ہے۔جس پر علی بن عیسی کہتے تھے کہ اللہ کی قسم اگر ان لوگوں کو رفض والحاد کا معنی پوچھا جائے تو نہ انھیں اس کی پہچان ہوگی نہ سمجھ)
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ اس تہمت کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
نَسَبُوهُ إِلَى الرَّفْضِ،
(لوگوں نے انھیں رافضیت کی طرف منسوب کیا ہے اور بعض جاہلوں نے الحاد کی طرف بھی،
علامہ قاسم بن قطلوبغا رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وأما التشيع فهو رجم بالظن أخذ من تصحيحه حديث غدير خُم،
(جہاں تک امام طبری پر تشیع کا الزام تو یہ ان کے غدیر خم والی حدیث کی تصحیح کی وجہ سے بطور گمان صرف ایک تہمت ہے۔اللہ اعلم)
اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وإنما نبز بالتشيع لأنه صحح حديث غدير خم [لسان الميزان:۵/۱۰۰]
(انھیں تشیع سے اس لیے متہم کیا گیا ہے کیونکہ انھوں نے غدیر خم والی حدیث کو صحیح کہا ہے)
جہاں تک ان کا اس حدیث کو صحیح کہنے کی بات ہے تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ انھوں نے شیعیت کے اثر کی وجہ سے اس کی تصحیح کی ہے،
یہاں یہ بات واضح رہے کہ امام طبری نے اس حدیث کی صرف تصحیح کی ہے اس سے کوئی ایسا نتیجہ اخذ نہیں کیا ہے جیسا روافض کرتے ہیں۔بلکہ خلافت کے مسئلے میں ان کا موقف بالکل واضح ہے اور وہ اہل سنت والجماعت کے منہج کے عین مطابق ہے۔
انھیں تشیع کی تہمت سے متہم کرنے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ انھوں نے علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت پر کتاب تصنیف کی ہے۔لیکن دیکھا جائے تو یہ کوئی عیب کی بات نہیں،
اس سبب کی تردید اس سے بھی ہوتی ہے کہ انھوں نے جہاں علی رضی اللہ عنہ کے فضائل پر کتاب لکھی ہے وہیں ’کتاب الفضائل‘ بھی لکھی ہے جس میں سب سے پہلے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی فضیلت بیان کی ہے،
خلفائے راشدین کی یہ ترتیب اہل سنت والجماعت کی متفقہ ترتیب کے عین مطابق ہے۔اور کسی شیعی سے اس بات کی قطعا امید نہیں کی جاتی کہ وہ خلفائے راشدین کی یہ ترتیب بیان کرے۔
بلکہ حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ نے ان کے متعلق ایک ایسا واقعہ بیان کیا ہے جس سے اس کی مزید تردید ہو جاتی ہے: ابو جعفر طبری کی ایک مجلس میں علی رضی اللہ عنہ کا ذکر چھڑ گیا،
من قال: إن أبا بكر وعمر ليسا بإمامَي هدى أيش هو؟ قال: مبتدع،
(جو کہے ابو بکر وعمر دونوں ائمہ ہدی نہیں ہیں تو وہ کون ہے؟ ابن اعلم نے جواب دیا–جیسا کہ اس کے سیاق سے پتہ چلتا ہے–وہ متبدع ہے۔جس پر طبری نے انکار کرتے ہوئے کہا: وہ صرف مبتدع ہے! صرف مبتدع ہے! وہ تو قتل کیے جانے لائق ہے۔جو کہے ابو بکر وعمر ائمہ ہدی نہیں ہیں اسے قتل کیا جائے،
کیا اس صراحت کے بعد بھی کوئی کہہ سکتا ہے کہ انھوں نے تشیع کے اثر کی وجہ سے فضائل علی پر کتاب لکھی ہے؟ یا حدیث غدیر خم کی تصحیح کی ہے؟ قطعا نہیں۔
انھیں تشیع سے متہم کرنے کی ایک تیسری وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ انھوں نے اپنی ’تاریخ‘ میں صحابہ کرام کے متعلق ابو مخنف،
اور یہ صرف ان کا نہیں بلکہ اس دور کے اکثر وبیشتر مؤرخین کا منہج رہا ہے،
لہذا ان بے بنیاد دلیلوں کی بنا پر انھیں شیعیت سے جوڑنا قطعا جائز نہیں۔وہ بالاتفاق اہل سنت والجماعت کے امام ہیں۔انھوں نے اپنی ’صریح السنہ‘نامی کتاب میں اپنے عقائد کو خوب واضح کرکے بیان کر دیا ہے،
اللہ تعالی ان کے علم سے ہمیں کما حقہ فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے،





