تحریر: محمد نور الإسلام مدنی
ترجمہ: آصف تنویر تیمی
جن اعاظم نے دنیا کے مکتبات کو اپنی تصنیفات،
ذیل میں مولف اور کتاب سے متعلق چند اہم معلومات تحریر کی گئی ہیں:
نام ونسب:
آپ کا نام ونسب مسلم بن حجاج بن مسلم بن ورد بن کوشاذ قشیری نیساپوری ہے۔
ولادت:
آپ کی تاریخ ولادت کے تعلق سے مورخین کی متعدد رائے ہے،
سکونت:
آپ نے خراسان کے شہر نیساپور کو اپنا وطن بنایا،
نشو ونما:
آپ کی نشو ونما اور پرورش وپرداخت ایسے گھر اور ماحول میں ہوئی جو علم ورفعت میں عالی مقام تھا۔آپ کے والد علم وفضل سے مالا مال اور علم دوست انسان تھے۔آپ بزاز کے پیشے سے منسلک تھے،
اخلاق وعادات:
آپ بلند ہمت اور نشیط انسان تھے۔بڑی محنت سے فن حدیث کا علم حاصل کیا،
دوسروں کے ساتھ ہمدردی میں کوئی آپ کا نظیر نہ تھا،
علمی مقام ومرتبہ:
آپ نے بارہ سال کی عمر سے سماع حدیث کا آغاز کیا۔اول وہلہ میں آپ نے اپنے علاقے کے جید علماء ومحدثین سے کسب فیض کیا جن میں یحیی بن بُکیر تمیمی نیساپوری،
اس زمانے میں محدثین چار مقاصد کے تحت علمی اسفار کیا کرتے تھے:
(۱)حصول حدیث(۲)حدیث کی چھان بین(۳)سند عالی کا حصول(۴)رواة حدیث کے احوال کی معرفت۔
مذکورہ اہداف کے پیش نظر امام مسلم رحمہ اللہ نے ذیل کے علمی شہروں کا سفر کیا:
حجاز:
یہاں آپ نے اسماعیل بن اویس،
عراق:
یہاں آپ نے علی بن نصر جھضمی،
ری:
یہاں آپ نے محمد بن مہران جمال اورابو غسان محمد بن عمرو زُنیجا وغیرہ سے حدیثیں سنیں۔
مصر:
یہاں آپ نے حرملہ بن یحیی،
شام:
آپ کے شام کے اساتذہ میں محمد بن حماد سکسکی اور ولید بن مسلم وغیرہ کا نام قابل ذکر ہے۔
عقیدہ ومنہج:
آپ سلف کے عقیدے پر کار بند تھے۔آپ کا منہج وہی تھا جو آپ کے مشائخ واساتذہ امام بخاری،
لوگوں کے تعریفی کلمات:
ابن ابی حاتم کہتے ہیں: آپ ثقہ حفاظ حدیث میں سے تھے۔
خطیب بغدادی کہتے ہیں: آپ کا شمار حفاظ حدیث کے ائمہ میں ہوتا تھا۔
سمعانی کہتے ہیں: آپ (علمی)دنیا کے ایک امام تھے۔
ابن خلکان کہتے ہیں: آپ حفاظ حدیث میں سے ایک اور محدثین کے سرخیل تھے۔
ان کے علاوہ امام ذہبی،
مشائخ:
علمی اسفار کے ضمن میں امام مسلم کے بعض اساتذہ کا ذکر ہوا ہے،
شاگردان:
آپ کے بے شمار تلامذہ ہیں ان میں سے ذیل کے سطور میں مشاہیر کے ناموں پر اکتفا کیا جاتا ہے:
(۱)ابراہیم بن ابی طالب
(۲)ابراہیم بن محمد بن سفیان نیساپوری
(۳)احمد بن حمدون بن احمد أعمشی
(۴)احمد بن سلمہ بن عبد اللہ نیساپوری
(۵)محمد بن اسحاق بن خزیمہ
(۶)ابو عیسی ترمذی
(۷)ابو عوانہ إسفرائينی
تالیفات وتصنیفات:
امام مسلم کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جنھوں نے بکثرت کتابیں لکھیں،
جو کتابیں ہم تک پہنچی ان میں سے چند یہ ہیں:
(۱)اسماء الرجال
(۲)الأسماء والکنی
(۳)الکنی والأسماء
(۴)کتاب التمییز
(۵)الجامع
(۶)رجال عروة بن الزبير وجماعة من التابعين
(۷)الصحيح
(۸)الطبقات
(۹)المسند الصحيح المعروف بصحيح مسلم
(۱۰)المنفردات والوحدان
(۱۱)من ليس له إلا راو واحد
(۱۲)الوحدان
وفات:
امام مسلم رحمہ اللہ کا انتقال نیساپور میں ۲۵؍رجب۲۶۱ھ اتوار کی شام،
کہا یہ بھی جاتا ہے کہ آپ ایک حدیث کی تلاش میں سرگرداں رہے،
صحیح مسلم:
آپ کی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ صحیح مسلم کی تدوین ہے،
صحیح مسلم کا مکمل نام:
المسند الصحیح المختصر من السنن بنقل العدل عن العدل عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ہے۔
مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ صحیح بخاری کو صحیح مسلم پر متعدد وجہوں سے فضیلت حاصل ہے۔اس لیے کہ امام بخاری نے اپنی صحیح میں راویوں سے حدیث لینے کی جو شرطیں رکھی ہیں وہ امام مسلم کی شرطوں سے کہیں سخت ہیں،
صحیح مسلم کے خصائص وفضائل:
اس ضمن میں امام نووی لکھتے ہیں: جو بھی صحیح مسلم پر غائر نگاہ ڈالے گا،
یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا
ہر مدعی کے واسطے دار ورسن کہاں
امام نووی ہی کہتے ہیں: امت کا صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی صحت اور ان کی حدیثوں پر عمل کے وجوب پر اتفاق ہے۔
امام ابن تیمیہ کہتے ہیں: اہل علم اس پر متفق ہیں کہ قرآن کریم کے بعد صحیح بخاری اور صحیح مسلم سے صحیح کوئی کتاب نہیں۔
سبب تالیف:
دو سبب اہم ہیں:
(۱)امام مسلم کے شاگرد حافظ احمد بن سلمہ ان کے پاس آئے اور ان سے دین کی معرفت سے متعلق چند ماثور حدیثوں کا مطالبہ کیا،
(۲)امام مسلم نے حدیثوں سے شغف اور محبت میں صحیح حدیثوں کے جمع کرنے کا بیڑا اٹھایا تاکہ لوگوں کو منکر اور ضعیف روایتوں سے دور رکھا جاسکے۔
مدت تالیف:
کل پندرہ سال کے عرصے میں امام مسلم نے اپنی صحیح کو جمع کیا،
جائے تالیف:
حافظ ابن حجر نے فتح الباری کے مقدمہ میں اس بات کی وضاحت کی ہے امام مسلم نے اپنی صحیح کی تالیف اپنے زمانے کے بڑے بڑے محدثین کی موجودگی میں شہر نیساپور میں کی۔
شروحات:
عربی و اردو میں صحیح مسلم کی بے شمار شرحیں موجود ہیں۔صرف عربی شرحوں کی تعداد۶۴ ہے۔اردو اور دیگر زبانوں کی شرحیں ان کے علاوہ ہیں۔
ذیل میں کچھ مشہور عربی شروحات کے نام درج کیے جاتے ہیں:
(۱)المعلم بفوائد كتاب صحيح مسلم،
(۲)إكمال المعلم في شرح صحيح مسلم،
(۳)المنهاج في شرح الجامع الصحيح. لمسلم بن الحجاج،
(۴)إكمال إكمال المعلم،
(۵)مكمل إكمال الكمال،
(۶)الديباج على صحيح مسلم بن الحجاج،
(۷)السراج الوهاج من كشف مطالب صحيح مسلم بن الحجاج،
(۸)منة المنعم شرح صحيح مسلم،
(۹)فتح الملھم بشرح صحیح مسلم،
صحیح مسلم کی تالیف کے بعد سے اب تک اس کتاب کی خدمت مختلف طریقے سے جاری ہے،
اللہ تعالی ہم سب کو اس عظیم کتاب سے بھرپور استفادہ کرنے کی توفیق بخشے۔آمین





