بعض کلمات اپنے غلط یا مرجوح ضبط کے ساتھ معاشرے میں مشہور ہوجاتے ہیں اور ہم انھیں جس طرح سنتے ہیں بلا تأمل وتحقیق اسی طرح ادا بھی کرتے ہیں۔انھی میں سے ایک لفظ "خطۃ البحث" ہے۔
استاد محترم شیخ عبد الباری بن حماد انصاری اور کلیۃ الحدیث جامعہ اسلامیہ مدینہ طیبہ کے دیگر اساتذہ حفظہم اللہ نے کئی بار کلاس میں اس لفظ پر ہمیں تنبیہ کی ہے۔شیخ عبد الباری حفظہ اللہ نے ایک مقالہ میں بھی اسے بیان کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کا صحیح ضبط خا کے کسرہ کے ساتھ ”خِطَّہ“ہے۔
اکثر طلبہ اور باحثین اسے خا کے ضمہ کے ساتھ "خُطَّہ" پڑھتے ہیں جو کہ وجیہ نہیں۔خِطَّہ یہ تخطیط کے معنی میں ہے۔مکانات کی تعمیر کے لیے ایک انجینئر جو نقشے تیار کرتا ہے اسے خِطَّہ کہتے ہیں۔اور یہی لفظ ہم علمی بحوث کی تخطیط کے لیے استعمال کرتے ہیں۔لہذا یہ خا کے کسرہ کے ساتھ خِطَّہ ہے،
اسی ضبط کے ساتھ بہت ساری کتابوں کے نام بھی موجود ہیں،
اور جہاں تک لفظ خُطَّہ کی بات ہے تو وہ عربی زبان میں "الأمر العظيم،
حدیث میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں آیا ہے جسے قاضی عیاض،
صحیح بخاری (٣/١٩٣،
خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الحُدَيْبِيَةِ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ،
اس میں محل شاہد آخری جملہ ”لاَ يَسْأَلُونِي خُطَّةً“ ہے،
قَوْله: (لَا يَسْأَلُونِي خُطَّةً) بِالضَّمِّ, أَي: قصَّة وَأمر [مشارق الأنوار على صحاح الآثار:١/٢٣٥]
اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
قَوْلُهُ: (لَا يَسْأَلُونَنِي خُطَّةً) بِضَمِّ الْخَاءِ الْمُعْجَمَةِ،
اور علامہ عینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
قَوْله: (خُطَّةً) بِضَم الْخَاء الْمُعْجَمَة وَتَشْديد الطَّاء،
بعض باحثین نے خا کے ضمہ کے ساتھ "خُطۃ البحث" بھی کہا ہے لیکن دلائل خا کے کسرہ والے ضبط کی ہی تائید کرتے ہیں۔
اس لیے راجح تلفظ کے ساتھ اسے "خِطَّۃ البحث" ہی پڑھنا چاہیے۔واللہ اعلم





