تلخیص و ترجمہ از مقالۃ ”أديب العربية الشيخ علي الطنطاوي“ بقلم: الأستاذ محمد وثيق الندوي-ملاحظہ ہو”رجال من التاریخ“ لعلي الطنطاوي ص ۱-۱۴. ط: احسان بکڈپو لکھنؤ (۲۰۰۹م). وتاريخ العربية وآدابها لمحمد الفاروقي ومحمد إسماعيل المجددي ص ۱۸۹. والمسلمون فی الہند للشیخ ابی الحسن الندوی (مقدمہ از علی طنطاوی)
استاذ علی بن مصطفی بن محمد طنطاوی جون۱۹۰۹ءمیں دمشق میں پیدا ہوئے۔آپ کا گھرانہ دینی و علمی اعتبار سے شہرت رکھتا تھا۔آپ کے والد اور دادا دونوں معروف عالم دین اور چچا ازہری عالم تھے۔آپ کے ماموں علامہ سید محب الدین الخطیب(متوفی۱۳۸۹ھ)معروف و مشہور مؤرخ اور صحافی،
دس سال کی عمر میں والد محترم کا سایہ سر سے اٹھ چکا تھا،
دادیہال اور نا نیہال کے خالص علمی ماحول نے آپ کی شخصیت کے بننے،
استاد علی طنطاوی نے جملہ علوم و فنون کی کتابیں مطالعہ کیں۔ادب وتاریخ،
صحافت سے آپ کا تعلق نوعمری ہی سے ہو گیا تھا۔۱۹۲۶ءمیں جریدۃ ’’المقتبس‘‘ میں آپ کا پہلا مقالہ شائع ہوا۔اس وقت آپ کی عمر صرف سترہ(۱۷) سال تھی۔آپ کے مقالات آپ کے ماموں علامہ سید محب الدین الخطیب کے دومجلے ’الفتح‘ اور ’الزھراء‘ میں اور جریدہ ’فتی العرب،
صحافت کی طرح تدریسی میدان میں بھی آپ نے اوائل عمری میں ہی قدم رکھ دیا تھا۔۱۳۴۵ھ سے کچھ پرائیویٹ مدرسوں میں تدریسی خدمات انجام دینے کے بعد ۱۹۳۱ءمیں حکومت کے مدارس میں ابتدائی معلم ہوگئے۔فرانسیسی استعمار اور حکومت میں اس کے اعوان وانصار کے خلاف پوری جرأت اور بے باکی سے آواز اٹھانے کے جرم میں بکثرت ٹرانسفر کیا گیا۔اس طرح آپ نے پورے سیریا کا ایک جانب سے دوسری جانب تک چکر لگایا۔۹۳۶ءمیں آپ عراق منتقل ہو گئے اور بغداد،
استاذ طنطاوی ۱۹۴۱ء میں جج بنائے گئے پھر ۱۹۴۳ء سے ۱۹۵۳ء تک ممتاز وفائق جج کے مقام سے سرفراز رہے،
۱۹۶۳ءمیں فوجی انقلاب اور ایمرجنسی کے اعلان کے بعد آپ سیریا سے سعودیہ عربیہ آ گئے اور ۱۹۹۹ءمیں اپنی وفات تک ۳۵ سال کا طویل عرصہ سعودیہ ہی میں گزارا۔اس طویل مدت میں آپ نے ریاض کے کلیۃ الشریعۃ اور کلیۃ اللغۃ العربیۃ کو اپنی خدمات پیش کیں پھر مکہ مکرمہ کے کلیۃ التربیۃ میں مدرس رہے۔التوعیۃ الإسلامیۃ کے پروگراموں کے لیے پرجوش رہتے۔طلبہ کے افادہ کے لیے وہاں کے مدارس و جامعات میں اپنے دروس ولکچرز کا اہتمام کرتے۔عام لوگوں کی رہنمائی اور ان کے سوالات کے جواب کے لیے حرم مکی اور اپنے گھر میں بیٹھتے۔پھر آپ نے ریڈیو پہ ’’مسائل ومشکلات‘‘ کے عنوان سے اور ٹیلی ویژن پہ ’نور وہدایۃ،
استاذ طنطاوی کو عالم اسلامی وعربی اور یورپین ممالک کی کانفرنسوں میں شرکت کے لیے بکثرت دعوت نامے موصول ہوتے اور آپ ان میں شرکت بھی کرتے۔۱۹۹۰ء میں آپ اپنی متنوع خدمات کے اعتراف میں شاہ فیصل ایوارڈ سے سرفراز کیے گئے۔
استاذ طنطاوی نے دینی،
دیگر زبانوں سے منتقل ہو کر عربی زبان میں داخل ہونے والے کلمات کے متعلق استاذ طنطاوی کا نظریہ یہ تھا کہ ان کی تعریب یا بدیل ڈھونڈنے کے بعد ہی ان کا استعمال کیا جانا چاہیے جیسے لفظ ’ٹیلیفون‘کا بدیل لفظ ’الرائی‘اور لفظ ’ریڈیو‘کا بدیل لفظ ’الراد‘اختیار کیا گیا اور لفظ ’کیلو‘ کی تعریب لفظ ’کیل‘ کے ذریعہ کی گئی۔شیخ نے ہمیشہ فصیح زبان،
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ استاذ طنطاوی پہلے وہ شخص ہیں جنھوں نے نبیﷺکی سیرت کی روشنی میں’ابو جہل‘کے عنوان سے ایک اسلامی ڈرامہ تحریر کیا۔توفیق الحکیم کا ڈرامہ ’محمد ﷺ‘ آپ کے ڈرامے کے بعد لکھا گیا ہے۔گویا آپ نےرسول اللہ ﷺ کے متعلق ڈرامہ نگاری کا ایک قابل اتباع نمونہ فراہم کیا۔اس ایک ڈرامہ کے بعد آپ نے کوئی ڈرامہ نہیں لکھا۔شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ آپ نے توفیق الحکیم کو سیرت کے واقعات پیش کرنے میں مُلْہَم اور اپنا ترجمان پایا۔لہٰذا آپ نے اپنی توجہ قصہ وکہانی کی طرف مبذول کرلی۔قصہ نگاری اور أحداث وواقعات کا سراپا پیش کرنے میں انسانی زندگی کے مراحل اور ان کی نفسیات کا پورا پورا خیال رکھا۔
اسلوب تحریر:
شیخ کا اسلوب تحریر مفید،
استاذ طنطاوى رومانوی ادب کے سخت مخالف تھے۔اس کی قباحتوں اور اس کے منفی پہلوؤں کو طشت ازبام کرتے ہوئے آپ نے شعراء وادباء کو اس بات پر ابھارا ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو اچھائیاں عام کرنے میں لگائیں۔وہ برائیوں سے صرف نظر کرکے صرف اچھائیاں اخذ کریں اور انھی کی نشرواشاعت کی کوشش کریں چنانچہ آپ فرماتے ہیں:
”الدنيا ليل ونهار،
لا تعش لنفسك وحدها،
”... ودعونا من أدب لامارتين وموسية“.
” دنیا میں رات کے ساتھ دن بھی ہے،
” اپنے لیے صرف نہ جیو بلکہ اپنے ساتھ اپنی قوم کے لیے بھی جیو،
” لامارٹین اور موسیہ کے ادب سے ہمیں دور رکھو“۔
شیخ علی طنطاوی۱۳۸۱ھ سے قبل ہندوستان تشریف لائے تھے۔مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ سے آپ کے گہرے روابط تھے۔مولانا کی کتاب ’المسلمون فی الہند‘ کے لیے آپ نے اپنے خاص اسلوب میں مقدمہ لکھا ہے۔مقدمہ میں مختصر روداد سفر،
طنطاوی اور ادب اسلامی:
استاذ طنطاوی کے نزدیک ادب اسلامی وہ ادب ہے جو ادب کی شرطوں اور اس کے عناصر کا جامع ہو۔یعنی اس کا تعلق اصناف ادب میں قصیدہ،
علماء کے اعترافات:
استاذ علی طنطاوى کی ہمہ جہت خدمات کا اعتراف عالم اسلام کی بہت سی نامور شخصیات نے کیا ہے اور انھیں بہ نظر استحسان دیکھا ہے،
مولانا ابوالحسن علی ندوی طنطاوی رحمہ اللہ کے متعلق فرماتے ہیں:
’’استاذ علی طنطاوى عصرحاضر کے عظیم ادیب وانشا پرداز ہیں۔ان کی تحریر حسن لطافت،
معروف شاعر وادیب عباس محمود العقاد کہتے ہیں:
” جو شخص بھی اس وہبی ملکہ رکھنے والے مقرر کی تقریریں سنے گا وہ یہ جان لے گا کہ لفظی وحسی اعتبار سے طریقۂ بیان وطرز تکلم ان ہی پر ختم ہے جیسا کہ برجستگی اور عمدگی بھی انھی پر تمام ہے“۔
استاذ طنطاوی نے دنیا کو بہت کچھ عطا کیا۔مختلف دینی وسیاسی،
تالیفات:
(۱)رسائل الإصلاح،
(۲)بشار بن برد،
(۳)رسائل سيف الإسلام،
(۴)الهيثميات،
(۵)في التحليل الأدبي،
(۶)عمر بن الخطاب،
(۷)كتاب المحفوظات،
(۸)في بلاد العرب،
(۹)من التاريخ الإسلامي،
(۱۰)أبوبكر الصديق،
(۱۱)قصص من التاريخ،
(۱۲)رجال من التاريخ،
(۱۳)صوروخواطر،
(۱۴)قصص من الحياۃ،
(۱۵)في سبيل الإصلاح،
(۱۶)دمشق،
(۱۷)أخبارعمر،
(۱۸)مقالات في كلمات،
(۱۹)من نفحات الحرم،
(۲۰)هتاف المجد،
(۲۱)من حديث النفس،
(۲۲)الجامع الأموي،
(۲۳)في إندونيسيا،
(۲۴)فصول إسلامية،
(۲۵)صيد الخاطر لابن الجوزي،
(۲۶)فكرومباحث،
(۲۷)مع الناس،
(۲۸)بغداد،
(۲۹)سلسلۃ حكايات من التاريخ،
(۳۰)سلسلة أعلام التاريخ،
(۳۱)فتاوى علي الطنطاوي،
(۳۲)تعريف عام بدين الإسلام،
(۳۳)ذكريات علي الطنطاوي (۸جلدیں)
(۳۴)قصة حياة عمر،
(۳۵)فصول اجتماعية،
(۳۶)سيد رجال التاريخ،





