منہج سلف کا مفہوم:
’’سلف‘‘ عربی زبان کا ایک کثیر الاستعمال لفظ ہے،
ابن منظور سلف کی تشریح کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:
سلف ان گزرے ہوئے آباء واجداد اور قرابت داروں کو کہا جاتا ہے جو علم وفضل اورعمر میں فوقیت رکھتے ہیں۔(لسان العرب: ۹؍۱۵۹)مزید ایک معنی یہ بھی بتلایا گیا ہے: ہروہ عمل صالح جسے انسان نے پہلے بھیج رکھا ہو۔(المعجم الوسیط: ۱؍۴۴۴)
قرآن کریم میں اس لفظ کے مشتقات بکثرت وارد ہوئے ہیں،
فجعلنا ھم سلفا ومثلا للآخرین (الزخرف:۲۶) ہم نے انھیں بعد میں آنے والوں کے لیے پیش رو اور نمونۂ عبرت بنادیا۔
اس مختصر لغوی تشریح سے معلوم ہوگیا کہ لغت میں سلف کا اطلاق عموما گزرے ہوئے آباء واجداد (پرکھوں) پر ہوتا ہے خواہ وہ نیک ہوں یا بد،
من یرجع فی الأحکام الشرعیۃ إلی الکتاب والسنۃ،
سلفیت مصدر صناعی ہے،
سلف کے اصطلاحی مفہوم کی تعیین وتحدید میں علماء کی مختلف آراء بیان کی جاتی ہیں،
منہج یا منہاج بالکل سیدھے راستے کو کہتے ہیں جس میں تھوڑا سا بھی ٹیڑھاپن اور کجی نہ ہو،
لکل جعلنا منکم شرعۃ ومنہاجا (المائدۃ:۴۸)یعنی تم میں سے ہر ایک کے لیے ہم نے ایک دستور اور طریقے مقرر کردیے ہیں۔اورسلف سے مراد بالخصوص صحابۂ کرام اور بالعموم قرون اولیٰ مفضلہ ہیں (فتاویٰ اللجنۃ الدائمۃ: ۱؍۲۴۲) جن کا راستہ ہدایت سے آراستہ ہے،
منہج سلف کی ضرورت واہمیت:
جس طرح ادیان ومذاہب میں عنداللہ صرف خالص دین اسلام مقبول ہے،
واتبع سبیل من أناب إلیّ (لقمان: ۱۵)اور تم اس کی پیروی کرو جو میری طرف راغب ہوئے۔
اللہ تعالیٰ نے صحابہ کے ایمان کی طرح ایمان لانے پر ہدایت رکھی ہے،
فإن آمنوا بمثل ما آمنتم بہ فقد اہتدوا(البقرۃ: ۱۳۷)تو اگر وہ ایمان لائے جس طرح تم ایمان لائے ہو تو یقینا ہدایت پر رہیں گے۔
اللہ تعالیٰ نے اتباع سلف پر کامیابی کی بشارت سنائی ہے،
والسابقون الأولون من المھاجرین والأنصاروالذین اتبعوہم بإحسان رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ وأعدّلہم جنات تجری تحتہا الأنہار خالدین فیہا أبداً ذلک الفوز العظیم (التوبۃ:۱۰۰)
صحابہ کرام کی خلاف ورزی جہنم رسید کردیتی ہے،
ومن یشاقق الرسول من بعد ماتبین لہ الہدی ویتبع غیر سبیل المؤمنین نولّہ ماتولّی ونصلہ جہنم وساء ت مصیرا (النساء: ۱۱۵)
امت کی بہتری سلف کی پیروی میں ہے،
لن یصلح آخر ہذہ الأمۃ إلا بما صلح بہ أولہاکہ اس امت کے آخری طبقے کو وہی راستہ درست کرے گا جس نے اس کے پہلے طبقہ کو درست کیا تھا۔(مجموع الفتاویٰ لابن تیمیہ: ۱؍۲۳۱)
قرآن وسنت کے نصوص،
(۱)دین فہمی اور دین پر عمل کرنے کے لیے منہج سلف اور فہم سلف اختیار کرنا کوئی اختیاری بات نہیں بلکہ ایک لازمی فریضہ ہے۔
(۲)منہج سلف ہی صراط مستقیم ہے،
اللہ تعالیٰ ہم مسلمانوں کو منہج سلف کی روشنی میں اتباع کتاب وسنت کی توفیق دے۔آمین یا رب العالمین!





