یہ بات مسلم ہے کہ اسلام کے اہم مقاصد میں سے انسانی اعمال و اخلاق کی درستگی،
قرآن کریم میں مسلمانوں کو بار بار بہترین صفات سے آراستہ ہونے کی تاکید کی گئی ہے۔مثلا یہ بتایا گیا ہے کہ دشمن سے اچھا سلوک کرو وہ تمھارا دوست بن جائے گا۔( فصلت:۳۵ ) نبیﷺ سے خطاب کرتے ہوئے کہاگیا ہے: اے نبی اگر آپ سخت دل ہوتے تو لوگ آپ سے کنارہ کش ہوجاتے۔(آل عمران:۱۵۹)ایک جگہ فرمایا گیا کہ اے نبی بے شک آپ اخلاق حسنہ کے اعلیٰ مقام پر فائز ہیں۔(القلم:۴)
کسی فرد یا قوم کی تعمیر میں سب سے بڑا رول اس کی قوت ایمانی اور اخلاق وکردار کا ہے۔یہ شخصیت کو زندگی اور زندگی کو حسن وتوانائی عطا کرتاہے۔اس کے بغیر دنیا میں نہ کوئی پنپ سکتا ہے اورنہ ترقی کرسکتا ہے،
ایک بار فرمایا: میں عمدہ اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہوں(البخاری فی الادب المفرد) ابن خلدون کہتے ہیں کہ دنیا میں عروج و ترقی حاصل کرنے والی قوم ہمیشہ اچھے اخلاق کی مالک ہوتی ہے جب کہ برے اخلاق کی حامل قوم زوال پذیر ہوجاتی ہے۔
نبیﷺ کی پوری حیات مبارکہ اخلاق حسنہ کا نمونہ اور پیکر جمیل ہے۔صحابہ کرام آپ کے اخلاق وکردار سے متاثر ہوکر جوق در جوق حلقہ بگوش اسلام ہوتے چلے گئے۔اور پھر صحبت نبویﷺ کے فیض یافتہ صحابہ کرام دنیا کے جس گوشے میں گئے انھوں نے سامنے والوں کے ذہن ودماغ پر اچھے اور نیک انسان کی چھاپ چھوڑی،
لیکن مقام افسوس ہے کہ آج مسلمان اپنے گفتار وکردار میں کسی بھی اعتبار سے اسلام کے نقیب وترجمان نہیں بلکہ اس کے برعکس ان کے عادات واطوار اورعام رویوں نے اسلام کی نشر واشاعت کی راہ میں بڑی رکاوٹیں کھڑی کردی ہیں۔جتنی بھی قسم کی اخلاقی خرابیاں ہوسکتی ہیں وہ مسلمانوں اورمسلم معاشرے میں زیادہ مقدار میں پائی جاتی ہیں۔بقول اقبال: ’’یہ مسلماں ہیں جنھیں دیکھ کر شرمائیں یہود‘‘۔جھوٹ،
تقریر سے ممکن ہے نہ تحریر سے ممکن
وہ کام جو انسان کا کردار کرے ہے
لہٰذا امت مسلمہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ نبوی اخلاق وکردار سے خود کو آراستہ کریں یا کم از کم کوئی ایسا کام نہ کریں جو اسلام اور مسلمانوں کی بدنامی کا باعث بنے۔اگر ہم خود کو بدل لیتے ہیں تو دنیا کو ہمیں بدلنے کی ضرورت نہیں،
آج ہمیں شکایت ہے کہ ہمارے گرد وپیش کے حالات وظروف ہمارے خلاف ہیں۔لوگ ہمیں مٹانے پر تلے ہوئے ہیں۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم خود اپنے وجود اور اپنی شناخت کے دشمن ہیں۔





