صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال،
اسی طرح ہمارے علمائے کرام نے ان خوش نصیب حضرات کے حالات بھی قلمبند کیے ہیں جن کی شکل وصورت پیارے نبی سے ملتی تھی،
اگر ہم اپنے گرد وپیش کا جائزہ لیں تو پائیں گے کہ بہت سارے حضرات عادات واطوار اور وضع قطع میں اپنے محبوب اداکار،
(۱)ابراہیم رضی اللہ عنہ بن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم کو دیکھا ہے؟ تو آپ نے جواب دیا:
نَعَمْ،
علامہ ہیثمی اس کی سند کے متعلق فرماتے ہیں:
رواه الطبراني في الأوسط،
اس میں محل شاہد ابراہیم رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مشابہ قرار دینا ہے۔حافظ ابن حجر اور دوسرے علما نے اس بات کی صراحت کی ہے کہ ان کی شکل وصورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ تھی۔[فتح الباری:۷/۵۰۷،
(۲)نواسہ رسول حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ
امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی ”صحیح“(حدیث نمبر:۳۷۵۰)میں عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث روایت کی ہے،
رَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،
اسی طرح انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،
لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَشْبَهَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ(حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے زیادہ اور کوئی شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ نہیں تھا) [صحیح بخاری،
(۳)نواسہ رسول حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ
امام بخاری رحمہ اللہ نے ہی اپنی ”صحیح“(حدیث نمبر۳۷۴۸) میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے،
أُتِيَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ بِرَأْسِ الحُسَيْنِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ،
اگر انس رضی اللہ عنہ کی مذکورہ دونوں احادیث پر غور کریں تو بظاہر تعارض معلوم ہوتا ہے؛
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری (۷/۹۶-۹۷) میں ان دونوں روایتوں کے مابین یہ تطبیق دی ہے کہ حسن رضی اللہ عنہ کے متعلق انس رضی اللہ عنہ کا یہ قول حسن رضی اللہ عنہ کی زندگی میں تھا۔حسن رضی اللہ عنہ کی مشابہت حسین سے زیادہ تھی۔لیکن ان کی وفات کے بعد حسین ہی سب سے زیادہ مشابہت رکھنےوالے تھے۔
ایک دوسری تطبیق یہ دی گئی ہے کہ حسن رضی اللہ عنہ کی مشابہت بعض اعضامیں زیادہ تھی اور حسین رضی اللہ عنہ کی بعض دوسرے اعضا میں۔اس کے لیے بطور دلیل علی رضی اللہ عنہ کا یہ قول پیش کیا جاتا ہے:
الحَسَنُ أَشْبَهُ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ الصَّدْرِ إِلَى الرَّأْسِ،
لیکن اس کی سند متکلم فیہ ہے۔علامہ البانی رحمہ اللہ نے ”التعلیقات الحسان علی صحیح ابن حبان“ (۱۰/۹۷) حدیث نمبر (۶۹۳۵) میں اسے ضعیف قرار دیا ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی تائید ایک دوسری روایت سے ہوتی ہے جسے امام اسماعیلی نے روایت کیا ہے،
كان أشبهَهم وجهًا بالنبي صلى الله عليه وسلم [فتح الباری:۷/۹۷](حسن رضی اللہ عنہ چہرے کے اعتبار سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مشابہت رکھنے والے تھے)
امام اسماعیلی کی مستخرج مطبوع نہیں ہے،
(۴)جعفر الطیار بن ابی طالب رضی اللہ عنہ
آپ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے سگے بھائی ہیں۔علی رضی اللہ عنہ سے دس سال بڑے تھے۔[دیکھیں: معرفۃ الصحابہ لابی نعیم:۲/۵۱۱]
جنگ موتہ میں اکتالیس سال کی عمر میں شہید ہوئے۔[الاستیعاب لابن عبد البر:۱/۲۴۵]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ان کے متعلق فرمایا ہے:
أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي(تم صورت اور عادات و اخلاق سب میں مجھ سے مشابہ ہو) [صحیح بخاری،
”خَلقی“ کی تشریح کرتے ہوئے علامہ مبارکپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
أَمَّا الْخَلْقُ فَالْمُرَادُ بِهِ الصُّورَةُ،
اور ”خُلُق“سے مراد عادت واخلاق ہے۔یہ جعفر رضی اللہ عنہ کے لیے بہت بڑی منقبت اور فضیلت ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے متعلق خود اللہ تعالی نے فرمایا ہے:
وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ (اور بے شک آپ بہت اونچے اخلاق پر فائز ہیں) [فتح الباری:۷/۵۰۷]
(۵)عبد اللہ بن جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ
ان کے متعلق بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
وَأَمَّا عَبْدُ اللهِ فَشَبِيهُ خَلْقِي وَخُلُقِي (عبد اللہ شکل وصورت اور عادات واخلاق میں میرے مشابہ ہیں)
امام احمد نے اپنی مسند (۳/۲۷۹،
(۶)عون بن جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ
ان کے متعلق بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
وَأَمَّا عَوْنٌ فَشَبِيهُ خَلْقِي،
امام طبرانی نے ”المعجم الکبیر“(۲/۱۰۵،
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری (7/507) میں ان کے متعلق کہا ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہت رکھتے تھے۔
ابو العباس احمد شہاب الدین الرملی الدمشقی نے بھی اپنے قصیدے میں ان لوگوں کی فہرست میں ان کا نام ذکر کیا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح دکھتے تھے۔[دیکھیں:سبل الہدی والرشاد للصالحی الشامی:۲/۱۱۵]
(۷)قُثَم بن عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ
یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی اور حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے رضاعی بھائی ہیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اطہر کے ساتھ سب سے آخر تک رہنے کا شرف آپ کو حاصل ہے۔جو صحابہ کرام تدفین کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میں اترے تھے ان میں سب سے آخر میں نکلنے والے آپ ہی تھے۔[دیکھیں: الاستیعاب لابن عبد البر:۳/۱۳۰۴]
بہت سارے علما نے آپ کی سوانح میں ذکر کیا ہے کہ آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم شکل تھے۔[دیکھیں: طبقات ابن سعد:۷/۳۶۷،
(۸)ابو سفیان بن حارث بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ
یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی ہیں۔بلکہ رضاعی بھائی بھی ہیں۔حلیمہ سعدیہ دونوں کی رضاعی ماں ہیں۔بہت سارے علما نے ان کی سوانح میں ذکر کیا ہے کہ ان کی شکل وصورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتی تھی۔[دیکھیں: الاستیعاب لابن عبد البر:۴/۱۶۷۴،
(۹)سائب بن عبید بن عبد یزیدبن ہاشم بن المطلب بن عبد مناف رضی اللہ عنہ
یہ امام شافعی رحمہ اللہ کے جد امجد ہیں۔غزوہ بدر میں مشرکین کی طرف سے شریک ہوئے تھے۔بنی ہاشم کا جھنڈا ان ہی کے ہاتھ تھا۔جنگ کے بعد قید کر لیے گئے۔فدیہ دےکر اپنی جان چھڑائی۔پھر حلقہ بگوش اسلام ہو گئے۔
بہت سارے علما نے ذکر کیا ہے کہ دکھنے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح تھے۔[دیکھیں: تاریخ ابن ابی خیثمہ:۱/۲۲۷،
(۱۰)عبد اللہ بن عامر بن کریز بن ربیعہ بن حبیب بن عبد شمس بن عبد مناف القرشی العبشمی رضی اللہ عنہ
علامہ ابن الاثیر الجزری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ماموں زاد بھائی ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری زندگی میں ان کی پیدائش ہوئی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے گئے اور شرف صحابیت سے سرفراز ہوئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں دیکھ کر فرمایا: هَذَا يشبهنا (ان کی شکل وصورت ہم سے ملتی ہے) [اسد الغابہ:۳/۲۸۹]
دوسرے علما نے بھی کہا ہے کہ ان کی شکل نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتی تھی۔[دیکھیں: الاستیعاب لابن عبد البر:۳/۹۳۱،
(۱۱)مسلم بن معتب بن ابی لہب رضی اللہ عنہ
بلاذری نے ”انساب الاشراف“(4/309) میں انھیں صحابہ کرام میں سے شمار کیا ہے۔ان کے علاوہ کہیں مجھے ان کا ترجمہ نہیں ملا۔
بلاذری،
اس ضمن میں بعض علما نے فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ذکر کیا ہے۔لیکن شاید ان کی مشابہت شکل وصورت میں نہیں،
مَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ كَانَ أَشْبَهَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلَامًا وَلَا حَدِيثًا وَلَا جِلْسَةً مِنْ فَاطِمَةَ (بات چیت اور بیٹھنے کے اعتبار سے میں نے فاطمہ سے زیادہ کسی کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ نہیں دیکھا) [الادب المفرد للبخاری: ص۳۲۶،
ان کی شکل وصورت کے ساتھ مشابہت کے متعلق بھی ایک حدیث وارد ہے جسے امام حاکم نے اپنی ”مستدرک‘‘(۳/۱۷۶،
اسی طرح مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے بارے معاصرین کے یہاں یہ مشہور ہے کہ وہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم شکل تھے۔بعض معاصر سیرت نگاروں نے یہ بیان کیا ہے۔لیکن جنھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم شکلوں پر بحث کی ہے انھوں نے ان کا نام ذکر نہیں کیا ہے۔مثلا: محمد بن الحسن المقرئ،
شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا چہرہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ نہ رہا ہو،
حسین بن محمد الدیار بکری فرماتے ہیں: "وفى المواهب اللدنية قيل كان سبب الهزيمة ان ابن قميئة الحارثى قتل مصعب بن عمير وكان مصعب اذا لبس لأمته يشبه النبىّ صلّى الله عليه وسلم فلما قتله ظنه رسول الله فرجع الى قريش وقال قد قتلت محمدا".
لہذا شاید یہ مشابہت چہرے کے ساتھ نہیں تھی۔واللہ اعلم بالصواب۔
اسی طرح عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے متعلق بھی کہا جاتا ہے کہ ان کی شکل وصورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتی تھی۔لیکن یہ صحیح نہیں؛
نیز عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا حلیہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مختلف بھی تھا۔[دیکھیں: فتح الباری:۷/۹۸]
اب تک جتنے ناموں کا ذکر ہوا تمام کے تمام صحابہ کرام ہیں اور سب کا تعلق قریش سے ہے۔ان کے علاوہ بھی بعض دوسرے حضرات ہیں جن کے متعلق علمائے سیرت وتاریخ نے یہ صراحت کی ہے کہ ان کی شکل وصورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتی تھی۔جن میں سے بعض یہ ہیں:
(۱۲)مسلم بن عقیل بن ابی طالب الہاشمی رحمہ اللہ
یہ تابعی ہیں۔بہت سارے علما نے ان کی سوانح میں ذکر کیا ہے کہ ان کی شکل وصورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتی تھی۔[دیکھیں: التاریخ الکبیر للبخاری:۷/۲۶۶،
(۱۳)محمد بن عقیل بن ابی طالب الہاشمی رحمہ اللہ
امام مزی نے ”تہذیب الکمال“(۲۶/۱۳۰) میں کہا ہے کہ ان کی شکل وصورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح تھی۔اور یہ بڑے نیک تھے۔
(۱۴)کابس بن ربیعہ بن مالک بن عدی القرشی البصری رحمہ اللہ
یہ بھی تابعی ہیں۔شکل وصورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح تھی۔اسی وجہ سے معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کی تکریم کی تھی۔جب ان کے پاس حاضر ہوئے تو ان کے استقبال کے لیے اپنے تخت سے اتر کر آئے اور ان کی پیشانی کو چوما۔انس بن مالک رضی اللہ عنہ جب انھیں دیکھتے تو بے اختیار رو پڑتے۔[دیکھیں: المنمق فی اخبار قریش لابی جعفر بن حبیب:ص۴۲۵،
(۱۵)عبد اللہ بن حارث بن نوفل بن حارث بن عبد المطلب رحمہ اللہ
ان کا لقب ”بَبَّہ“ہے۔ابو جعفر ابن حبیب اور ابن عبد البر نے کہا ہے کہ ان کی شکل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح تھی۔[المحبر:ص۴۶،
ان مذکورہ حضرات کو-سوائے مسلم بن معتب بن ابی لہب کے-حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ”فتح الباری“(۷/۹۸) میں صرف دو اشعار میں اختصار کے ساتھ بیان کر دیا ہے۔کوئی ان دو اشعار کو یاد کر لے تو آسانی سے ان تمام ناموں کو یاد کر سکتا ہے۔فرماتے ہیں:
شبه النبي لِيَهٍّ سائبٍ وأبي سفيان والحَسَنَينِ الخال أمهما
وجعفرٍ وَلَدَيْهِ وابنِ عامرٍ كا بسٍ ونَجْلَيْ عَقِيلٍ بَبَّةٍ قُثَمَا
(پندرہ حضرات ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ تھے: سائب بن یزید،
اس میں فاطمہ رضی اللہ عنہا کا بھی نام ہے،
اس شعر میں لفظ ”لِيَهٍّ“ ”لخمسۃ عشر“کےمعنی میں ہے۔اس میں حافظ ابن حجر نے ”حساب الجُمَّل“ ابجد ھوز حطی کا استعمال کیا ہے۔حساب الجمل میں یاء دس کے مساوی ہےاور ھاء پانچ کے مساوی۔دس اور پانچ پندرہ ہوتے ہیں۔
ان خوش نصیب افراد کو اشعار میں ذکر کرنے کا اہتمام دوسرے علما نے بھی کیا ہے۔
مثلا: قاضی ابو الولید ابن الشحنہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وخمسَ عشرَ لهم بالمصطفى شَبَهٌ سِبْطَاه وابنا عَقِيلٍ سائبٍ قُثَمُ
وجعفرٌ وابنُه عَبْدَانِ مسلم أبو سفيانَ كابس عُثْم ابن النِّجَاد هُمُ
انھوں نے بھی پندرہ حضرات کا تذکرہ کیا ہے لیکن حافظ ابن حجر سے بعض نام مختلف ہیں۔انھوں نے ابن النجاد کا ذکر کیا ہے جن کا نام ابو اسماعیل علی بن علی بن نجاد بن رفاعہ الرفاعی البصری الیشکری ہے۔یہ راہب العرب کے نام سے معروف ہیں اورروایت حدیث کے باب میں متکلم فیہ ہیں۔[دیکھیں: التاریخ الکبیر للبخاری:۶/۲۸۸،
ابن سعد نے ”الطبقات الکبری“(۷/۲۷۵) میں فضل بن دکین اور عفان بن مسلم سے نقل کیا ہے کہ ان کی شکل نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتی تھی۔
انھوں نے جو ”مسلم“ کہا ہے اس سے مراد مسلم بن عقیل نہیں ہیں؛
علامہ محمد بن یوسف الصالحی الشامی نے ”سبل الہدی والرشاد“(۲/۱۱۵) میں ایک باب قائم کیا ہے جس کا عنوان ہے:معرفة الذين كانت صفات أجسادهم تقرب من صفات جسده صلى الله عليه وسلم (یعنی ان لوگوں کی معرفت جن کی جسمانی صفات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جسمانی صفات کے قریب تھیں)اس باب میں انھوں دو طویل قصیدے نقل کیے ہیں جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہت رکھنے والوں کا تذکرہ ہے۔پہلا قصیدہ ان کے استاد اور جامع دمشق کے امام ابو العباس احمد شہاب الدین الرملی الدمشقی الشافعی کا ہے اور دوسرا قصیدہ شمس الدین محمد بن محمد بن محب الدین احمد بن احمد القیسی المالکی کا۔
اوپر پندرہ سے زائد خوش نصیبوں کا نام ذکر کیا گیا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم شکل تھے۔اور بھی بعض نام ہیں جن کے متعلق بعض علما نے کہا ہے کہ ان کی شکل نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتی تھی۔اختصار کے ساتھ انھیں ذکر کیا جا رہا ہے:
قاسم بن عبد اللہ بن محمد بن عقیل رحمہ اللہ
[دیکھیں: تاریخ ابن ابی خیثمہ:۲/۶۴۴-۲/۹۳۳،
ابراہیم بن عبد اللہ بن حسن بن حسن بن علی
[دیکھیں: تاریخ بغداد:۶/۵۵۹،
یحی بن قاسم بن جعفر بن محمد بن علی بن حسین بن علی۔یہ یحی الشبیہ کے نام سے معروف ہیں۔
[جامع الآثار فی السیر ومولد المختار:۴/۴۳۲،
ابراہیم بن حسن بن حسن بن علی بن ابی طالب
[تاریخ بغداد:۶/۵۵۹]
یہ تو اس امت کی بات ہوئی۔اگر امت سے باہر کی بات کی جائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل وصورت ابراہیم علیہ السلام کی طرح تھی۔اس کی دلیل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
أما إبراهيم فانظروا إلى صاحبكم(جہاں تک ابراہیم علیہ السلام کی شکل ہے تو اپنے صاحب یعنی اپنے نبی کو دیکھ لو) [صحیح بخاری:حدیث نمبر۵۹۱۳،
علامہ سخاوی نے ”استجلاب ارتقاء الغرف بحب أقرباء الرسول وذوي الشرف‘‘(۲/۵۵۷)میں بیان کیا ہے کہ آدم علیہ السلام کی صورت بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح تھی۔پتہ نہیں ان کا دارو مدار کیا ہے۔اللہ اعلم بالصواب
اسی طرح مہدی علیہ السلام کے متعلق بھی کہا گیا ہے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم شکل ہوں گے۔لیکن شاید یہ شکل کے متعلق نہیں اخلاق وعادات کے متعلق ہے۔صحیح ابن حبان (حدیث نمبر ۶۸۲۸) کی روایت ہے:
يخرج رجل من أمتي،
لیکن یہ روایت متکلم فیہ ہے۔
ایک روایت میں صراحت کے ساتھ بیان ہوا ہے کہ شکل وصورت میں نہیں صرف اخلاق میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ ہوں گے۔اسے امام ابو داود نے اپنی ”سنن“(حدیث نمبر۴۲۹۰) میں روایت کیا ہے۔لیکن اس کی سند بھی ضعیف ہے۔
علامہ سخاوی فرماتے ہیں:عَدُّهُ في الأشباه غلط (ہم شکلوں میں ان کا نام شمار کرنا غلط ہے) [استجلاب ارتقاء الغرف للسخاوی:۲/۵۵۱]
اور بھی بعض ناموں کے متعلق بعض علما نے کہا ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم شکل تھے،
محترم قارئین! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل وصورت میں مشابہت اختیار کرنا ہمارے بس میں نہیں،





