آج مؤرخہ۳۰؍ستمبر۲۰۲۰م بابری مسجد انہدام کے مجرموں کا مقدمہ اپنے’’متوقع‘‘ انجام کو پہنچا۔جج صاحب کو اس بات کے ثبوت نہ ملے کہ ’’یہ منصوبہ بند سازش تھی‘‘۔لہذا یہ مجرم ملزم ہی رہے۔
سچ کہیں تو ان مجرموں کی ’’اس بے گناہی‘‘ کا جج صاحب سے زیادہ ہمیں یقین تھا۔مگر عدالت چونکہ افراد کی رائے،
شاید مقدمہ ذرا اور طول پکڑتا تو فیصلہ یہ ہوتا کہ جس مسجد کا مقدمہ آیا ہے اس کا وجود ہی نہیں ہے۔وہاں تو مندر قائم ہے۔لہذا پہلے مسجد کے وجود کو ثابت کیا جائے۔مگر کیا کرتے جج صاحب کو ریٹائر ہونا تھا اور جانے سے پہلے ان کے کاندھوں پر انصاف کے تقاضے پورے کرکے تاریخ میں ’’زعفرانی انصاف‘‘ کی ’’سنہری فہرست‘‘ میں نام درج کروانے کی بھاری ذمہ داری تھی اور دوسری طرف اپنا ریٹائرمنٹ بھی پلان کرنا تھا۔ریٹائرڈ لائف کو بوجھل نہیں بناسکتے تھے۔اس لیے مجبوراً صرف کلین چٹ پر اکتفا کرنا پڑا۔
البتہ جاتے جاتے انھیں امید ہوگی کہ ابھی راج دھرم نبھانے والی مقتدرہ باقی ہے جن کی چھتر چھایہ میں ان کے نقش قدم پر چلنے والے اور لوگ آئیں گے جو ان کے نام اور کام کو زندہ رکھیں گے۔ویسے بھی نہ یہ پہلے تھے نہ یہ آخری ہوں گے؎
اسی کا شہر وہی مدعی وہی منصف
ہمیں یقیں تھا ہمارا قصور نکلے گا(امیرقزلباش)
اب ہمارے سامنے دو ہی راستے ہیں یا تو ضمیر کا سودا کرلیں اور عدلیہ کے فیصلے کی پذیرائی کریں بلکہ واہ واہی کریں یا پھر گاندھی جی کے نئے بندر بن جائیں۔جو برا نہیں سنتے،
ہم نے سوچا کہ ضمیر کا سودا ذرا مشکل ہے کیونکہ ضمیر کے سوداگر انسانیت کے مجرم ہوتے ہیں۔اور جب ضمیر مردہ ہو تو سب بِکنے لگتے ہیں بَکنے لگتے ہیں۔
اس لیے یہی صحیح لگا کہ خیر سے ابھی بابائے قوم کے آدرش کا حوالہ معتبر ہے اس لیے بابائے قوم کے بھکت ہی بن جائیں،
انصاف کا ایسا بول بالا دیکھ کر ہمارا دل تو کرتا ہے اگر ہم ان ملزمان میں ہوتے تو آج ہی ایک مقدمہ یہ بھی دائر کردیتے کہ ۲۸؍سال تک ہم بے گناہوں کو بحیثیت ملزم ذہنی طور پر اذیت دی گئی جس کا ہرجانہ دیا جائے اور بہتر ہوگا کہ اس مدعے کی آڑ میں سیاست کے ذریعے کمائی گئی حکومتی دولت کے بجائے ملک کی عوام میں سے ہر اس شخص سے بطور ہرجانہ وصول کیا جائے جو ہمیں مجرم سمجھتا رہا ہے۔
خیالات کا کیا ہے،





