صحابہ نے ایمان بالرسول کو آسان کردیا:
صحابہ کی عظمتوں کے لاکھوں حوالے ہیں۔غور کیجیے تو ایسی ایسی حقیقتیں ابھر کر آتی ہیں کہ فکر و نظر کی ندیا ں پایاب محسوس ہوتی ہیں۔تصور کیجیے جب رسول ﷺفقط ایک ذہین اور ایماندار شریف نوجوان کی حیثیت سے اہل مکہ کے درمیان زندگی گزاررہے ہیں اور پھر ایک دن یہ نورانی خبر دیتے ہیں کہ ’’میں اللہ کا نبی ہوں‘‘۔کتنا مشکل ہوتا ہے اپنے قریب کے لوگوں کو ایک ایسامقام دینا جس کے بعد آپ خودبونے نظر آنے لگیں لیکن اصحاب کرام کی بصیرت تھی کہ پیارے رسول ﷺپر صدق دل سے ایمان لاتے ہیں۔
آج رسولﷺ کی ذات ہمارے لیے ایک تاریخی حقیقت بن چکی ہے،
تو صحابہ کی عظمتوں کا ایک پہلو یہ ہے کہ انھوں نے اپنی بصیرتو ں،
صحابہ کی زندگیوں کا یہ پہلو بھی ہمارے سامنے ہے کہ وہ بول چال،
مفلسی سانپ سے کچھ کم تو نہیں ہے اے دوست
حد سے بڑھ جائے تو ایمان کو ڈس لیتی ہے
توصحابہ کی عظمتوں کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ غربتوں نے ان کے ایمان میں اضافہ ہی کیا تھا۔
عدالت صحابہ پر دراز ہوتے خونیں سائے:
اسلامی تاریخ میں سب سے پہلے شیعوں نے صحابہ کرام کی عدالت پر سوال اٹھایا اور صرف سوال نہیں اٹھایا خلیفۂ رسول کو مظلومانہ شہید بھی کردیا۔پھر تو انھیں صحابہ کے خون کا چسکا لگ گیا ایسی سازش رچی اور ایسا جال بُنا کہ عام اہل سنت کے ساتھ اصحاب کرام کا خون بہانا بھی آسان ہوگیا۔اسی مزاج نے خارجیت کا رخ اپنا کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا سرتن سے جدا کردیا،
شیعوں کے تبرائی مشغلے کو راستہ چاہیے تھا سو یہ راستہ یزیدکی صورت میں انھیں دستیاب تھا پھر تاریخ میں بھی خوب خوب رنگ آمیز ی کر ڈالی۔ادھر بعد کی صدیوں میں جمہوریت کے چرچے نے مرعوب ذہنوں کو اس بات پر آمادہ کر لیا کہ جمہوریت کو اسلام اور ملوکیت کو کافرانہ نظام حکومت باور کرائیں۔اس فلسفے نے بھی صحابہ کی عظمتوں کو داغدار کرنے کا خوب خوب موقع عنایت کیا پھر شیعوں سے دو ستانہ تعلقات نے اور بعض دفعہ خاندانی نسبتوں نے عدالت صحابہ کو مجروح کرنے کے چور دروازے کھو ل دیے۔
معصوم عن الخطاء نہ ہونے کی دہائی دے کر بڑے معصومانہ انداز میں عرب و عجم کے متعدد حضرات نے صحابہ کو اپنی بنائی ہوئی عدالتی چوکیوں پر لاکھڑا کیا۔اور غلطی کے امکان پر فرضی غلطیاں منسوب کرکے ان پاک نفسوں سے سخت باز پرس فرمائی پھر عدالت صحابہ کا نرالا قاعدہ بھی پیش فرمادیا: عدالت صحابہ کا مطلب یہ ہے کہ رسول ﷺسے روایت کرنے میں یا آپ کی طرف کوئی بات منسوب کرنے میں کسی صحابی نے راستی سے تجاوز نہیں کیا۔
اہل نظر غور فرمائیں عدالت صحابہ کی اس تعریف کے ابعاد کیا کیا ہیں؟عدالت کا یہ وہ معیار ہے جو محدثین نے عام لوگوں کے بارے میں ہیچ جانا ہے بلکہ سرے سے یہ عدالت کی بحث ہی نہیں ہے۔پہلے عدالت کی عمارت بنتی ہے اس کے نواقض کا فہم بنتا ہے پھر کہیں روایت حدیث کا مرحلہ آتا ہے۔
دراصل اسی ذہن کا کرشمہ تھا کہ عرب دنیا کا ایک فاسق اہل علم کہا کر تا تھا ’’الصحابۃ کلھم عدول لایش‘‘ صحابہ سب کے سب عادل ہیں آخر کیوں؟ ہندوستان کے ہمارے مفکرین نے کھل کر تو نہیں لیکن دبے انداز میں کم تربیت یافتہ،
متفق علیہ عقائد پر مختلف فیہ نظر یہ کی بالادستی:
بر صغیر ہندو پاک اور مصر کی بعض دینی تحریکوں کی دعوت اتحاد امت پر مشتمل تھی لیکن محسوس یہ ہوتا ہے کہ یہ تحریکیں اتحاد امت کے بجائے محض سیاسی نظریہ لے کر اٹھی تھیں پھر یہ اتحاد بھی شیعوں کو منانے اور ایران کی طرف شدِّرحال کا عملی ترجمان بن گیا۔یہ حضرات جمہوریت کی تعریف میں ایسے رطب اللسان رہتے ہیں مانوامریکہ،
ایک قوم قرآن کو محرف مانتی ہے،
سر مگیں آنکھوں والے بھائیوں سے بھی:
اتحاد کا یہی فارمولا ہمارے ان بھائیوں کے پاس بھی ہے جن کے نزدیک دین قبروں کو پختہ بنانے اور نہ بنانے پر منحصر ہے۔اگر آپ قبروں کو پختہ رکھنے کے منکر ہیں تو گویا مقدسات کے بھی منکر ہیں،
دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کوئی بھی بڑے سے بڑا ہو اس کی قبر پختہ نہیں ہو سکتی اور نہ تو صحابہ نے اپنی قبروں کو پختہ بنایا اس لیے ہم پختہ قبروں کو توڑ کران کی اصل حالت پر برقرار رکھنا مناسب جانتے ہیں بس:گستاخ گستاخ!! ایک کہرام مچ جاتا ہے او رہنگامہ شروع ہوجاتا ہے۔تو کیا اب مان لیا جائے کہ ہمار ا دین قبروں کو پختہ بنانے اور نہ بنانے پھر ان کو مرکز تجارت بنانے میں سمٹ آیا ہے۔شاید اسی لیے ابو لو لوکا مزار بنانے والے صرف اس وجہ سے محبت کے مستحق ہیں کہ انھو ں نے مزار بنایا ہے۔مزار کس کا ہے یہ بعد کی بات ہے۔
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو:
دنیا کا سب سے بڑا جھوٹ کیا ہے؟ نہیں معلوم لیکن یہ معلوم ہے کہ دنیا کا سب سے کامیاب جھوٹ کیا ہے؟ وہ جھوٹ یہی ہے کہ شیعوں نے حضرت عثمان غنی کو شہید کرنے کے بعد اہل بیت اطہار کے قتل کا ارتکاب کیا اور اب تک موقع بموقع مسلمانوں کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے کا کام جاری ہے لیکن یہ ہر دفعہ آنسو بہا کر دانت میں لگا خون دھونے میں کامیاب رہے۔
تاریخ کے اس عظیم سچ کا کون انکار کرسکتا ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے جنگ نہیں کی تھی مظلومانہ شہید ہوئے۔حضرت حسین کی تین شرطوں سے بھلا کون ناواقف ہے ہاں مگر جب نگہبانوں میں شامل کوفیوں نے حضرت امام پر حملہ کردیا اور ایک ہی فوج کے لوگ آپس میں گتھم گتھا ہوگئے تو حضرت حسین کا قافلہ لٹ گیا اور اپنے اور گھروالوں کے دفاع میں آپ شہید ہوگئے۔اگر آپ واقعی حق و باطل کی جنگ کرنے گئے تھے تو تین شرطیں رکھنے کا معنی کیا تھا؟ پھر اس کردار کو افسانوں میں لپیٹ کر مشہور کیا گیا اور اپنی شقاوت قلبی کو نوحہ و ماتم کے آنسوؤں کے ذریعہ ملائمت کا پیکر ثابت کیا گیا۔
ایک کردار حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا تھا تاریخ کا ایسا کردار جس کی برکتوں کا شمار نہیں۔لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ کردار اول بہت کم مشہور ہوا دوم جو لوگ اس کردار کو بھلی بھانت جانتے ہیں ان میں بہت کم لوگ اس کی اہمیت اور برکتوں کے ابعاد کا ادراک رکھتے ہیں۔حضرت حسن کا کردار جو مشہور کم ہوا اس کا ایک سبب تو یہی ہے کہ روافض کی فساد انگیزی کے لیے بہانہ زیادہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے واقعے میں تھا،
نواسۂ رسول حضرت حسن رضی اللہ عنہ بھی تھے لیکن ان کی شہادت کا کوئی چرچا نہیں ہوا،
ہمارا ایک ہی سوال ہے کہ کیا حضرت حسن نواسۂ رسول نہیں تھے؟ حالانکہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے عمر میں بھی بڑے ہیں اور کردار میں بھی کہ ان کے کردار کی صحیح روایت میں تعریف اور پیشین گوئی موجود ہے۔
ہمارا عقیدہ جو بھی ہو لیکن جنھیں یہ بات تسلیم ہے کہ اولیاء اللہ بلائیں دور کرتے ہیں وہ صرف ’’یا حسین‘‘کے ذریعہ ہی کیوں بلائیں ٹا لتے ہیں یا حسن کے ذریعہ بھی تو ٹالا کریں۔
سنی بھائیوں سے بھی سوال ہے کہ علی رضی اللہ عنہ چوتھے خلیفہ راشد ہیں پچھلے تینوں لوگ ان سے بہر طور افضل ہیں لیکن بلاؤں کے لیے علی رضی اللہ عنہ ہی کیوں؟ علی مولا! علی مولا!
رسول کی بیٹیا ں اور بھی ہیں صرف فاطمہ ہی تعویذ میں کیوں لکھی جاتی ہیں۔سبب مومنو! سبب؟ کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا؟
ہمارے ایمان کا حصہ تو سبھی لوگ ہیں ہم بھلا کیسے گالیاں دیتے،
لائق ضرور تھے لیکن اصل بات یہ ہے کہ عثما ن رضی اللہ عنہ کی چالیس دن کے پیا س کے مجرم بھی تمھی ہو اور خانوادۂ رسول ﷺکے ایک روزہ پیاس کے مجرم بھی تم ہو۔ہاں دوسری پیاس کے افسانوں میں تمھارا جرم چھپ جاتا ہے۔
اف سنی بھائیوں کو بھی دیکھو!
بھائیو! تمھیں کس نے بہکا دیا اگر یزید اس لیے مجرم ہے اور واقعی ہے کہ اس کی حکومت میں یہ واقعہ پیش آیا تو پھر کو فہ کے سبائیوں کو تم نے کیوں چھوڑدیا؟ تاریخ کی ہر زندہ شہادت یہی بتاتی ہے کہ قاتل وہی لوگ تھے جنھیں شیعان علی رضی اللہ عنہ کہا جاتا ہے لیکن مجوسی سیاست اتنی چالاک ٹھہری جس کا تصور ممکن نہیں۔بھلا حضرت ابو لولوکامزار بنانے والوں کو تم کیوں نہ سمجھے؟
دسویں محرم:
حسین تو پیاسے تھے مگر یہاں شربتوں کا مزہ لیا جاتا ہے اور پاکستان میں حلیم کا ذائقہ بھی۔دس محرم کی اہمیت و فضیلت کا جو بھی معاملہ ہے وہ شرعی اور قانونی ہے۔پیارے رسول ﷺ نے اس دن امت کو روزہ کا حکم فرمایا تھا اور امت کل سے اب تک روزہ رکھ رہی ہے۔حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت ایک طویل عرصے بعد پیش آئی اور اتفاق سے محرم کی دسویں تاریخ کو پیش آئی جیسا کہ مشہور ہے۔ورنہ یہ تاریخ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے مسئلے میں متفق علیہ نہیں ہے۔ہمارے نزدیک محرم کی جو کچھ اہمیت ہے اس کا تعلق صرف نویں اور دسویں کے روزے اور اسلامی سال کی ابتدا سے ہے بقیہ اسلامی واقعات و حادثات جو اس تاریخ میں پیش آئے ان کی مناسبت سے محرم میں رسوم ورواج کی ایجاد اور عمل سراسر غیر شرعی ہے ورنہ تاریخ تو یہ بھی بتاتی ہے کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی دل دوز شہادت کا واقعہ بھی آخری ذی الحجہ یا یکم محرم کو پیش آیا۔
سگ زمانہ ہیں ہم اور ہماری ہجرت کیا:
ہجرت کے مزاج میں ایک اعلیٰ درجے کا مثبت اور انقلابی رد عمل ہوتا ہے۔اگر ہجرت محض ترک مکان کی ہجرت ہوتب بھی یہ عمل کا بہت بڑا محرک ہے۔ہم گناہ گار لوگ تلاش رزق میں یہاں وہاں منتقل ہوتے رہتے ہیں،
میری خانہ بدوشی سے پوچھے کوئی
کتنا مشکل ہے رستے کو گھر بولنا
پھر صحابہ کی ہجرتوں کے پیچھے تو ظلم و جبر کی ایک طویل داستان بھی تھی۔وہ وطن سے نکلنا نہیں چاہتے تھے لیکن کافروں نے حالات ایسے پیدا کردیے تھے کہ ہمیشہ کے لیے بدن سرائے کو اپنے کاندھے پر لاد کر رخصت ہونا تھا۔آج ہمارے وطن عزیز کے حالات بھی ہجرت کی یاد دلاتے ہیں لیکن ان شاء اللہ یہاں جو ہجرت ہوگی ہندوستان سے ہندوستان ہی کی طرف رہے گی۔پھر بھی دل کا کرب کب چھپتا ہے؎
وطن سے جا نہیں سکتا ہوں لیکن
مرادل ویسے گھبرانے لگا ہے
صحابہ نے جو ہجرت کی تھی وہ روزی رزق کی ہجرت نہ تھی،
ہجرت کا واقعہ ہمارے اسلامی سال کی ابتدا کا سرنامہ ہے،





