کتب حدیث میں کتب ستہ کا جو مقام ومرتبہ ہے وہ کسی سے مخفی نہیں۔الحمد للہ اکثر مدارس میں یہ داخل نصاب ہیں۔اکثر یہ پوچھا جاتا ہے کہ ان کتب کو کم سے کم وقت میں ختم کرنے کا آسان طریقہ کیا ہے۔
میرے خیال سے اس کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ اصول کو پڑھا جائے اور مکرر احادیث کو صرف ایک بار پڑھا جائے۔بار بار اسے دہرایا نہ جائے۔مثلا: ”إنما الأعمال بالنیات“والی حدیث کو لیں۔صرف صحیح بخاری میں یہ حدیث سات بار آئی ہے اور سنن نسائی میں تین بار۔اسی طرح یہ صحیح مسلم میں بھی ہے اور سنن ابی داود،
لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسی کوئی کتاب ہے جس سے اس کام میں مدد مل سکے؟
اس طرح کی کئی کتابیں لکھی گئی ہیں لیکن تمام دستیاب نہیں۔
علامہ ابن الملقن رحمہ اللہ (متوفی 804 ھ)نے زوائد کے ذریعہ کتب ستہ کے اصول کو جمع کیا تھا۔آپ نے صحیح بخاری پر صحیح مسلم کے زوائد کو،
عصر حاضر میں بھی اس نوعیت کے بعض کام ہوئے ہیں۔میرے ایک یمنی ساتھی نے یمن کے ایک حلقۂ حفظ میں اس طرح کے ایک نسخہ سے کتب ستہ کو صرف چار مہینے میں حفظ کیا ہے۔صحیحین دو مہینوں میں اور سنن اربعہ دو مہینے میں۔مدینہ طیبہ میں بھی کتب ستہ یاد کرنے والے طلبہ اس نسخہ سے یاد کرتے ہیں۔لیکن یہ کتاب مارکیٹ میں برائے فروخت دستیاب نہیں ہے۔میرے اس یمنی ساتھی کے مطابق صرف حلقۂ حفظ میں داخلہ لینے والے طلبہ کو یہ نسخے دیے جاتے ہیں،
اسی طرح کا ایک کام شیخ صالح احمد الشامی حفظہ اللہ نے کیا ہے۔”تقریب السنہ“پروجیکٹ کے تحت آپ اب تک حدیث کی مشہورچودہ کتابوں پر کام کر چکے ہیں۔ان میں سے کتب ستہ پہلے نمبر پر آتے ہیں۔آپ نے سب سے پہلے ایک کتاب میں صحیحین کی احادیث کو جمع کیا۔پھر ایک دوسری کتاب میں صحیحین پر سنن خمسہ (سنن ابی داود،
اس میں آپ نے مکرر احادیث کو حذف کر دیا ہے۔اسی طرح اسانید کو حذف کرکے صرف صحابی کانام باقی رکھا ہے۔اس پروجیکٹ سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے ”الجامع بین الصحیحین“ پڑھا جائے،
مصنف کا مقصد چونکہ کتاب کم سے کم حجم میں پیش کرنا ہے اس لیے انھوں نے کتاب میں نمبرات کا استعمال بہت زیادہ کیا ہے۔کتاب شروع کرنے سے پہلے ان نمبرات کا کیا معنی ہے یہ جاننا بہت ضروری ہے ورنہ قاری کے بھٹکنے کا بہت اندیشہ ہے۔
سنن خمسہ میں چونکہ صحیح وحسن کے ساتھ ضعیف بلکہ موضوع احادیث بھی ہیں اس لیے مصنف نے ضعیف وموضوع احادیث پر حاشیہ میں شیخ البانی رحمہ اللہ کے احکام کو نقل کر دیا ہے۔بعض دوسرے علما کے احکام بھی موجود ہیں،
دستیاب کتابوں میں اس کام کے لیے ایک اچھی کتاب علامہ ابن اثیر رحمہ اللہ (متوفی 606ھ) کی ”جامع الأصول في أحاديث الرسول“ہے۔یہ ایک متقدم عالم کی کتاب ہے۔اس میں کتب ستہ کے اصول کو نہایت آسان اسلوب میں جمع کر دیا گیا ہے۔
حروف تہجی کے اعتبار سے مختلف موضوعات کے تحت احادیث کو اس میں مرتب کیا گیا ہے اور اس ترتیب میں کلمہ کے پہلے حرف کا اعتبار کیا گیا ہے چاہے وہ اصلی ہو یا زائد۔مثلا اسلام اور اعتصام یہ دونوں کلمے الف کے تحت ملیں گے،
اسانید کو حذف کرکے صرف صحابی کا نام باقی رکھا گیا ہے اور متن ذکر کرنے کے بعد کن کن کتابوں میں یہ حدیث موجود ہے ان کا حوالہ دے دیا گیا ہے۔بلکہ مطبوعہ نسخہ میں صحابی کے نام سے پہلے ہی ان مصادر کے رموز ذکر دیے گئے ہیں جن سے پتہ چل جاتا ہے کہ یہ حدیث کن کن کتب میں موجود ہے۔
اگر کسی کتاب میں کوئی زیادتی اور اضافہ ہو تو اسے بھی اہتمام کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔اس طرح ایک ہی حدیث گرچہ کمی وبیشی کے ساتھ مختلف کتابوں میں موجود ہو اس کتاب کے ذریعہ اس سے بھی آگاہی ہو جاتی ہے۔
آخر میں ہر حدیث کے بعد مشکل الفاظ کی شرح بھی پیش کی گئی ہے۔جو کہ اس کتاب کی ایک اہم خوبی ہے۔
واضح رہے کہ غریب الفاظ کی شرح کے لیے آپ معتبر مانے جاتے ہیں۔آپ نے اس میں مستقل کتاب بھی تصنیف کی ہے،
ایک بات کا خیال رہے کہ اس میں سنن ابن ماجہ کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔اس میں چَھٹی کتاب سنن ابن ماجہ نہیں،
خلاصۂ کلام:
کتب ستہ کو کم سے کم وقت میں پڑھنے کے لیے دو طریقے اپنائے جا سکتے ہیں:
پہلا: شیخ صالح احمد الشامی حفظہ اللہ کی دو کتابوں کو پڑھا جائے: ”الجامع بین الصحیحین“ اور”زوائد السنن علی الصحیحین“۔
دوسرا: علامہ ابن اثیر رحمہ اللہ کی ”جامع الأصول في أحاديث الرسول“اور علامہ بوصیری رحمہ اللہ کی ”مصباح الزجاجۃ في زوائد ابن ماجہ“ کو پڑھا جائے۔
ضروری تنبیہ:
کتب ستہ پڑھنے کا یہ طریقہ خارجی مطالعہ کے لیے تو مفید ہے لیکن مدارس کے درسی نظام میں اسے اختیار کرنا قطعا صحیح نہیں۔مشایخ کے دروس میں یا کلاس میں استاد سے کتب ستہ کو علیحدہ علیحدہ اصل کتاب سے پڑھنا نہایت ضروری ہے تاکہ ہر کتاب کے منہج سے واقفیت حاصل ہو۔احادیث کی روایت کے بعد مصنفین کی جو مختصر اور جامع تعلیقات ہوتی ہیں ان سے آگاہی ہو۔صحابہ،
یہ مختصر کتابیں یقینا آج کے ہم جیسے سست اور پست ہمت والوں کے لیے کسی نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں۔لیکن یہ کبھی بھی اصل کتابوں کی جگہ نہیں لے سکتیں۔





