"زوائد" سے مراد کسی خاص کتاب پر دوسری کتاب کی زائد احادیث ہیں،
”موجود نہ ہونے“کا معنی یہ ہے کہ وہ حدیث سرے سے ہی مزید علیہ کتاب میں موجود نہ ہو۔یا اصل حدیث تو موجود ہو لیکن دوسری کتاب میں ایسے زائد الفاظ موجود ہوں جو مؤثر ہوں۔یا کسی دوسرے صحابی سے مروی ہو،
کسی خاص کتاب پر دوسری کتب کی زائد احادیث کو جمع کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔اس کے لیےتمام کتابوں کو باریکی کے ساتھ مکمل پڑھنا اور یہ ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ کون سی حدیث کس کتاب میں ہے۔پھریہ دیکھنا کہ کون سی حدیث حقیقت میں زائد ہےاور کون ایک ہی حدیث کے حکم میں رکھی جا سکتی ہے۔آج کمپیوٹر کے زمانے میں یہ کام کچھ آسان ہو سکتا ہے،
کتب زوائد کا اصل فکرہ علامہ عراقی رحمہ اللہ کا تھا۔گرچہ اس کی شروعات پہلے ہو چکی تھی اور علامہ مغلطائی کی ”صحیحین پر ابن حبان کے زوائد“ کو اس نوع کی پہلی تصنیف کہی جاتی ہے لیکن اس کے اصل محرک علامہ عراقی ہی تھے۔
آپ نے خود تو اس موضوع پر کوئی کتاب نہیں لکھی لیکن اپنے تین شاگردوں کو اس میدان میں خوب لگایااور ان تینوں نے اس موضوع کا حق ادا کر دیا۔وہ تینوں ہیں:
۱۔علامہ ہیثمی رحمہ اللہ(متوفی 807ھ)
۲۔علامہ بوصیری رحمہ اللہ(متوفی 840ھ)
۳۔حافظ ابن حجر رحمہ اللہ(متوفی 852ھ)
علامہ ہیثمی اور علامہ بوصیری دونوں حافظ ابن حجر کے استاد بھی ہیں۔
علامہ ہیثمی نے سب سے زیادہ اس موضوع پر کتابیں تصنیف کیں۔انھوں نے کتب ستہ پر مسند احمد کے زوائد کو ایک کتاب میں،
اسی طرح انھوں نے صحیح ابن حبان اور مسند حارث کے زوائد کو بھی مستقل کتابوں میں جمع کیا ہے۔مسند حارث کا آج کہیں کوئی وجود نہیں ہے،
حافظ ابن حجر نے اس نوعیت کی ایک سے زائد کتابیں تصنیف کیں،
اور حافظ بوصیری نےبھی ایک سے زائد کتابیں تصنیف کیں،
زوائد پر اپنی نوعیت کا ایک منفرد کام علامہ ابن الملقن رحمہ اللہ نے انجام دیا ہے۔آپ نے صحیح بخاری پر صحیح مسلم کے زوائد کو،
علامہ سیوطی نے بھی اس نوعیت کی بعض کتابیں لکھی ہیں،
پھر چودہویں صدی ہجری تک زوائد پر کتاب لکھنے کا سلسلہ تقریبا بند ہی رہا۔چودہویں صدی کےآخر میں دوبارہ علما نے اس طرف توجہ دی اور کئی اہم کتابیں منظر عام پر آئیں۔جن میں سے ایک اہم کتاب: ”الإيماء إلى زوائد الأمالي والأجزاء“ہے۔اس کتاب میں کتب ستہ،
المطالب العالیہ کا مختصر تعارف:
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کتاب کا نام رکھا ہے: ”المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية“۔
کتاب کے نام سے ہی ظاہر ہے کہ اس میں آٹھ مسانید کی زائد احادیث کو جمع کیا گیا ہے۔وہ مسانید ہیں:
مسند الطياليسي (ت204هـ)مسند أبي بكر الحميدي (ت219هـ)مسند ابن أبي عمر العدني (ت243هـ)مسند عبد بن حميد الكشي (ت249هـ)مسند مسدد بن مسرهد (ت228هـ) مسند أحمد بن منيع البغوي (ت244هـ)مسند أبي بكر بن أبي شيبة (ت235هـ)اور مسند الحارث بن أبي أسامة (ت282هـ)
اس کا مطلب یہ نہیں کہ حافظ ابن حجر ان آٹھ مسانید کے علاوہ کسی اور کتاب کے زوائد کو اس میں ذکر نہیں کرتے بلکہ اس کے علاوہ بھی بعض کتابوں کے زوائد کو بسا اوقات اس میں ذکر کرتے ہیں،
جہاں تک مسند ابی یعلی کی بات ہے تو اس کی دو روایتیں ہیں۔ایک مختصر اور ایک طویل۔اسے روایت صغری اور روایت کبری بھی کہا جاتا ہے۔
علامہ ہیثمی نے ابو عمرو بن حمدان کے طریق سے”مختصر“کے زوائد کو جمع کیاتھا،
اس طرح کل مسانید کی تعداد دس ہو جاتی ہے۔سابقہ آٹھ اور مسند ابی یعلی ومسند اسحاق بن راہویہ۔لیکن چونکہ مسند ابی یعلی کی تمام زائد احادیث اس میں مذکور نہیں اور مسند اسحاق پوری ملی نہیں اس لیے انھیں تعداد میں شامل نہیں کیا گیا۔
اسی طرح کا معاملہ حافظ ابن حجر کی ایک اور کتاب کا ہے،
المطالب العالیہ میں گرچہ مسانید کے زوائد کو جمع کیا گیا ہے لیکن اس کی ترتیب فقہی ابواب پر ہے،
اس میں ہر حدیث کو مصنف کی اصل سند کے ساتھ بیان کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے۔یہ اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی ہے۔اس اہم خوبی کی وجہ سے وہ بعض کتب حدیث جو آج ہم تک نہ پہنچ سکیں،
حافظ ابن حجر اس میں بسا اوقات روات پر کلام کرتے ہیں اور سند پر اپنا حکم بھی لگاتے ہیں۔آپ نے اس کتاب کا اختصار بھی کیا ہے۔جس میں اسانید کو حذف کر دیا ہے۔
اس کتاب کی تصنیف میں آپ نے کتنی محنت صرف کی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایاجا سکتا ہے کہ کتب ستہ اور مسند احمد کی زائد حدیثوں کو اس میں جمع کیا گیا ہے۔اس کے لیے کتب ستہ اور مسند احمد کے ساتھ دسوں مسانیدکی تمام حدیثوں کو باریکی کے ساتھ پڑھنا اور ذہن میں رکھنا ضروری ہے تاکہ کوئی ایسی حدیث ذکر نہ کر دی جائے جو کتب ستہ یا مسند احمد میں موجود ہو،
آج پوری زندگی میں جن بڑی کتابوں کے مطالعہ کی ہم ہمت نہیں کر پاتےصرف چند ایام میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے انھیں مکمل ختم کیا ہے۔
علامہ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ نے ان کے سرعت مطالعہ کا حیرت انگیز تذکرہ فرمایا ہے۔فرماتے ہیں کہ انھوں نے سنن ابن ماجہ چار مجالس میں ختم کر دی تھی۔اسی طرح صحیح مسلم بھی چار مجالس میں ختم کر دی تھی،
اسی طرح صحیح بخاری اور امام نسائی کی سنن کبری دس دس مجلسوں میں ختم کی تھی۔امام طبرانی کی معجم صغیر جس کی احادیث کی تعداد تقریبا پندرہ سو ہے ظہر سے عصر کے درمیان صرف ایک مجلس میں ختم کر دی تھی۔[بستان المحدثین:ص171-172]
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہماری نیتوں میں اخلاص اور اوقات میں برکت عطا فرمائے اوراپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلتے ہوئےان کتب کو پڑھنے اور ان سے کما حقہ استفادے کی توفیق عطا فرمائے۔





