صحیح بخاری کی شہرت اور کتب حدیث میں اس کے مقام ومرتبہ کی وجہ سے محدثین کرام کی ایک بہت بڑی تعداد نے امام بخاری سے اسے سنا ہے اور اس کی روایت لی ہے۔تقریبا نوے ہزار (90000) محدثین کرام نے اسے امام بخاری سے سنا ہے۔آج کے اس ڈیجیٹل اور ٹیکنالوجی کے دور میں بھی جب کہ پوری دنیا کا سفر بالکل آسان ہو گیا ہے کسی استاد سے اس کی کسی کتاب کے پڑھنے سننے والوں کی اتنی کثیر تعداد کی توقع نہیں کی جا سکتی۔اس زمانے میں جب کہ لاؤڈ اسپیکر وغیرہ کا کوئی انتظام نہیں تھا ایک ایک درس میں ہزاروں کی تعداد میں طلبہ ائمۂ کرام کے دروس میں حاضر ہوتے۔دور اورپیچھے بیٹھنے والے مستملی کے ذریعہ حدیثیں سنتے۔
امام بخاری کے ان بے شمار روات میں سے بعض ہی راویوں کی روایتیں بعد کے زمانے تک پہنچیں۔
ان میں سے سب سے مشہور روایت محمد بن یوسف بن مطر الفِرَبرِی کی روایت ہے۔
امام فربری کے متعدد تلامذہ میں سے تین بہت مشہور ہیں:
(۱)ابو اسحاق المُستَملی
(۲)ابو محمد عبد اللہ السَّرَخسِی الحموی
(۳)ابو الہیثم محمد بن مکی الکُشمیہنی
اور ان تینوں کے سب سے مشہور شاگرد ہیں: ابو ذر الھروی۔
حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں ابو ذر الھروی کی ہی روایت پر اعتماد کیا ہے۔جب کہ دوسرے شارحین نے دوسری روایتوں پر اعتماد کیا ہے،
چنانچہ فتح الباری میں ہر دو چار صفحے کے بعد آپ کو ”وفي رواية أبي ذر“ کا لفظ مل جائےگا۔
لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ صحیح بخاری کے جو دوسرے روات ہیں حافظ ابن حجر نے ان کی روایتوں کو نظر انداز کر دیا ہے۔بلکہ ان کی بھی روایتوں سے استفادہ ونقل کیا ہے۔ان میں سے ایک اہم نسخہ علامہ صغانی رحمہ اللہ کا نسخہ ہے۔بلکہ ابو ذرہروی کی روایت کے بعد غالبا علامہ صغانی کے نسخے سے ہی سب سے زیادہ آپ نے استفادہ اور نقل کیا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ جہاں دوسرے رُوات کی رسائی امام فربری کے اصل نسخہ تک نہ ہو سکی تھی،
محدثین کے نزدیک امام صغانی کا یہ نسخہ "نسخۂ بغدادیہ" کے نام سے معروف ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ ایک جگہ فرماتے ہیں:
"تنبيه: وقع في النسخة البغدادية التي صححها العلامة أبو محمد بن الصغاني اللغوي بعد أن سمعها من أصحاب أبي الوقت،
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں اس نسخہ کی کافی تعریف کی ہے۔
مثلا ایک جگہ فرماتے ہیں:
"دل كلام الصغاني في نسخته التي أتقنها وحررها،
ہم ہندوستانیوں کے لیے یہ شرف کی بات ہے کہ علامہ صغانی رحمہ اللہ کا تعلق متحدہ ہندوستان سے ہے جن کے نسخہ سے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ جیسے امام اور حافظ امت اپنی سب سے مایہ ناز کتاب "فتح الباری" میں نہ یہ کہ صرف نقل کرتے ہیں بلکہ ترجیح کے وقت اعتماد بھی کرتے ہیں۔
متعدد علماء سیرت و تاریخ نے آپ کو ”لاہوری“نسبت سے منسوب کیا ہے۔[بطور مثال دیکھیں: البلغۃ في تراجم أئمۃ النحو واللغۃ:ص: 117،
جب کہ حافظ ذہبی نے تاریخ الاسلام (14/636) میں اور ابو محمد الطیب با مخرمہ نے قلادة النحر في وفيات أعيان الدهر (5/220) میں آپ کو”الھندی“ کہا ہے۔
آپ کا مختصر تعارف:
نام،
علامہ موصوف نے اپنا یہ نسب نامہ خود اپنی کتاب "العباب الزاخر واللباب الفاخر" (1/1) کے مقدمے میں ذکر کیا ہے۔
کنیت: ابو الفضائل،
"عمری" یہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی طرف نسبت ہے۔اور "صغانی" یہ بلاد ما وراء النھر میں واقع مرو کے ایک گاؤں چاغان کی طرف منسوب ہے۔اسے کوہ چاغان بھی کہا جاتا ہے۔اسی گاؤں کی طرف منسوب عربی زبان میں انھیں "صغانی" کہا جاتا ہے۔(دیکھیں: الانساب للسمعانی 8/252،
ولادت:
خسرو ملک بن خسرو شاہ غزنوی کے دور میں 10صفر سنہ 577 ہجری کو لاہور میں آپ کی ولادت ہوئی۔(دیکھیں:تاریخ الاسلام للذھبی14/636،
اکثر مورخین نے ان کی یہی تاریخ پیدائش ذکر کی ہے۔لیکن عبد الحی حسنی فرماتے ہیں کہ ان کی ولادت 15 صفر 557 ہجری کو ہوئی۔(نزھۃ الخواطر 1/91) واللہ اعلم بالصواب
علمی اسفار:
اپنی علمی پیاس بجھانے کے لیے آپ نے متعدد ملکوں کا سفر کیا۔جن میں ہندوستان کے علاوہ بلاد ما وراء النھر،
شروعات آپ نے اپنے والد ماجد محمد بن حسن بن حیدر کی آغوش میں کی اور انھی کے ہاتھوں آپ کی علمی نشو ونما ہوئی۔اپنی مشہورکتاب العباب الزاخر میں متعدد جگہوں پر اپنے والد سے انھوں نے بہت سارے علمی فوائد کا ذکر کیا ہے۔کچھ بڑے ہوئے تو سندھ کے علاقے غزنہ کی طرف اپنی علمی پیاس بجھانے کے لیے سب سے پہلا علمی سفر کیا۔کچھ دنوں بعد قطب الدین ایبک نے آپ کوشہرلاہور کا جج بننے کا آفر پیش کیا،
علمی مقام ومرتبہ:
علم حدیث،
بہت سارے علماء کرام نے آپ کا تزکیہ اور آپ کی تعریف کی ہے۔
آپ کے لیے شرف کی بات ہے کہ آپ کے ہم عصر بلکہ آپ سے پہلے ہی فوت ہونے والے اس زمانے کے مشہور عالمِ دین علامہ یاقوت حموی نے"معجم الادباء " میں آپ کی مفصل سوانح حیات لکھی ہے۔
بہاء الدین جندی فرماتے ہیں: بہت بڑے امام تھے،
حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ علم لغت میں درجۂ کمال کوپہنچے ہوئے تھے۔(تاریخ اسلام 14/636)
دمیاطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:لغت،
علامہ فیروزآبادی فرماتے ہیں: لغت،
امام سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اپنے زمانے میں علم لغت کے آپ علمبردار تھے۔(بغيۃ الوعاة للسیوطی 1/519)
شمس الدین ابن الغزی نے آپ کو "امام،
عبد الحی حسنی فرماتے ہیں: آپ فضول کلامی سے دور رہنے والےایک نیک عالمِ دین،
اور زرکلی فرماتے ہیں: آپ علم لغت کےاپنے زمانے کے سب سے بڑے عالم تھے اور فقیہ ومحدث بھی تھے۔(الاعلام 2/214)
عقیدہ اور فقہی مذہب:
آپ کے عقیدے کے متعلق کہیں پر کسی سوانح نگار سے صراحت کے ساتھ کچھ نہیں ملا۔لیکن جس دور میں آپ نے زندگی گزاری ہے وہ ایسا دور تھا جب لوگوں پرعقیدہ تصوف کا تسلط تھا۔آپ کی تصنیفات میں بعض کتابیں تصوف کے موضوع پر ہونے کی وجہ سے یہ شک ہوتا ہے کہ آپ بھی اس مہلک بیماری میں مبتلا تھے۔مثلا کتاب السالکین،
سوانح نگاروں نے بالاتفاق آپ کا شمار علماءاحناف میں کیاہے،
اللہ تعالی ہماری اور ان کی مغفرت فرمائے۔
تصنیفات:
آپ کی تصنیفات کی تعداد بے شمار ہے۔علم لغت،
مجمع البحرين(علم لغت پر بارہ جلدوں میں)
العباب الزاخر واللباب الفاخر۔آپ کی یہ کتاب بڑی اہمیت کی حامل ہے لیکن افسوس کہ غیر مکمل ہے۔علامہ سیوطی اس کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "أعظمُ كتابٍ أُلِّفَ في اللغة بعد عَصْرِ الصحاح كتابُ المُحْكَم والمحيط الأعظم لأبي الحسن علي بن سِيدَه الأندلسي الضَّرير ثم كتابُ العُباب للرضي الصَّغاني"۔[المزہر فی علوم اللغہ وانواعہا:1/ 76]
(زمانۂ الصحاح کے بعد لغت میں جو سب سے عظیم کتاب لکھی گئی وہ ابو الحسن علی بن سیدہ الاندلسی الضریر کی کتاب المحکم والمحیط الاعظم ہے،
یہ دونوں آپ کی مشہور کتابیں ہیں۔
بعض دوسری کتابیں ہیں:النوادر في اللغات (بعض مصادر میں "الشوارد" اور بعض میں "الشواذ" آیا ہے)الأضداد،
(آپ کی تصنیفات کی تفصیل جاننے کے لیے "علمی اسفار" میں ذکر کیے گئے مصادر کی طرف رجوع کریں)
وفات:
73سال کی عمر میں 19 شعبان سنہ 650 ہجری میں بغداد میں آپ کی وفات ہوئی۔وفات سے پہلے وصیت کی تھی کہ آپ کو مکہ مکرمہ لایا جائے اور وہیں دفن کیا جائے۔بلکہ بغداد سے مکہ مکرمہ ڈھوکر لانے والوں کے لیے آپ نے پچاس دینار بھی چھوڑا ہوا تھا۔(دیکھیں: الوافی بالوفیات 12/151-152،
اللہ تعالی آپ کی قبر کو نور سے بھر دے،





