انگریزی تحریر: ڈاکٹر اسماء انجم خان
اردو ترجمہ: ریاض الدین مبارک
گوہا جی کو اگلی بار بندیا،
کیا آپ نے کبھی کوئی لباس ایسا بھی دیکھا ہے جو انسانی جسم کو اپاہج کردیتا ہو،
"چونکہ برقعہ کوئی ہتھیار نہیں ہوسکتا اس لیے علامتی طور پر وہ ایک ترشول کی مانند ہے جو عقیدے کے سب سے زیادہ ردعمل اور قدامت پرستی کے پہلوؤں کی نمائندگی کرتا ہے۔پبلک میں اس کے استعمال پر اعتراض کرنا عدم تحمل کی بات نہیں بلکہ لبرل ازم اور نجات کی عین علامت ہے۔"
افسوس کی بات ہے کہ گوہا جی اپنے ہم مزاج لبرلز کے مابین،
بعد میں اپنے ٹویٹس کی ایک سیریز میں،
"گھر میں یا خاندان کے افراد کے سامنے برقعہ پہننے پر مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن سیاسی ریلیوں میں برقعے کے ساتھ باہر نکلنا واقعی ایک مسئلہ ہے۔حجاب بہت حد تک قابل قبول ہے،
برقعہ گھر سے باہر استعمال کیا جاتا ہے،
جی ہاں،
جناب میرا برقعہ بے ضرر ہے۔یہ نہ مار سکتا ہے اور نہ ہی اپاہج کرسکتا ہے۔یہ تو روزمرہ کا صرف ایک لباس ہے! دیکھو،
کیا انھیں سیاہ پردہ کی تہ بہ تہ لہروں کے پیچھے کوئی طاقت دکھ رہی ہے؟ کیا وہ اس طرح حاشیہ پر پڑی جماعت کے متحد ہونے اور اتنی بڑی تعداد میں ان کے یکجٹ ہونے کی سوچ سے بے اطمینانی محسوس کر رہے ہیں؟
میں نے برقعے کے ساتھ اور اس کے بغیر بھی سپیکٹرم کے دونوں سرے کو بغور دیکھا ہے لہذا دونوں کا فرق واضح کرنا میرے لیے نہایت آسان ہے۔
کچھ معروف یونیورسٹیوں میں میرے ساتھ جو روکاوٹ پیش آئی اس کی وجہ صرف میرا برقعہ تھا۔ایک مقام پر،
صرف ایک برقعہ پوش فاتح کا حوالہ واضح تھا۔اس مبینہ تعصب پر اس شخص کو سخت حیرت ہوئی کہ وہ کس طرح ایک اسمارٹ اور ذہین ہو سکتی ہے؟ کتنے دکھ کی بات ہے کہ لوگوں نے صرف ایک کپڑے کے ٹکڑے کی وجہ سے میری اہمیت گھٹا دی۔ایک دوسرے کانفرنس میں جب پریزنٹیشن کے لیے میں آڈیٹوریم میں کھڑی ہوئی تو ایک بزرگ جج نے مجھے حقارت سے دیکھتے ہوئے غضبناک لہجے میں کہا: "مجھے برقعے سے سخت نفرت ہے،
آپ تصور کر سکتے ہیں کہ میرے اوپر کیا بیتی ہوگی جبکہ میں اسٹیج پر تھی اور سب کی نگاہیں مجھ پر تھیں۔بعد میں انھوں نے اعتراف کیا کہ انھوں نے ایسی کارکردگی کبھی نہیں دیکھی تھی،
برقعہ کے خلاف تعصب جمہوری انداز میں تمام شعبوں اور سماج کی ساری جگہوں پر پھیلا دیا گیا ہے۔ان کی تکلیف اکثر قابل دید ہوتی ہے اور اب میں نے بھی اس سے لطف اندوز ہونا شروع کردیا ہے۔پچھلے بارہ سالوں سے اب تک جب سے میں نے برقعہ پہننا شروع کیا کافی سخت جان ہوچکی ہوں،
گوہا جی کا اعتراض اگر شناختی سیاست کی بنیاد پر ہے تو پھر آگے انھیں بندیا،
یہ بات کہنے کی ضرورت نہیں کہ اگر پبلک میں بندیا لگا کر نکلنا غلط سمجھا جانے لگے تو ہماری ہندو بہنیں کتنی مایوس ہوں گی! گھر سے باہر ہمارے روزمرہ کے لباس پر لوگوں کا اعتراض دیکھ کر ہم مسلم عورتیں ہکّا بکا ہوجاتی ہیں اور برقعے کو ترشول کے مشابہ قرار دینے کے نظریے پر ہمیں سخت دھچکا لگتا ہے! ایک اور بات میں اپنی تمام بے حجابی بہنوں سے کہنے کی اجازت چاہتی ہوں جو اسکارف کے ساتھ اپنی تصویریں پوسٹ کر رہی ہیں کہ حجاب اپنے خالق کو خوش کرنے کے لیے پہنا جاتا ہے نا کہ کسی خاص مورخ کو زچ کرنے کے لیے!
مزے کی بات ہے کہ گوہا جی نے 1927 میں لکھے گئے مہاتما گاندھی کے ایک اقتباس کو ٹویٹ کیا ہے: "جزوی طور پر یہ ہماری اپنی کمزوری،
مہاتما گاندھی کا جو مقام تھا ہم اس کا پورا احترام کرتے ہیں لیکن اپنے لباس میں عمومی طور پر ہم اپنے خالق حقیقی کے سوا کسی اور کا حکم نہیں مانتے۔پردہ ان دنوں عورتوں کو اپنے گھروں سے باہر آزادانہ موومنٹ پر بھی پابندی عائد کرتا تھا۔سوال ہے کیا مہاتما پردے کی اس روایت کو ختم کرنا چاہتے تھے جس کی رو سے عورت نہ گھر سے باہر نکل سکتی تھی،
یقین نہ آئے تو کوشش کرکے آزما لو!
لبرلز کا یہ موقف اختیار کرنا کہ برقعہ عورت کی اپنی پسند کا مسئلہ نہیں ہوسکتا،
براہ کرم آپ زمین پر اتر کر دیکھیں! ایک سادہ لباس کو عجیب الخلقت بنانا پھر اسے سیاست کا رنگ دینا،
مسلمان دنیا بھر میں پنجہ آزمائی کے لیے عمدہ ترین تختۂ مشق بن چکا ہے۔
یونانی قصہ ہے کہ موت کو دھوکہ دینے کی وجہ سے ایفرا کے یونانی بادشاہ سیسیفیوس کو ھادس میں دائمی سزا دی گئی تھی کہ وہ وادی سے ایک چٹان اٹھا کر پہاڑ کی چوٹی پر لے جائے اور وہاں سے اسے لڑھکا دے اور یہی عمل وہ بار بار ابد تک کرتا رہے۔اگرچہ یہ ایک بے مقصد کام تھا لیکن اسی بہانے وہ کچھ کرتے ہوئے اطمینان محسوس کرتا تھا جبکہ ہمارے پاس تو وہ بھی نہیں۔ہمارے سیسیفیوس کو تو ایک کھڑی چٹان والی پہاڑی پر الٹا لٹکا دیا گیا ہے،
کسی خواب میں بھی نہیں
آخر میں موجودہ مؤرخ اور اس جیسے تمام لوگوں سے میرا ایک سوال ہے کہ اگر ہم اپنا برقعہ اتار کر پھینک دیں تو کیا ہمارے خلاف بھید بھاؤ اور امتیازی سلوک ختم ہوجائے گا؟ کیا فسادات کے دوران ہندو مرد ہماری آبرو ریزی سے رک جائیں گے؟ ہم اگر اپنا برقعہ جلا ڈالیں تو کیا حکومتیں ہمیں تعلیم اور ملازمتوں میں ریزرویشن دینے کے لیے تیار ہیں؟
ہم اسے کبھی نہیں چھوڑیں گے کیونکہ اسے ہم نے اپنی مرضی سے چنا ہے۔ہمارے یہ خوبصورت پردے جو نہ صرف ہمیں تکمیل کا سامان مہیا کرتے ہیں بلکہ ہمیں ایک منفرد امتیازی شناخت بھی دیتے ہیں۔یقیناً میری غیر حجابی بہنوں کے لیے جو اسے نہیں پہنتی ہیں،
اب وقت آ گیا ہے کہ ان سورن لبرلز یعنی اونچی ذات والوں سے روایت واپس لی جائے اور اپنے مقدس تصورات کو مسخ کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ہم اپنے ایمان،
برقعہ ایک اسلامی علامت ہے جو دائیں اور بائیں دونوں بازؤوں کو متحد رکھنے کا امتیازی شان رکھتا ہے اور اس برقعے کے تئیں ان لوگوں کی دیرینہ نفرت اور ان کی اسلامفوبیا کے مقابل میں کھڑا رہتا ہے۔
مہاتما کے لفظوں کی ہرکاری کرتے ہوئے میں دعاگو ہوں:
ہے رام! رامچندر کو سمّتی دے بھگوان!





