مقام حزورة کا تھا،
اللہ کی قسم تو میرے نزدیک روئے زمین کی سب سے محبوب سرزمین ہے،
تقریبا آٹھ سال کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لاؤ لشکر سمیت اسی شہر مکہ میں ایک فاتح کی حیثیت سے داخل ہو رہے تھے اور کعبة الله میں رکھے بتوں کو اپنی چھڑی سے ایک ایک کرکے گراتے جارہے تھے اور پڑھتے جارہے تھے: "وقل جاء الحق وزهق الباطل إن الباطل كان زهوقا" اور اعلان کر دو کہ "حق آ گیا اور باطل مٹ گیا،
"قل جاء الحق وما يبدئ الباطل وما يعيد" کہہ دیجیئے کہ حق آچکا باطل نہ تو پہلے کچھ کرسکا ہے اور نہ کرسکے گا (سـبأ،
مجبوری سے اختیار تک کا یہ سفر اللہ کے فضل و کرم کے بعد دراصل صحیح رخ پر صحیح طریقے سے کی گئی محنت کا ثمرہ تھا،
آج مسلمانانِ ہند نے بھی پوری یا ادھوری محنت کے بعد مسجد کی زمین کو مجبورا چھوڑ دیا ہے۔اب اس پر دوبارہ اختیار کب حاصل ہوگا؟
اس سوال کا جواب قرآن و سنت اور تاریخ و سیرت بڑی وضاحت کے ساتھ دیتے ہیں۔
قوموں کی زندگی میں ایسے عظیم حادثات و واقعات کا رونما ہونا سنت الہی کا بھی ایک حصہ ہے "وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ" ہم ان دنوں کو لوگوں کے درمیان ادلتے بدلتے رہتے ہیں۔(آل عمران: 140)
لیکن اصل فرق اس بات سے پڑتا ہے کہ زوال سے عروج تک کے دورانیے کو قومیں اللہ کی توفیق کے بعد اپنی لگن،
یہ ہمارا یقین ہے کہ انجامِ کار کامیابی ایمان والوں کا مقدر ہے "والعاقبة للمتقين"
اور ایک نہ ایک دن روئے زمین کے ہر گھر میں اسلام کا کلمہ داخل ہوکر رہے گا "يبلغ هذا الأمر ما بلغ الليل والنهار،
اللہ تعالی ہر کچے پکے مکان میں اسلام کو داخل کر دے گا،
لیکن یہ کامیابی پکے پھل کی طرح کسی کے دامن میں آکر گرنے والی نہیں ہے،
عقل مند اپنے حال کو اپنے ماضی کے غم یا ماتم میں نہیں بلکہ مستقبل کی تعمیر کی فکر اور تدبیر میں لگاتا ہے۔
مایوس اور ناامید لوگ صرف اسی فکر میں لگے رہتے ہیں کہ ناکامی کا ٹھیکرا کس کے سر پھوڑا جائے،
ڈوبتے سورج کو دو لوگ دیکھتے ہیں،
تاریخ میں یورپ کی مثال بھی ہے جہاں کے ایک ایک قصبہ سے مسلمانوں کو کھدیڑا گیا تھا،
بات چاہے دین کی ہو کہ قوم کے مستقبل کی ہندوستانی مسلمان خوابوں کے خریدار ہیں،
جاگتی آنکھوں خواب دیکھنے کی عادت ڈالیں جو آپ کو رات میں سونے نہ دیں۔
تاریخ کا یہی سبق ہے کہ زوال اکثر دوسرے کی طاقت سے زیادہ خود کی کمزوری کا مرہونِ منت ہوتا ہے۔
آج ہندوستانی مسلمان کے لئے بھی یہی ضابطہ و قانون ہے،
قرآن تسلی بھی دیتا: (فَإِنَّ مَعَ ٱلۡعُسۡرِ یُسۡرًا إِنَّ مَعَ ٱلۡعُسۡرِ یُسۡرࣰا ) پس یقیناً مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔(الإنشراح:٥-٦)
اور راہ بھی سجھاتا ہے: (فَإِذَا فَرَغۡتَ فَٱنصَبۡ وَإِلَىٰ رَبِّكَ فَٱرۡغَب) لہٰذا جب تم فارغ ہو تو عبادت کی مشقت میں لگ جاؤ اور اپنے رب ہی کی طرف راغب ہو (الإنشراح: ٧-٨)
ہے کوئی اس راہ پر چلنے والا؟
جو بڑھ کر خود اٹھا لے ہاتھ میں مینا اسی کا ہے۔





