برصغیر ہند وپاک سے آنے والے بہت سارے حجاج ومعتمرین کے یہاں یہ عقیدہ پایا جاتا ہے کہ سفر حج وعمرہ میں قبر نبوی اور مدینہ طیبہ کی زیارت ایک لازمی شی ہے،
اس میں کوئی شک نہیں کہ تمام مسلمانوں کے لیے مسجد نبوی کی زیارت اور اس میں نماز ادا کرنا باعث سعادت ہے۔جن تین مساجد کے لیے رخت سفر باندھنا شریعت نے جائز قرار دیا ہے ان میں سے ایک مسجد نبوی کی زیارت ہے۔(صحیح بخاری: حدیث نمبر 1197)
اس میں نماز پڑھنے کا ثواب صحیح حدیث کے مطابق ایک ہزار نماز سے بھی افضل ہے۔(صحیح بخاری: حدیث نمبر1190)
جب کسی کو حج یا عمرہ کی سعادت نصیب ہو تو ان کے لیے اسی سفر میں مدینہ طیبہ کی بھی زیارت سے سرفراز ہونا ایک باعث سعادت امر ہے۔لیکن اسے ضروری سمجھنا اور حج وعمرہ کے ساتھ اسے جوڑنا قطعًا صحیح نہیں۔حج وعمرہ کی صحت یا قبولیت کا قبر نبوی یا مدینہ طیبہ کی زیارت سے ادنی سا بھی تعلق نہیں ہے۔حج وعمرہ کا تعلق صرف خانہ کعبہ اور مشاعر مقدسہ (منی،
جو حضرات ایسا عقیدہ رکھتے ہیں کہ حج وعمرہ کی صحت یا قبولیت کے لیے قبر نبوی کی زیارت ضروری ہے اس تعلق سے دو حدیثیں پیش کرتے ہیں۔اس مختصر مضمون میں ان دونوں حدیثوں کا جائزہ پیش کیا جا رہا ہے:
✿ پہلی حدیث: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے،
(جس نے حجۃ الاسلام کیا اور میری قبر کی زیارت کی،
✿ جائزہ: اس حدیث کو حافظ ابو طاہر سلفی نے المشیخۃ البغدادیہ میں درج ذیل سند سے روایت کیا ہے،
أخبرنا أبو إسحاق إبراهيم بن عمر بن أحمد البرمكي،
یہ روایت موضوع ہے۔اس کی آفت ابو سہل بدر بن عبد اللہ المصیصی ہے،
موضوع روایتوں کے جمع کرنے پر محدثین کرام نے جو کتابیں لکھی ہیں ان میں انھوں نے اس حدیث کا بھی ذکر فرمایا ہے،
✿ دوسری حدیث: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے: ”من حج البيت فلم يزرني فقد جفاني“.
(جس نے بیت اللہ کا حج کیا اور میری زیارت نہیں کی اس نے میرے ساتھ بے رخی برتی)
✿ جائزہ: یہ حدیث دو طریق سے مروی ہے۔
پہلا طریق: اسے ابن عدی نے ”الکامل“(8/248) میں،
یہ سند بھی موضوع ہے۔اس کی آفت محمد بن محمد بن نعمان بن شبل ہے جسے امام دار قطنی نے متہم قرار دیا ہے۔(تعلیقات الدار قطنی علی المجروحین لابن حبان،
اور ان کے دادا نعمان بن شبل کو بھی موسی بن ہارون الحمال نے متہم قرار دیا ہے۔(الکامل لابن عدی،
امام ابن عدی،
جب کہ امام دار قطنی نے اس کا انکار کیا ہے۔اور اسے حفید محمد کے مناکیر میں سے ہونے کو راجح قرار دیا ہے۔فرماتے ہیں: ”اس حدیث میں طعن ان (حفید محمد) پر ہے،
بہر حال ان دونوں کی موجودگی کی وجہ سے ابن عمر رضی اللہ عنہ کا یہ طریق موضوع اور من گھڑت ہے۔
شیخ البانی رحمہ اللہ اس پر وضع کا حکم لگانے کے بعد فرماتے ہیں: ”اس کی آفت محمد بن محمد بن نعمان بن شبل یا ان کے دادا ہیں“۔(سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ (1/119) حدیث نمبر (45)
دوسرا طریق: بعض متاخرین حفاظ نے اسے نعمان بن شبل عن محمد بن الفضل،
یہ طریق بھی پہلے کی طرح ہی من گھڑت ہے۔
نعمان بن شبل کے متعلق گزرا کہ وہ متہم ہے۔اور اس کے شیخ محمد بن الفضل کو ابن معین،
اور محمد بن الفضل کے شیخ جابر جعفی کو بھی ابن معین وغیرہ نے کذاب کہا ہے۔امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ ان کے متعلق فرمایا کرتے تھے: ”میں نے ان سے بڑا کذاب نہیں دیکھا“۔(تاریخ ابن معین بروایۃ الدوری:3/280،
اس لیے یہ روایت بھی موضوع اور من گھڑت ہے۔اس سے استدلال کرنا جائز نہیں۔
متعدد علماء نے اپنے ان کتابوں میں اس حدیث کو ذکر کیا ہے جو کتابیں موضوع اور من گھڑت روایتوں کے لیے خاص ہیں۔
مثلا اسے ابن الجوزی نے ”الموضوعات“(2/217) میں،
سخت تعجب اور افسوس ہوتا ہے ان حضرات پر جو اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں اور اس کی حالت کے متعلق سوال کرنے پر صرف اسے صحیح ہی نہیں کہتے بلکہ صحیحین کے اندر موجود ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔راقم حروف کئی بار ایسے حالات کا سامنا کر چکا ہے۔جب کہ اس کا صحیح و صحیحین میں ہونا تو دور کتب احادیث کی معروف کتابوں تک میں کوئی تذکرہ نہیں ہے۔اور اس کے موضوع ومن گھڑت ہونے پر تقریبا محدثین کا اتفاق ہے۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہم تمام مسلمانوں کو ہدایت دے۔اور دین صحیح کے اتباع کی توفیق عطاء فرمائے۔آمین





