وضو میں ناک اور منہ میں پانی ڈالنے کے متعلق احادیث نبویہ میں دو طریقے مذکور ہیں۔
پہلا طریقہ: ایک چلو پانی لیا جائے اور اس کا کچھ حصہ ناک میں اور کچھ حصہ منہ میں داخل کیا جائے۔ناک کے لیے الگ اور منہ کے لیے الگ چلو سے پانی نہ لیا جائے۔
عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی طریقہ بیان کیا ہے: "مضمض واستنشق من كفة واحدة" (ناک اور منہ میں ایک چلو سے پانی ڈالا) جسے امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح (حدیث نمبر 191) میں روایت کی ہے۔اور اس پر باب باندھا ہے: باب من مضمض واستنشق من غرفة واحدة۔
آگے حدیث نمبر (199) میں عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ثم أدخل يده في التور،
اس حدیث کو امام مسلم نے بھی اپنی صحیح (1/210،
اس متفق علیہ حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا طریقہ بالکل واضح ہے کہ آپ نے ناک اور منہ کے لیے ایک چلو پانی کا ہی استعمال کیا،
دوسرا طریقہ: ناک اور منہ کے لیے الگ الگ پانی لیا جائے۔ایک ہی چلو سے دونوں میں پانی نہ داخل کیا جائے۔
اس سے متعلق دو حدیثیں وارد ہیں:
پہلی حدیث: عمرو بن کعب الہمدانی سے مروی ہے،
(میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا،
یہ روایت لیث بن ابی سلیم کے ضُعف اور مصرف کی جہالت کی بنا پر ضعیف ہے۔امام نووی نے اسے بالاتفاق ضعیف قرار دیا ہے،
دوسری حدیث: شقیق بن سلمہ فرماتے ہیں: "رَأَيْتُ عَلِيًّا وعُثْمَان توضَّآ ثَلاثًا ثَلاثًا" ثُمَّ قَالا: "هَكَذَا تَوَضَّأَ النَّبِيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَذَكَرَ أَنَّهُمَا أَفْرَدَا الْمَضْمَضَةَ وَالاسْتِنْشَاقَ"
(میں نے علی اور عثمان کو دیکھا،
اسے ان الفاظ کے ساتھ ابن ابی خیثمہ رحمہ اللہ نے ”تاریخ کبیر“ (3/187،
ان کے تلامذہ کی ایک جماعت نے ان سے یہ حدیث روایت کی ہے۔جن میں سے اکثریت کے یہاں مضمضہ اور استنشاق کا طریقہ مذکور نہیں ہے۔صرف علی بن الجعد اور بشر بن المفضل کی روایت میں مضمضہ اور استنشاق کے لیے الگ پانی لینے کا ذکر ہے۔اور ان کی روایتوں میں بھی اختلاف ہے جس کی تفصیل پیش ہے:
اولا: علی بن الجعد بن عبید الجوہری کی روایت:
ابن ابی خیثمہ نے تاریخ کبیر (3/ 187) میں ان سے براہ راست روایت کیا ہے۔ان کے الفاظ ہیں: "رأيت عليا وعثمان توضآ ثلاثا ثلاثا" ثم قالا: "هكذا توضأ النبي صلى الله عليه وسلم" وذكر أنهما أفردا المضمضة والاستنشاق"
اس روایت میں مضمضہ اور استنشاق کے لیے الگ الگ پانی لینے کا ذکر موجود ہے۔
لیکن یہی حدیث علی بن الجعد سے ان کے دو اور شاگرد موسی بن ہارون اور ابن ابی داود بھی روایت کرتے ہیں اور مضمضہ اور استنشاق کے لیے الگ پانی لینے کا کوئی ذکر نہیں کرتے۔ان کے الفاظ ہیں: "عن عثمان،
موسی بن ہارون سے طبرانی نے مسند الشامیین (1/107،
نیز ابن ابی خیثمہ کی روایت میں علی اور عثمان رضی اللہ عنہما دونوں کی طرف اسے منسوب کیا گیا ہے۔جب کہ ابو القاسم البغوی نے اپنے جزء (ص68،
ثانیا: بشر بن المفضل کی روایت:
ابن ابی خیثمہ نے علی بن الجعد کی روایت کے فورا بعد اسے بشر بن المفضل کے طریق سے بھی روایت کیا ہے۔فرماتے ہیں: "حدثنا عبيد الله بن عمر،
هكذا قال شقيق: رأيت عثمان بن عفان وعلي بن أبي طالب. (التاريخ الكبير لابن أبي خيثمة 3/187)
لیکن ابن ابی خیثمہ نے جس طریق سے روایت کیا ہے اسی طریق سے ابو یعلی الموصلی نے بھی اسے روایت کیا ہے اور ان کی روایت میں مضمضہ اور استنشاق کے لیے الگ الگ پانی لینے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ابو یعلی فرماتے ہیں: "حدثنا عبيد الله،
لہذا دونوں کی روایت میں مضمضہ اور استنشاق کے لیے الگ الگ پانی لینے کا ذکر راجح قرار نہیں پاتا۔نیز ان دونوں کے علاوہ عبد الرحمن بن ثابت بن ثوبان کے شاگردوں کی ایک بڑی تعداد نے ان سے یہ حدیث روایت کی ہے اور کسی نے مضمضہ اور استنشاق کے لیے الگ الگ پانی لینے کا ذکر نہیں کیا ہے۔جس کی تفصیل درج ذیل ہے:
1–عاصم بن علی:
ان سے ابو عبید القاسم بن سلام نے الطہور (ص167،
2–الولید بن مسلم الدمشقی:
ابن ماجہ (1/265،
3–ابو نعیم الفضل بن دکین:
ان سے ابو الحسن بن سلمہ (دیکھیں: سنن ابن ماجہ 1/265) نے ابو حاتم رازی کے واسطے سے اور ابو زرعہ رازی (الفوائد المعللہ: ص173،
4–موسی بن داود:
ان سے بزار (مسند: 2/51،
5–الہیثم بن جمیل:
ان سے طحاوی نے شرح معانی الآثار (1/29،
6–غصن بن اسماعیل الانطاکی:
ان کے طریق سے ابو محمد المخلدی نے (الفوائد المنتخبة من أصول مسموعات المخلدي انتخاب البحيري-مخطوط (ص: 178) میں روایت کیا ہے۔اس کی سند ضعیف ہے۔
ان تمام شاگردوں کے الفاظ اس طرح کے ہیں: عن شقيق بن سلمة،
کسی نے بھی اپنی روایت میں مضمضہ اور استنشاق کے لیے الگ الگ پانی لینے کا ذکر نہیں کیا ہے جیسا کہ علی بن الجعد اور بشر بن المفضل کی بعض روایات میں ملتا ہے۔
اسی طرح ابو داود طیالسی (مسند: 1/146،
لہذا ان تمام طرق کو جمع کرنے کے بعد بالکل واضح ہوجاتا ہے کہ ابو وائل شقیق بن سلمہ کی روایت میں مضمضہ اور استنشاق کے لیے الگ الگ پانی لینے کا لفظ ثابت نہیں ہے۔ابن ابی خیثمہ کی روایت میں کسی نہ کسی سے غلطی ہوئی ہے،
اور ایک جگہ فرماتے ہیں: "مختلف في الاحتجاج به" [تغليق التعليق:3/446]
جہاں ایک جماعت نے ان کی توثیق کی ہے وہیں بعض نے ان پر کلام بھی کیا ہے۔امام احمد نے ان کی احادیث میں "مناکیر" کے پائے جانے کی بات کی ہے۔[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم:5/ 219]
اور ابو حاتم رازی نے آخری زندگی میں ان کے اختلاط کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔[تہذیب الکمال:16/17]
حافظ ابن حجر ان کے متعلق فرماتے ہیں: "صدوق يخطئ ورمي بالقدر وتغير بأخرة". [تقريب التهذيب:ص 337]
اس لیے گرچہ کم ہی ہو لیکن ان سے بھی غلطی کا احتمال ہے۔بہر حال جن سے بھی غلطی ہوئی ہو لیکن ہوئی ہے،
یہاں بعض حضرات نے عبد الرحمن بن ثابت بن ثوبان کے اصحاب کے مابین اس کے الفاظ کے اختلاف کو نظر انداز کرتے ہوئے اسے قابل قبول کہنے کی کوشش کی ہے۔ان کی دلیل یہ ہے کہ علی بن الجعد اور بشر بن المفضل ثقہ ہیں اس لیے ان کی زیادتی مقبول ہے۔حالانکہ ثقہ کی زیادتی مطلقا قابل قبول ہو یہ کبھی محدثین کا منہج نہیں رہا ہے۔یہ بعض حضرات کا شاذ منہج ہے۔محدثین قرائن کے حساب سے ترجیح دیتے ہیں اور زیادتی کے قبول یا رد کا فیصلہ کرتے ہیں۔اس کی بہت ساری مثالیں موجود ہیں۔علل کی کتابیں ان مثالوں سے بھری ہوئی ہیں۔
علامہ علائی نے اپنی کتاب ”نظم الفرائد لما تضمنہ حدیث ذی الیدین من الفوائد“ میں اسے بہترین انداز میں بیان کیا ہے،
"أئمة الحديث المتقدمون منهم: كيحيى بن سعيد القطان وعبد الرحمن بن مهدي،
اور ایک جگہ فرماتے ہیں: "إنّ الجماعة إذا اختلفوا في إسناد حديث كان القول فيهم للأكثر عدداً أو للأحفظ والأتقن...،
ثقہ راوی سے بھی غلطی ہوسکتی ہے اور محدثین کرام نے بہت ساری احادیث میں ثقہ روایوں کی بعض غلطیوں کی نشاندہی بھی کی ہے۔ابھی حال ہی میں ایک مضمون ”إزالة الوله عن وهَم الحافظ الثقة“ میں میں نے اسے ذکر کیا ہے جو کہ الاقلام الحرہ میں نشر ہوا ہے۔اس پورٹل میں میری اور بھی کئی حدیثوں کی تخریج میں اس کی مثالیں آپ کو مل جائیں گی۔مثلا: «هل تسوك النبي صلى الله عليه وسلم وهو صائم؟», «هل أمر عمر بن الخطاب رضي الله عنه في عهده بقيام رمضان بعشرين ركعة؟», «هل قيام رمضان يكفر الذنوب المؤخرة مع المقدمة؟»
شیخ محمد ناصر الدین البانی رحمہ اللہ علی بن الجعد کی روایت کے متعلق فرماتے ہیں: "أشك في ثبوت ذكر المضمضة والاستنشاق في هذا الحديث"۔
(اس حدیث میں مضمضہ اور استنشاق کے ثابت ہونے میں مجھے شک ہے) [ضعيف أبي داود:1/45]
بلکہ حافظ ابن حجر اور شیخ البانی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ سے اس کے برخلاف مروی ہے۔[التلخيص الحبير:1/ 203،
ان کا اشارہ علی رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کی طرف ہے جس میں ایک ہی چلو سے ناک اور منہ کے لیے پانی لینے کا ذکر ہے۔جسے امام ابو داود نے روایت کیا ہے۔فرماتے ہیں: حدثنا مسدد،
(عبد خیر کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ ہمارے ہاں تشریف لائے اس حال میں کہ وہ نماز پڑھ چکے تھے،
شیخ البانی اور شعیب ارنووط وغیرہ نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔
خلاصہ کلام: آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مضمضہ اور استنشاق کا جو طریقہ متفق علیہ حدیث سے ثابت ہے وہ یہ کہ منہ اور ناک کے لیے ایک چلو پانی ہی کا استعمال کیا جائے،
علامہ ابن القیم فرماتے ہیں:
"كَانَ يَصِلُ بَيْنَ الْمَضْمَضَةِ وَالِاسْتِنْشَاقِ،
(آپ صلی اللہ علیہ وسلم مضمضہ اور استنشاق ملاکر کرتے،
نیز فرماتے ہیں: "لَمْ يَجِئِ الْفَصْلُ بَيْنَ الْمَضْمَضَةِ وَالِاسْتِنْشَاقِ فِي حَدِيثٍ صَحِيحٍ الْبَتَّةَ" [زاد المعاد:1/185]
(کسی بھی صحیح حدیث میں مضمضہ اور استنشاق کے لیے الگ الگ پانی لینے کی بات نہیں آئی ہے)
اسی طرح کی بات امام نووی نے بھی کہی ہے۔[المجموع:1/360]
اور شیخ البانی فرماتے ہیں:
"وأما الفصل؛





