علم و حکمت کا ایک سر چشمہ جو خشک ہوگیا
(حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ)
سن ۱۸ ھجری میں ملک شام میں طاعون پھیل گیا جو طاعون عمواس کے نام سے مشہور ہوا،
پچھلے چھ ماہ سے زائد عرصہ سے پوری دنیا میں پھیلی کرونا کی وبا نے اسی طاعون عمواس کی یاد تازہ کردی ہے۔اس وبا کے دوران وبا سے متاثر ہوکر یا اس کے بغیر علم و فضل کی حامل کئی شخصیتیں ہمیں داغ مفارقت دے گئی ہیں جس کی وجہ سے علم و حکمت کی مسندیں خالی ہوتی جارہی ہیں اور نگاہوں کے سامنے امام ذھبی کی فن حدیث سے متعلق اس علمی تعبیر کی علوم شرعیہ سے متعلق عملی تفسیر نظر آنے لگی ہے: "فأين علم الحديث؟ وأين أهله؟ كدت لا أراهم إلا في كتاب أو تحت التراب"۔
(آج علم حدیث کہاں ہے؟ اور اس کے ماہر کہاں ملتے ہیں؟ اب تو یوں لگتا ہے کہ شاید ایسے لوگ یا تو کتابوں میں ملیں گے یا منوں مٹی کے نیچے).
اس سلسلہ میں ایک اور نام کل رات جڑگیا جب پاکستان سے یہ خبر موصول ہوئی کہ حافظ صلاح الدین یوسف صاحب بھی وفات پاگئے -إنا لله وإنا إليه راجعون-اللهم أجرنا في مصيبتنا و أخلف لنا خيرا منه-
تفسیر،
(یہ تحریر لکھتے وقت چونکہ میں سفر میں ہوں اس لیے) ہمارے بعض احباب نے حافظ صاحب کی مطبوعہ کتابوں کی درج ذیل فہرست فراہم کی ہے:
1) تفسیر أحسن البیان
2) رياض الصالحین: ترجمہ وفوائد
3) خلافت وملوكيت کی تاريخى وشرعى حيثيت
4) رمضان المبارک فضائل اور احكام ومسائل
5) فضائل عشرہ ذو الحجہ اور احكام ومسائل عيد الاضحى
6) نماز مسنون مع ادعیہ ماثورہ
7) نماز محمدى
8) توحيد اور شرک كى حقیقت مع مغالطات وشبہات
9) نفاذ شريعت كيوں اور كيسے؟
10) مفرور لڑکیوں كا نكاح اور ہمارى عدالتيں
11) عورتوں کے امتيازى مسائل وقوانين
12) کیا خواتین کا طریقہ نماز مردوں سے مختلف ہے؟
13) اسلامى آداب معاشرت
14) واقعۂ معراج اور اس کے مشاہدات
15) رسومات محرم الحرام اور سانحۂ کربلا
16) زکوٰۃ وعشر کے احکام اور مسائل وفضائل
17) مسنون نکاح اور شادی بیاہ کی رسومات
18) قبر پرستی: قبر پرستوں کے دلائل کا جائزہ
19) حصن المسلم مشہور دعا کی کتاب کا اردو ترجمہ
20) اجتہاد اور تعبیر شریعت کے اختیار کا مسئلہ،
21) ایصال ثواب اور قرآن خوانی
22) جشن عید میلاد النبی
23) اہل حدیث اور اہل تقلید
24) حد رجم کی شرعی حیثیت
25) عورت کی سربراہی کا مسئلہ اور شبہات و مغالطات کا جائزہ
26) اسلامی خلفاء وملوک کے متعلق غلط فہمیوں کا ازالہ
27) حقوق الأمۃ
28) حقوق العباد
29) حقوق الوالدين
30) حقوق الأولاد
31) حقوق الزوجين
32) کھانے پینے کے آداب
33) سونے جاگنے کے آداب
34) سلام کے آداب واحکام
35) خواتین سے متعلق بعض اہم مسائل احادیث کی روشنی میں
36) ایام مخصوصہ میں عورت کا قرآن پڑھنا اور چھونا
37) مسئلہ طلاق ثلاثہ اور علماء احناف
38) عظمت حدیث اور اس کے تقاضے
39) اسلامی لباس... آداب واحکام
40) تحریک جہاد اور اہل حدیث واحناف
41) ترجمۃ القرآن لفظی بکسوں میں
42) منحة الباری ترجمة الأدب المفرد للبخاری
43) تنقیح الرواة في تخريج أحاديث المشکوۃ
44) نميمة الصبي في ترجمة الأربعين من أحاديث النبي- سيد نواب صديق حسن بھوپالی رحمہ اللہ کی کتاب کی تسہیل وتنقیح
45) اہل حدیث کا منہج اور احناف سے اختلاف
46) یا اللہ مدد
47) حقوق وفرائض
48) مسئلہ رؤیت ہلال اور بارہ اسلامی مہینے
(49)فتنہ غامدیت
(50) حقوق مردوں اور حقوق نسواں
وغیرہ-
(ماخوذ از دبستان حدیث: مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ ص 578-588 / فہرست کتب مکتبہ فہیم مئو ناتھ بھنجن یوپی 18-2019/ صفحہ نمبر 50-51)
(ہوسکتا ہے اس فہرست میں مزید اضافہ ہو خاص طور پر غیر مطبوعہ کتابیں اور مضامین اور زیر تحقیق و ترتیب کام جو ادھورے رہ گئے جن کے سلسلے میں مکتبہ دارالسلام سے وابستہ حضرات یا شیخ کے براہ راست شاگرد اور ورثہ کوشش کریں تو ساری محنت یکجا ہوسکتی ہے۔)
آپ کتابوں کی صرف فہرست دیکھ لیں،
موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس
یوں تو دنیا میں سبھی آئے ہیں مرنے کے لیے
(محمود رامپوری)
آپ علامہ ابن تیمیہ-رحمہ اللہ-کی "منہاج السنہ النبویہ" پڑھیں،
ایسے موضوعات میں کسی ایک کی تائید میں لکھ جانا اور یک طرفہ حوالوں سے کتاب کو بھردینا بہت آسان کام ہے اور تحقیق کے نام پر ایسے جانبدارانہ موقف ماضی و حال میں بہت سارے لوگ اپنا چکے ہیں مگر طرفین کے ساتھ علامہ ابن تیمیہ جیسے انصاف کی ایسی مثالیں محض توفیق الہی سے قائم کی جاسکتی ہیں -ذلك فضل الله يؤتيه من يشاء والله ذو الفضل العظيم-
میں نے "خلافت و ملوکیت کی تاریخی و شرعی حیثیت" پہلے پڑھی تھی۔
جامعہ اسلامیہ مدینہ طیبہ میں ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے اس علمی شاہکار سے آگاہی ہوئی اور اس کے بعض حصوں سے خوشہ چینی کی اور ایک بار پھر "خلافت و ملوکیت کی تاریخی و شرعی حیثیت" پڑھنے کا اتفاق ہوا تو اپنے محدود مطالعہ کی روشنی میں سہی یہ احساس پیدا ہوا کہ "خلافت و ملوکیت کی تاریخی و شرعی حیثیت" میں واقعاتی شواہد کی روشنی میں تحلیل و تجزیہ میں علامہ ابن تیمیہ کی علمی شان نظر آتی ہے اور علمی امانت اور اس کے تقاضوں کی رعایت کے ساتھ ساتھ دفاعِ سنت و اہلِ سنت کی وہی سلفی تڑپ نظر آتی ہے جو ابن تیمیہ و حافظ صاحب میں قدر مشترک کی حیثیت رکھتی ہے۔ ومن جرب مثل تجربتي عرف مثل معرفتي۔
یہ میرا ایک ایسا تاثر ہے جو کتاب کے مطالعے کے دوران خود بخود پیدا ہوا۔موازنہ کرنے کی کوئی پیشگی نیت نہیں تھی۔
مجھے اندازہ نہیں کہ حافظ صاحب نے اس وقت تک علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کو کس حد تک پڑھا تھا-کیونکہ بقول مؤرخ اہل حدیث اسحاق بھٹی صاحب اس وقت حافظ صاحب کی عمر صرف بیس اکیس سال کی تھی-مگر یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ منہج کی یکسانیت نے منہاج کا یہ رنگ حافظ صاحب کی تصنیف پر چڑھایا اور فکر و نظر کہ وحدت نے (منہاج السنہ) کے اسی راستے پر حافظ کو بھی چلایا- إنهما لمن مشكاة واحدة۔
رد و قدح کا میدان ایک الگ ماحول رکھتا ہے،
یہ سچ ہے کہ سرحدیں فکر و نظر کے رشتوں کو ختم نہیں کرسکتیں،
حصول علم یا شاگردی کے جو درجے محدثین نے طے کئے ہیں ان میں کم تر درجہ "وِجادہ" کا ہے،
حافظ صاحب کی ایک اور امتیازی خصوصیت ہے؛
مولانا حافظ صلاح الدین یوسف صاحب کی تفسیر أحسن البيان،
اللہ غریق رحمت کرے،





