مدینہ یونیورسٹی میں رہتے ہوئے مسجد نبوی کے دروس کے علاوہ شیخ ضیاء الرحمن اعظمی حفظہ اللہ سے دو بار خصوصی طور پر ملنے کا موقع ملا۔یقینا ان سے مل کر اور بہت سارے علمی مسائل کی معلومات حاصل کرکے خوشی ہوئی۔
پہلی ملاقات برادر گرامی قدر ڈاکٹر معراج عالم تیمی مدنی حفظہ اللہ کے ساتھ ان کے گھر پر ہوئی۔ملنے کا وقت پہلے طے تھا۔میرے اور شیخ معراج عالم تیمی کے علاوہ چند اور بھی طلبہ تھے جن کا نام اس وقت میرے ذہن میں نہیں۔
ان کی رہائش گاہ پر تقریبا دس بجے دن کے بعد پہنچے۔شیخ ضیاء اندرون خانہ تھے،
شیخ ضیاء (محبت سے ہم طلبہ انھیں اسی نام سے موسوم کرتے ہیں) نے یہ بھی بتلایا کہ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے شعبہ حدیث کے ہیڈشپ سے سبکدوش ہونے کے بعد کئی خلیجی ملکوں سے انھیں تدریس اور تحقیق کا آفر ملا،
دکتور ضیاء حفظہ اللہ سے دوسری خصوصی ملاقات کا شرف جامعہ اسلامیہ کے"باب خلفی" (یونیورسٹی کے طلبہ کے مابین یہ دروازہ کافی مشہورہے،
شیخ جامعہ اسلامیہ مدینہ کے شعبہ حدیث کے لکچرر اور ہیڈ رہ چکے تھے۔اکثر ذمہ داران اور کارکنان ان کی شخصیت سے واقف تھے۔اگر وہ چاہتے تو مین گیٹ سے آکر اپنی ضرورت پوری کرسکتے تھے۔وہاں موجود طلبہ نے کہا بھی کہ شیخ! آپ صدر دروازہ سے بھی آسکتے تھے،
یہ ہے اپنے وقت کے ایک عظیم محدث اور مدرس کا تواضع۔اگر ہم میں سے کوئی ہوتا تو پتا نہیں کتنی شیخی بگھارتا،
ہم لوگوں ہی کے زمانے میں مسجد نبوی سے قرار منظور ہوا کہ شیخ محترم کو مدرس حرم نبوی کی کرسی پر فائز کیا جائے۔یقینا یہ شرف اور بلندی رتبہ کی بات ہے۔شیخ کے درس کا آغاز "الباعث الحثیت" سے ہوا۔جوق در جوق ہندوستانی اور غیر ہندوستانی طلبہ کا ہجوم ان کے درس میں شامل ہوتا۔عجم سے زیادہ عرب نے ان کے علم وفضل سے استفادہ کیا۔کچھ درسوں میں مجھے بھی شرکت کی سعادت نصیب ہوئی۔درس کا انداز بالکل سادہ اور نرالا تھا۔ایک ایک جملہ علم سے معطر ہوتا تھا۔الحمد للہ اس وقت سے آج تک حرم نبوی کی کرسی ان کے درس کی امین رہی (اللہ اس کے بدلے انھیں شفائے عاجل اور کامل عطا فرمادے)
شیخ کی مشہور تصنیفات میں سے چند کے اسماء درج ذیل ہیں جن سے ان کے علمی رسوخ کا پتہ چلتا ہے اور طلبہ کو بھی ان کتابوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنی چاہیے:
1- اليهودية والمسيحية وأديان الهند
2-فصول في أديان الهند...
3-الجامع الكامل في الحديث الصحيح الشامل
4-أبوهريرة رضي الله عنه في ضوء مروياته
5-السنن الصغرى للبيهقي
6-المدخل إلى السنن الصغرى للبيهقي
7-ثلاثة مجالس من أمالي ابن مردوية
8-دراسات في السنة النبوية
9-صلاة التراويح
10-صلاة الجماعة
11-صلاة المسافر
12-فتح الغفور في وضع الأيدي على الصدور
13-معجم مصطلحات الحديث
14-الرازي وتفسيره
15-تحقيق أقضية الرسول عليه الصلاة والسلام لابن الطلاع
ان کے علاوہ بھی اردو اور ہندی زبان میں شیخ کی مختصر اور مفصل تحریریں موجود ہیں جن سے علماء اور طلبہ اپنی علمی تشنگی بجھاسکتے ہیں۔
اللہ شیخ حفظہ اللہ کی خدمات کو قبول فرمائے اور ان کو صحت کامل اور عاجل عطا کرے۔آمین





