زندگی ایک سفر ہے اور اس میں آنے والی مشکلات راستے کے بریکرس (Breakers) ہوتے ہیں۔کامیاب وہی شخص ہوتا ہے جو ان بریکرس کا سامنا کرتے ہوئے اپنی منزل کی جانب رواں دواں رہتا ہے،
ہمارے معاشرے میں مشکلات کے متعلق لوگ بڑے ہی افراط و تفریط کے شکار ہیں،
اور دوسری قسم ان لوگوں کی ہوتی ہے جو مشکلات کا سامنا کرنے کے لیے تیار تو ہوتے ہیں اور ان سے لڑنے کی اپنے اندر قوت بھی پاتے ہیں مگر اس میں حد درجہ غلو کے شکار ہو جاتے ہیں۔یعنی اپنی زندگی کا مقصد وہ صرف اور صرف مشکلات کو سلجھانا ہی بنالیتے ہیں اور سلجھا بھی لیتے ہیں مگر دوسری طرف وہ بیچ راہ میں ہی اٹکے رہ جاتے ہیں اور منزل تک نہیں پہنچ پاتے۔جبکہ ہر مشکل اس لائق نہیں ہوتی کہ اس کی طرف توجہ دی جائے اور اس کو سلجھانے کی سعی مشکور کی جائے بلکہ نظر انداز کرنا ہی بہت سی مشکلوں کا بہترین حل ہوتا ہے۔مگر وہ ہر مشکل کو کچھ زیادہ ہی سیریسلی لے لیتے ہیں،
جبکہ اس افراط و تفریط کے درمیان ایک گروہ ایسا بھی ہے جو اعتدال کی راہ اختیار کرتا ہے،
تنبیہ:
کچھ لوگ سب کچھ چھوڑ کر صرف اس انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں کہ جس روز میری تمام پریشانیاں ختم ہوجائیں گی اسی روز میں اپنی عملی و اجتہادی زندگی کا آغاز کروں گا اور ایک نئے سفر کی شروعات کروں گا۔ایک ایسا سفر جو سیدھا منزل پر ہی جاکر ختم ہو اور پھر اسی انتظار میں عمریں بیت جاتی ہیں مگر کوئی سورج ایسی صبح کے ساتھ طلوع نہیں ہوتا کہ جو مشکلات سے خالی ہو۔
ایسا نہیں ہے۔زندگی میں مشاکل کا آنا تو بالکل لازمی چیز ہے بلکہ یہ تو زندگی کا ایک جزء لاینفک ہے۔لہٰذا جو لوگ بھی مشکل پروف زندگی کے خواہاں ہیں اور مکمل طور سے مصائب کے بادل چھٹنے کے منتظر ہیں وہ سراسر نادانی میں ہیں۔کیونکہ یہ بادل تو ہمیشہ رہیں گے ہی،
مختلف اعتبار سے مشکلات کی مختلف قسمیں ہوا کرتی ہیں،
1: وقتی اور دائمی مشکلیں
2: جسمانی اور روحانی پریشانیاں
3: چھوٹی اور بڑی مشکلات
4: وہ مشکلات جو سلجھانے کے لائق ہی نہ ہوں۔اور وہ جو اس لائق ہوں کہ ان کو سلجھانے کی کوشش کی جائے۔
5: وہ مشکلیں جن کا سلجھانا ہماری قدرت میں ہو اور وہ جن کا حل کرنا ہماری قدرت سے باہر ہو۔
ان تمام اقسام کے عملی نمونے ہمیں خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زندگیوں سے ملتے ہیں اور ساتھ میں یہ بھی ملتا ہے کہ مشکلات کے وقت ان کا ردعمل کیا رہا اور کس طرح انھوں نے تمام مشکلوں کا سامنا کیا۔
اول: مشکلات کے باب میں شریعت کی سب سے پہلی تعلیم یہ ہے کہ یہ یقین رکھا جائے کہ جو کچھ بھی ہوتا ہے اللہ کے حکم سے ہی ہوتا ہے۔اس کی اجازت کے بغیر ایک پتہ بھی نہیں ہلتا،
دوم: مشکل کسی بھی طرح کی ہو اس پر ابتدا ہی سے صبر کیا جائے،
سوم: اپنے اوپر آنے والی مشکلات کو "و ما أصابكم من مصيبة" کے تحت اپنے ہاتھوں کے کرتوت سمجھا جائے اور اپنے گناہوں کو یاد کرکے اللہ سے بخشش طلب کی جائے۔
چہارم: کسی بھی مشکل کے وقت وضو بنا کر دو رکعت نماز پڑھی جائے اور اللہ تعالیٰ کے حضور اس مشکل کے حل ہونے کی التجا کی جائے،
پنجم: مشکل کے وقت انسان صرف ہاتھ پر ہاتھ دھرے اسباب سے قطع نظر رب کے بھروسے بیٹھا نہ رہے بلکہ اس کا حل تلاشنے کے لیے تمام ممکنہ وسائل کو بھی اختیار کرے جیسا کہ "من قتل دون ماله فهو شهيد" والی حدیث اور فرمان الٰہی "فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ" سے معلوم ہوتا ہے۔
پس اگر شریعت کی ان تعلیمات پر عمل کیا جائے تو بہت حد تک انسان ان مشکلات کو سلجھانے یا کم از کم ان کا سامنا کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔





