ترقی یافتہ زمانہ میں نت نئی ایجادات نے جہاں جملہ شعبہائے حیات میں نئی روح پھونک دی وہیں تجارت کے میدان میں استفادہ کی شاہراہوں میں وسعت پیدا کی۔شیئر بازار بھی انہی ترقیات کا ایک مظہر ہے۔
شیئر کیا ہے:
شیئر یعنی حصہ داری،
بنیادی طور پر شیئر کی دو قسمیں ہیں:
1- ترجیحی شیئر (prefrence share)
2- شراکتی شیئر (Equity share)
یہ prefrence share خاص لوگوں کو ہی دیا جاتا ہے جیسے promoter وغیرہ جب کہ equity share عام لوگوں کو دی جاتی ہے۔prefrence share یہ fixed deposit سے زیادہ مماثلت رکھتا ہے یعنی اس میں متعینہ منافع خریدار کو دیا جائے گا خواہ کمپنی گھاٹے میں ہو یا کثیر منافع میں اور equity share میں منافع کا انحصار کمپنی کے منافع اور خسارہ کے مطابق ہوتا ہے۔
شیئر بازار کا تعارف:
"بازار اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں چیزیں خریدی اور بیچی جاتی ہیں،
شیئر بازار کی تاریخ:
"1840ء میں پہلی بار شیئر بازار کی ابتدا ممبئی میں برگد کے پیڑ کے نیچے 22 لوگوں کے ساتھ شروع کی گئی۔آہستہ آہستہ ان بروکرز کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا اور 1875ءمیں انھوں نے اپنا Native share and stoke brokers association بنالیا اور ساتھ ہی دلال اسٹریٹ پر آفس خرید لی۔تقسیم ہند کے 15 سال بعد 31 اگست 1957 کو بامبے اسٹاک ایکسچینج کو بھارت سرکار نے سیکیورٹی ایکٹ کے تحت لیا۔( Wikipedia .patrik.com)
1957 کے بعد Native share and stoke brokers کو ہندوستانی حکومت نے اسٹاک ایکسچینج کا درجہ دے دیا۔(.FinnovationZ.comمفہوم)
1980ء میں BSE کو دلال اسٹریٹ پر شفٹ کر دیا گیا،
اسٹاک ایکسچینج کا تعارف:
جس طرح "۔۔۔ہر چیز کی مارکیٹ ہوگئی ہے ٹھیک اسی طرح سے شیئر،
مختصر یہ کہ اسٹاک ایکسچینج یہ شیئر بازار کے لیے ریڑھ کی ہڈی کے مانند ہے۔ملک کی تجارتی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے حکومت نے کئی ایک اسٹاک قائم کیا ہے جن میں دو ایکسچینج زیادہ معروف ہیں:
1۔Bombay stoke exchange (BSE)
2۔National stoke exchange (NSE )
(groww.in)
سینسیکس: مختلف وجوہات کی بنا پر شیئر مارکیٹ میں جو اتار چڑھاؤ ہوتے ہیں ان کا ادراک سینسیکس کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔اسٹاک کی ہر پل کی خبر سینسیکس کے میٹر پر نمایاں ہوتی ہے۔یہ ایک سب اسٹیشن کے ذریعہ ڈائریکٹ سٹیلائٹ سے جڑا ہوتا ہے۔یہ مشین کمپیوٹر کی طرح ہوتی ہے لیکن ہر آدمی کے پاس نہیں ہوتی۔عام آدمی سینسیکس کے اتار چڑھاؤ کو صرف اخبار کے صفحات اور ٹیلی ویژن پر دیکھ سکتے ہیں۔(شیئر بازار تعارف و مواقع ص:14)
سیبی: سینسیکس اور اسٹاک ایکسچینج کی نگرانی اور شیئر بازار کے متعلق کاروائیوں کے لیے حکومت ہند نے سیبی (Security and exchange Board of India) نامی ایک ادارہ قائم کیا ہے۔
"یہ ادارہ سینسیکس کے متعلق جملہ امور کی نگرانی کرتا ہے۔بسا اوقات شیئر مارکیٹ کے متعلق قانون وضع کرتا ہے۔"(حوالہ مذکور ص:15)
"حکومت ہند نے شیئر بازار سے متعلق بدعنوانی اور کرپشن کو روکنے کے لیے سیبی کو 1988ء میں عارضی طور پر قائم کیا۔شیئر بازار کے متعلق جملہ مسائل کو دیکھتے ہوئے حکومت ہند نے 1992ء میں قانونی طور پر سیبی کے دائرہ کو وسیع کیا۔۔۔"(حوالہ مذکور ص: 23)
خلاصہ یہ کہ سیبی کی نگرانی میں ہی شیئر بازار ترقی سے ہمکنار ہو رہا ہے۔





