اللہ تعالی نے دنیا کی ترکیب میں تنوع رکھا ہے۔اسی تنوع کا اس کے حسن وجمال اور توازن وتناسب میں اہم کردار ہے۔اگر مخلوقات کی ترکیب وتخلیق میں بوقلمونی نہ ہوتی تو نظام کائنات کی کشتی ڈانواں ڈول ہوجاتی۔انسان ہی کی بات لے لیجیے کہ اگر سارے انسان مال ودولت،
امیروغریب کے اس باہمی رشتے کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے اسلام نے زکات کا خوبصورت نظام نافذ کیا ہے۔قرآن کریم کے اندر بیاسی مرتبہ نماز کے ساتھ زکات کی ادائیگی کا تاکیدی حکم دیا گیا ہے۔زکات کو غرباومساکین اور یتامی وبیوگان کی کفالت کا ذریعہ بنایا گیا ہے اور اس کی ادائیگی سے سرمو انحراف کرنے والوں کے بارے میں رونگٹھے کھڑے کردینے والی سخت وعیدیں سنائی گئی ہیں۔
فرض زکات کے علاوہ نفلی صدقات وخیرات پر ابھار کر غریب طبقہ کی معاشی ضروریات کی تکمیل کا بندوبست کیا گیا ہے۔چنانچہ قرآن کریم کی مختلف آیات اور نبیﷺ کی متعدد احادیث میں غرباومساکین اور فاقہ زدہ افراد پر خرچ کرنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے اور اس پر زوردیا گیا ہے۔اللہ تعالی نے فرمایا:
《وماأنفقتم من شيئ فھو يخلفه وھو خير الرازقين》 (سبا:39)
تم جو کچھ بھی اللہ کی راہ میں خرچ کروگے اللہ اس کا (پورا پورا) بدلہ دے گا اور وہ سب سے بہتر روزی دینے والا ہے۔
یہ بدلہ دنیا میں بھی ممکن ہے اور آخرت میں تو یقینی ہے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
قال الله تعالى:《أنفق ياابن آدم أنفق عليك》 (بخاري:5352)
اے اولاد آدم! خرچ کرو (اس کے بدلے) میں تم پر خرچ کروں گا۔
دوسری روایت میں اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: 《ما من يوم يصبح العباد فيه إلا ملكان ينزلان،
ہر دن صبح جب بندے اٹھتے ہیں تو دو فرشتے آسمان سے اترتے ہیں۔ایک کہتا ہے اے اللہ! خرچ کرنے والے کو اس کا بدلہ دے اور دوسرا کہتا ہے اے اللہ! خرچ نہ کرنے والے کا مال ضائع کردے۔
اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے بڑے فائدے ہیں۔دنیا کے بینکوں میں آدمی مال جمع کرتا ہے تو اسے ہمہ وقت تشویش رہتی ہے کہ کہیں عرق ریزی وجانفشانی اور جان توڑ کدوکاوش سے جمع کی ہوئی پونجی ڈوب نہ جائے۔بینکوں کی موجودہ صورت حال سے اس کا اندازہ لگانا بالکل مشکل نہیں۔لیکن اللہ تعالی کا بینک ایسا ہے جس کی تعطل پذیری کا کوئی خدشہ نہیں اور جس میں جمع شدہ رقم کے اتلاف کا کوئی امکان ہی نہیں۔اس بینک میں رقم جمع کرنے سے مال میں کمی بھی نہیں ہوتی بلکہ اس بینک کا مالک اپنے ڈپازٹر کے مال میں کئی کئی گنا اضافہ فرماتا ہے۔کبھی ظاہری طور پر اور کبھی معنوی وروحانی طور پر اس میں برکت ڈال کر۔اور آخرت میں تو یقینا اس میں اضافہ حیران کن ہوگا۔
اللہ تعالی فرماتا ہے: 《من ذا الذي يقرض الله قرضا حسنا فيضاعفه له أضعافا كثيرة والله يقبض ويبسط وإليه ترجعون》 (البقرة: 245)
ایسا بھی کوئی ہے جو اللہ تعالی کو اچھا قرض دے،
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا:
《من تصدق بعدل تمرة من كسب طيب،
جس نے پاکیزہ کمائی سے ایک کھجور کے برابر صدقہ کیا اور اللہ تعالی صرف پاکیزہ کمائی کے صدقے ہی کو قبول کرتا ہے۔تو اللہ تعالی اسے اپنے داہنے ہاتھ سے قبول کرتا ہے پھر صدقہ کرنے والے کے فائدے کے لیے اس میں زیادتی کرتا ہے۔بالکل اسی طرح جیسے کوئی اپنے جانور کے بچے کو کھلا پلا کر بڑھاتا ہے۔حتی کہ اس کا صدقہ پہاڑ کے برابر ہوجاتا ہے۔
کورونا کی قہرسامانیوں نے پوری دنیا کو معاشی بحران کا شکار بنادیا ہے۔لوگ فاقہ کشی سے دوچار ہورہے ہیں۔بطور خاص ہندوستان میں فاقہ زدہ افراد کی تعداد میں آئے دن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ایسے میں اللہ تعالی نے اگر آپ کو دولت دی ہے تو ضروتمندوں کی دل کھول مدد کریں،
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:《يقول العبد: مالي،
بنده کہتا ہے کہ میرا مال (اتنا ہے) میرا مال (اتنا ہے) حالانکہ اس کے مال میں سے اس کا مال صرف تین قسم کا ہے(1) جو اس نے کھا لیا اور ختم کردیا(2) جو اس نے پہن کر پرانا کردیا(3) جو اس نے عطیہ کیا اور (آخرت کے لیے) ذخیرہ کرلیا۔ان اموال کے علاوہ جو بھی مال ہے اسے وہ لوگوں کے لیے چھوڑ کر جانے والا ہے۔
معلوم ہوا کہ آدمی کا حقیقت میں فائدہ رساں مال اتنا ہی ہے جتنا اس نے اللہ کے بینک میں ڈپازٹ کیا ہے،





