جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

تربیت اولاد میں احتیاط کی ضرورت

تحریر: زلفی مظہر اعظمی20 جون، 20202,095قارئین1 تبصرےمطالعے کا وقت: ۴ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:

لفظ تربیت اپنے اندر ایک وسیع معنی سمیٹے ہوئے ہے،اسی لیے اس کو بہت ساری جگہوں پر استعمال کیا جاتا ہے جیسے ایک استاد اپنے شاگرد کی تربیت کرتا ہے۔کسی بھی فن میں ٹریننگ دینے والا اپنے زیر نگرانی لوگوں کو ٹرینڈ کرتا ہے،مگر عام طور پر اس لفظ کو سن کر ہمارے ذہن میں جو تربیت سب سے پہلے آتی ہے وہ تربیت اولاد ہی ہوتی ہے۔

اولاد کی تربیت والدین کے لیے ایک نازک ترین مسئلہ ہے۔ہر ماں باپ کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچے نیک و صالح ہوں،بڑے ہوکر تعلیم و تعلم کے میدان میں نام کمائیں اور بڑھاپے میں ان کا سہارا بن سکیں مگر ان کی یہ خواہشات بڑی آسانی سے پایۂ تکمیل کو نہیں پہنچ سکتیں بلکہ اس کے لیے بچپن سے ہی ان کی تربیت پر مکمل توجہ کی ضرورت درکار ہوتی ہے جو محنت اور وقت طلب کام ہے۔انھیں لاڈ پیار ضرور کریں مگر ان کی کوتاہیوں اور غلطیوں پر سخت گرفت بھی کریں۔کہا جاتا ہے کہ اپنے بچوں کو سونے کی بسکٹ کھلاؤ مگر شیر کی نظر سے دیکھو۔یعنی اپنے بچوں سے محبت اور لاڈ پیار ضرور کریں مگر وقت ضرورت ان پر سختی بھی کریں۔بچوں کی تربیت میں اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ وہ کس کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں،گھر سے باہر کس فکر اور اخلاق کے حاملین کے ساتھ رہتے سہتے ہیں،رات میں اگر دیر سے گھر پہنچتے ہیں تو ان سے باز پرس کی جائے تاکہ ان کے ذہن میں پوچھ تاچھ اور سوال و جواب کا خوف ہر وقت موجود رہے اور کوئی بھی غلط قدم اٹھانے سے پہلے دس بار سوچیں۔اور آج کے اس ٹکنالوجیکل دور میں،جبکہ گناہوں تک رسائی بڑی آسان ہو گئی ہے،والدین کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ یہ بچے جدید ٹکنالوجی کا استعمال کتنا مثبت کرتے ہیں اور کتنا منفی۔بچوں پر ہر معاملے میں گہری نظر رکھیں مگر ان پر بے جا شک نہ کریں بلکہ بھروسہ کریں کیونکہ شکوک و شبہات کی نظر انھیں بغاوت پر آمادہ کر سکتی ہے۔اور جب بچہ کثرتِ شک و شبہ کی وجہ سے تنگ آجائے گا تو ہر وہ کام کر گزرے گا جو اس نے بھی کبھی سوچا نہیں ہوگا الا یہ کہ بچہ حد درجہ غیور و صابر ہو اور آپ کی قدر و منزلت کا لحاظ کرتے ہوئے آپ سے زبان درازی نہ کرے اور نہ ہی بغاوت پر آمادہ ہو لیکن آپ کے اس رویے کو اپنے اندر دفن کرکے ڈپریشن کا شکار ضرور ہوجائے گا اور ظاہر سی بات ہے کہ جب اس کا ذہنی توازن حد اعتدال سے تجاوز کرجائے گا تو اسے اپنی زندگی بوجھ لگنے لگے گی اور وہ اپنے ہدف سے بھٹک کر کسی اور راہ کی طرف رواں دواں ہوجائے گا اور اپنے مستقبل کو تباہی و بربادی کے دہانے پر پہنچادے گا۔

اس لیے بچوں کی تربیت میں مکمل احتیاط کریں کہ کبھی شک کی نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہی نہ پیش آئے،ان کی صالح تربیت کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے ان کے ہدایت یافتہ اور صالح ہونے کی دعا بھی کرتے رہیں۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ تمام والدین کو اپنی اولاد کی صالح تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے،ان بچوں کو ان کے لیے بڑھاپے کا سہارا اور مرنے کے بعد صدقۂ جاریہ بنائے۔آمین

اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (1)

ع
عبدالمتين
22 جون، 2020
ما شاء الله. بہت خوب. آپ نے جو باتیں کی ہیں درست ہیں، مگر تربیّت کا جو سب سے اہم پہلو ہے آپ نے اسکو نظر انداز کر دیا ہے. تربیت کے ماہرین کہتے ہے کہ آپ جیسا اپنے بچوں کو دیکھنا چاہتے ہیں ویسا آپ خود بن جایئں. بچے عہد طفولت ہی سے أخلاق، عادات وأطوار سیکھنے لگتے ہیں.اور ان كا ابتدائى مدرسہ انکا گھر ہوتا ہے جس کے اساتذہ اس کے والدین ہوتے ہیں. جہاں شوہر نے بیوی کو گالی دی یا مارا پیٹا اس نے اپنے لڑکے کو گالی دینا اور مارنا پیٹنا سکھا دیا، جہاں بیوی نے شوہر کے ساتھ بد تمیزی کی اس نے اپنی لڑکی کو شوہر کے ساتھ بد تمیزی کرنا سکھا دیا. آپ اسلامى شعائر كا لحاظ رکھیں گے تو اسلامى شعائر از خود آپ کے بچے أخذ کرتے جایئں گے.آپ غیر اسلامى عادات واطوار اپنایئں گے تو غیر اسلامى عادات واطوار از خود آپ کے بچے أخذ کرتے جایئں گے. الغرض آپ اپنے ہر ہر قول اور فعل سے صالح وفاسد بيج بوتے جا رہے ہیں اور بچوں کی جوانی اور اپنے بڑھاپے میں اسی کھیتی کی فصل کاٹیں گے. لہٰذا اگر بچوں کو اچّھا انسان بننا ديكهنا چاہیں تو خود بھی اچھے بنیں. بچوں كو اچھے زوجين بننا دیکھنا چاہیں تو خود اچّھے زوجين بنیں. بچوں کو نمازی بننا دیکھنا چاہیں تو خود بھی نمازی بنیں بلکہ اس سے بھی آگے آپ نوافل کا اہتمام کرنے والے بنیں. تربیّت کا یہ طریقہ ايك انفراسٹرکچر بنانے جیسا ہے اگر انفراسٹرکچر مضبوط رہا تو ان شاء الله عمارت صحيح وسالم برقرار رہے گی ورنہ موسم کا ہلکا سا تغير بنیادوں کو ہلا کر رکھ دے گا. تربیّت کا یہ نسخہ بہت کارگر ہے مگر اس پر عمل بہت مشکل ہے. الله ہم سب کو توفیق بخشے. آمين.

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

تربیت اولاد میں احتیاط کی ضرورت - دی فری لانسر | دی فری لانسر