جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

الفاظ کے میزان میں

تحریر: محمد مظہر الاعظمی17 جون، 20202,044قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۳ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:

ایک شخص کی زبان سے نکلنے والے الفاظ بظاہر صرف الفاظ ہوتے ہیں،مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ الفاظ اس شخص کی بالکل سچی نمائندگی کرتے ہیں اور فکرو مزاج کی صحیح عکاسی کرتے ہیں۔ان الفاظ کے آئینہ میں پندار کی صلابت اور شگفتگی صاف دکھلائی دیتی ہے بلکہ اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو پس منظر اور بیک گراؤنڈ بھی صاف دکھلائی دے گا اور یہ فیصلہ کرنے میں دیر نہیں لگے گی کہ آدمی کس مزاج اور قماش کا ہے۔

اس زمانہ میں قائدین کے بیانات دیکھیے اور اگر آپ کو معلوم نہ ہو کہ کس پارٹی سے لنک ہے تو صرف بیان اور بیان کے الفاظ آپ کو بلا کسی تردد کے پارٹی کی نشاندہی کرا دیں گے اور پھر آپ اس کی پوری شخصیت کے متعلق اپنی رائے قائم کرلیں گے جو رائے اس کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ ہی کی بنیاد پر ہوگی اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں صحیح ہوگی۔

یہ بات بھی یاد رکھنا چاہیے کہ صرف قائدین کے بیانات اور ان کے الفاظ ہی ان کی ذات و صفات کی نمائندگی نہیں کرتے بلکہ یہ بات ہمارے سماج کے ہر فرد پر منطبق اور چسپاں ہوتی ہے اور آپ سماج کے ہر فرد کو الفاظ و معانی کے میزان میں تول سکتے ہیں اور ایک مستحکم رائے قائم کرسکتے ہیں بلکہ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ عام آدمی بھی الفاظ و معانی کے ترازو میں ہی افراد معاشرہ کو تولتا ہے،یہ الگ بات ہے کہ وہ تول کر ایک رائے تو قائم کرلیتا ہے مگر باد سموم کی زہریلی فضا میں اظہار رائے کی ہمت وجسارت نہیں کر پاتا۔مگر اسے یہ بھی یقین ہے کہ آج نہیں کل فضا تو صاف ہوگی اور پھر آدمی آزادی اظہار رائے کا بھر پور استعمال کرے گا،اس یقین کو لاک ڈاؤن نے اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے فضا کی نظافت و پاکیزگی نے اور مستحکم کردیا کہ جب پوری دنیا کی فضا بیک وقت اپنی فطری پاکیزگی کی طرف لوٹ سکتی ہے تو پھر ایک محدود علاقہ کی فضائی آلودگی کو ختم ہونے میں کتنی دیر لگے گی۔

الفاظ و معانی کے میزان میں شخصیات کو تولنے کا مزاج ہمیشہ رہا ہے،بازار عکاظ کو کون نہیں جانتا کہ شعراء اپنے اپنے قصیدوں کے میزان میں تولے جاتے اور برتری حاصل کرنے والے کے قصیدے کو خانہ کعبہ کی دیوار میں آویزاں ہونے کا شرف حاصل ہوتا۔

رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں کس قدر تکلیفیں برداشت کیں،لہولہان ہوئے مگر آپ کی زبان سے ایسے حالات میں بھی جو الفاظ نکلے وہ الفاظ آپ کی عظمت کا پتہ دیتے ہیں کیوں کہ برتن سے وہی ٹپکتا ہے جو اس میں ہوتا ہے،آپ زہر بھرے برتن سے ٹپکنے والے زہر کو آب حیات کہہ کر بہت دیر تک بے وقوف نہیں بنا سکتے،خاموشی کا مطلب ہمیشہ اعتراف نہیں ہوتا۔اس لیے عام بات چیت یا تحریر میں الفاظ کے انتخاب پر توجہ درکار ہے کیوں کہ وہ شخصیت کی صحیح اور سچی نمائندگی کرتے ہیں۔

اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

الفاظ کے میزان میں - دی فری لانسر | دی فری لانسر