حاملہ اور مرضعہ اگر اپنے نفس پر خوف کی وجہ سے روزہ ترک کرتی ہیں تو ان پر قضا واجب ہے کیونکہ وہ مریض کے حکم میں ہیں۔اس پر فقہاء مالکیہ میں زرقانی اور فقہاء حنابلہ میں ابن قدامہ اور عبد الرحمن المقدسی نے اہل علم کا اتفاق نقل کیا ہے۔اور فقہاء حنفیہ میں بابرتی اور شافعیہ میں امام نووی نے بظاہر اپنے مذہب کا اتفاق نقل کیا ہے۔اسی طرح ابن القطان فاسی کے قول کا مفہوم بھی اس اجماع پر دلالت کر رہا ہے۔
•جمال الدین رومی بابرتی اپنی کتاب (العناية شرح الهداية) (2/ 355) میں فرماتے ہیں: «إذا خافت الحامل أو المرضع على نفسها لا تجب الفدية بالاتفاق،
• عبدالباقی زرقانی موطا کی شرح "شرح الزرقاني على الموطأ" (2/ 284) میں قضا اور فدیہ کے سلسلے میں اختلاف نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: «ومحلها في خوفهما على ولديهما،
اس قول میں زرقانی نے اجماع نقل کیا ہے کہ نفس پر خطرہ کی صورت میں قضا ہے۔اور اس ماجماع سے صرف ان کو مستثنی کیا ہے جن کی طرف ایک شاذ قول منسوب ہے۔
•امام نووی "المجموع شرح المهذب" (6/ 267) میں فرماتے ہیں: «قال أصحابنا: الحامل والمرضع إن خافتا من الصوم على أنفسهما أفطرتا وقضتا ولا فدية عليهما كالمريض وهذا كله لا خلاف فيه»
• ابن قدامہ "المغنی" (3/ 149) میں فرماتے ہیں: «إن الحامل والمرضع إذا خافتا على أنفسهما فلهما الفطر. وعليهما القضاء فحسب،
عبد الرحمن المقدسی "الشرح الكبير على المقنع" (7/ 381) میں فرماتے ہیں:
«أنَّ الحامِلَ والمُرْضِعَ إذا خافَتا على أنْفُسِهما إذا صامَتا،
ابن القطان فاسی فرماتے ہیں: واتفق الجميع أن الحامل إذا خافت على ما في بطنها،
• اس قول سے وجہ استدلال یہ ہے کہ جب کسی کے نزدیک نفس کو ہلاکت میں ڈالنا جائز نہیں ہے اس کے باوجود اس اجماع میں خوف علی النفس کو ذکر نہ کرنے کا مطلب یہی ہے کہ یہ صورت بالاتفاق مریض کے حکم میں ہے جیسا کہ متعدد اہل علم نے اس پر اجماع نقل کیا ہے۔
اس اجماع کے رد میں ابن کثیر،
پہلی دلیل: حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "الْحَامِل وَالْمُرْضِع إِذَا خَافَتَا عَلَى أَنْفُسهمَا أَوْ وَلَدَيْهِمَا فَفِيهِمَا خِلَاف كَثِير بَيْن الْعُلَمَاء فَمِنْهُمْ مَنْ قَالَ يُفْطِرَانِ وَيَفْدِيَانِ وَيَقْضِيَانِ وَقِيلَ يَفْدِيَانِ فَقَطْ وَلَا قَضَاء وَقِيلَ يَجِب الْقَضَاء بِلَا فِدْيَة وَقِيلَ يُفْطِرَانِ وَلَا فِدْيَة وَلَا قَضَاء"۔(تفسير ابن كثير،
اس قول سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ ابن کثیر نے اس مسئلہ میں بہت زیادہ اختلاف کا دعوی کیا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ جس مسئلہ میں مذاہب اربعہ میں اتفاق ہو اور تین بڑے مشہور فقہاء نے تمام اہل علم کا اتفاق نقل کیا ہو اس مسئلہ میں ابن کثیر نے کیا واقعی بہت زیادہ اختلاف کا دعوی کیا ہے؟ ہاں اگر وہ یہ دعوی کرتے کہ بعض اہل علم نے اس مسئلہ میں اختلاف کیا ہے تو یہ بات عام ہے کہ اجماع نقل کرنے میں عموما دو چند اہل علم کے اختلاف کا اعتبار نہیں کیا جاتا ہے۔اور اگر مان لیا جائے کہ انھوں نے ایسا کوئی دعوی کیا ہے تو کیا ان کا دعوی دیگر اہل علم کے خلاف حجت ہوسکتا ہے؟ کیوں کہ اصولی طور پر اگر دو عالم دو مختلف دعوے کریں تو ان میں سے کسی کا قول دوسرے پر بغیر دلیل کے حجت نہیں ہوسکتا ہے؟
لیکن حقیقت یہ ہے کہ ابن کثیر کے قول کو جب پورے سیاق وسباق کے ساتھ دیکھتے ہیں تو در اصل ان کی ظاہری عبارت سے یہی پتہ چلتا ہے کہ انھوں نے ایسا کوئی دعوی ہی نہیں کیا ہے۔چنانچہ ابن کثیر {وعلى الذين يطيقونه فدية طعام مسكين}کی تفسیر میں شیخ فانی کا تذکرہ کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
"ومما يلتحق بهذا المعنى: الحامل والمرضع،
"اسی معنی کے ضمن میں حاملہ اور مرضعہ کا بھی مسئلہ آتا ہے اگر انھیں اپنے نفس پر یا بچہ پر خوف ہو،
اس میں "ففیھما" کی ضمیر حاملہ اور مرضعہ کی طرف راجع ہے۔اور ظاہر یہی ہے کہ حاملہ اور مرضعہ کے سلسلے میں دیگر اہل علم نے جس صورت میں اختلاف نقل کیا ہے ابن کثیر بھی اسی صورت میں اختلاف نقل کر رہے ہیں اور خوف علی النفس کا اس جملہ سے بس اس قدر تعلق ہے کہ اس مسئلہ کو بھی اس معنی کے ضمن میں بیان کیا جاتا ہے۔
لہذا ابن کثیر کے قول میں بھی اسی اختلاف کا تذکرہ ہے جو دیگر اہل علم نے نقل کیا ہے۔
• دوسری بات یہ ہے کہ اصولی طور پر اہل علم کی واضح اور محکم عبارتوں کے مقابلے اس طرح کی محتمل عبارتوں کو بطور معارِض پیش کرنا درست نہیں ہے۔
دوسری دلیل: علامہ ابن عبد البر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "عن ابن عمر قال: الحامل إذا خشيت على نفسها في رمضان تفطر وتطعم ولا قضاء عليها،
ابن عبد البر نے اس قول کو سعید بن جبیر،
اس کا جواب یہ ہے کہ یہ قول بلا سند ہے،
• سعید بن جبیر کی روایت:
عبد الرزاق اپنے "مصنف "میں (4/ 51،
"حاملہ جو (آخری) مہینہ میں ہو اور مرضعہ جسے اپنے بچہ پر خطرہ ہو تو وہ روزہ ترک کریں گی اور ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا دیں گی اور ان پر قضا نہیں ہے"۔
اس میں مرضعہ کے سلسلے میں صراحت ہے کہ خوف علی الرضیع ہو اور حاملہ کے سلسلے میں بھی یہ قید ہے کہ یہ حمل آخری مہینہ کا ہو اس میں خوف علی النفس کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔
• قاسم بن محمد کی روایت:
عن عبد الرزاق: قال معمر: وأخبرني من سمع القاسم بن محمد يقول: «إن لم تستطيعا الصيام فلتطعما»۔مصنف عبد الرزاق الصنعاني۔(4/ 216)
اس روایت میں ایک راوی مبہم ہے،
لہذا تحقیق سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ابن عبد البر کا یہ قول محل نظر ہے اور اس قول کی بنیاد پر کوئی رائے قائم نہیں کی جاسکتی ہے۔
تیسری دلیل: علامہ ابن حزم کے بارے میں یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ انھوں نے حاملہ ومرضعہ سے روزہ کو بالکل معاف کہا ہے۔انھوں نے کسی بھی صورت میں کچھ بھی واجب ہونے کا انکار کیا ہے،
جب کہ یہ بات محل نظر ہے۔
ابن حزم فرماتے ہیں: "والحامل،
•ابن حزم کی اس عبارت میں چند باتیں منصوص ہیں:
1- اصل یہ ہے کہ روزہ حاملہ،
2- اگر حاملہ اور مرضعہ کسی عارضی بیماری کی وجہ سے روزہ ترک کرتی ہیں تو ان پر قضا ہے۔
3- حیض ونفاس والی عورت پر قضا واجب ہے۔
انھوں نے اس سے دو حالتوں کو مستثنی کیا ہے:
1- اگر مرضعہ کو بچہ پر قلت لبن کا خوف ہو اور اس کی وجہ سے بچہ کے ضائع ہوجانے کا اندیشہ ہو اور کوئی دوسری دایہ بھی نہ ہو،
2- یا حاملہ کو جنین پر خوف ہو۔تو ان پر نہ ہی فدیہ ہے اور نہ ہی قضا ہے۔
• ابن حزم کے اس صریح اور منصوص کلام میں کسی جگہ خوف علی النفس کا تذکرہ نہیں ہے۔اور نہ ہی اس پر ان کے کلام کا مفہوم دلالت کر رہا ہے،
• اسی طرح انھوں نے اخیر میں کہا کہ اللہ عز وجل نے مریض،
چوتھی دلیل: اس طرح یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ ابن حزم نےصرف شخصی طور پر صورت مذکورہ کی مخالفت نہیں کی ہے بلکہ سرے سے حاملہ ومرضعہ کے مسئلہ میں کسی اجماع ہی کے ہونے کا انکار کیا ہے۔م فرماتے ہیں: "فَلَمْ يَتَّفِقُوا عَلَى إيجَابِ الْقَضَاءِ وَلَا عَلَى إيجَابِ الْإِطْعَامِ فَلَا يَجِبُ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ؛
یہ اعتراض بھی سابقہ اعتراضات کی طرح محل نظر ہے۔ابن حزم کے قول کا صحیح معنی سمجھنے کے لیے اس کو سیاق وسباق کے ساتھ ملا کر دیکھنا پڑے گا۔
ابن حزم کی جو عبارت اوپر گذری اس کو ذکر کرنے کے بعد انھوں نے تین قول نقل کیے۔
• پہلا قول: فدیہ کا،
• دوسرا قول: قضا کا،
•تیسرا قول: قضا اور فدیہ دونوں۔اس پر انھوں نے عطا بن رباح کا قول ذکر کیا ہے۔
ان میں سے سعید بن جبیر اور عطا کی روایت میں خوف علی الولد کی صراحت ہے،
انہوں نے اس اختلاف کو ذکر کرنے کے بعد کہا: فَلَمْ يَتَّفِقُوا عَلَى إيجَابِ الْقَضَاءِ وَلَا عَلَى إيجَابِ الْإِطْعَامِ فَلَا يَجِبُ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ؛
یعنی نہ ہی وہ قضا پر متفق ہوئے اور نہ ہی اطعام پر۔لہذا ان میں سے کوئی بھی چیز واجب نہیں ہے،
لہذا اس عدم اتفاق کا تعلق خوف علی الرضیع سے ہے۔انھوں نے شروع میں خوف علی الرضیع کی صورت میں ہی قضا اور فدیہ دونوں کی نفی کی ہے،
اور اس موقف کی تائید مزید ان کے اس قول سے ہوتی ہے جس کے ذریعہ انھوں نے اس مبحث کو ختم کیا ہے۔وہ امام ابوحنیفہ،
والعجب كله من أن أبا حنيفة،
"حیرت ہے کہ امام ابوحنیفہ،
یہاں بھی خوف علی الرضیع کا تذکرہ ہے،
خلاصہ: ابن قدامہ،
اور مجھے اب تک کسی معبتر یا غیر معتبر اہل علم کا کوئی قول نہیں ملا ہے جنھوں نے اہل علم کے اس اجماع پر کوئی اعتراض کیا ہو۔واللہ اعلم
جہاں تک ابن عبد البر کا یہ قول "عن ابن عمر قال: الحامل إذا خشيت على نفسها في رمضان تفطر وتطعم ولا قضاء عليها،
ہے تو اگر ابن عبد البر کے اس قول کو کوئی حجت مانتا ہے تو پھر امام احمد نے ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے قضا کا-جیسا کہ ابن تیمیہ نے ذکر کیا ہے-ابن حزم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے قضا کا،
(شرح العمدة لابن تيمية-كتاب الصيام:1/ 249،
جہاں تک ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی بہت سارے طرق میں سے ایک یا دو طریق میں اس لفظ کے وارد ہونے کی بات ہے تو محدثین کے اصول کی رو سے یہ شاذ کے حکم میں ہیں جن کو میں آگے ان شاء اللہ واضح کروں گا۔
نفاس کے سلسلے میں اہل علم کے اجماع پر جملہ اعتراضات کی حقیقت:
امام نووی،
امام نووی فرماتے ہیں:
"لا يصح صوم الحائض والنفساء،
ابن قدامہ فرماتے ہیں:
أجمع أهل العلم على أن الحائض والنفساء لا يحل لهما الصوم،
ایک دوسری جگہ آپ فرماتے ہیں:
"والنفساء كالحائض في هذا؛
ابن القطان فاسی فرماتے ہیں:
"وأجمعوا على أن عليها قضاء ما تركت من الصوم في أيام حيضتها". الإقناع في مسائل الإجماع۔(1/ 103)
اسی طرح آپ فرماتے ہیں:
والنفاس حيض صحيح؛
ابن حزم فرماتے ہیں:
أن النفاس حيض صحيح،
•اس اجماع کی مخالفت میں تین دلیلیں پیش کی جاتی ہیں:
پہلی دلیل:
سعید بن جبیر ابن عباس رضی اللہ عنہ کے متعلق روایت کرتے ہیں: "أَنَّهُ كَانَتْ لَهُ أَمَةٌ تُرْضِعُ فَأُجْهِضَتْ،
اس روایت کے بارے یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ یہ روایت اس اجماع کے نقض کے لیے کافی ہے۔گرچہ اس سند میں مذکور لفظ ”فدیہ دے گی اور قضا نہیں کرے گی“ کے بارے میں اس احتمال کا ذکر کیا جاتا ہے کہ یہ جملہ کن کا ہے اس بارے میں صراحت نہیں ہے۔ابن عباس ہی کا،
• پہلے اس روایت کے دیگر طریق کو دیکھیں:
• عَنْ قَتَادَةَ،
اس میں (فَجَهِدَتْ) کا لفظ ہے۔اور یہ اس پر دلالت نہیں کررہا ہے کہ وہ عورت حالتِ نفاس میں تھی۔
•عَنْ قَتَادَةَ،
یہاں (حبلى) کا لفظ ہے،
•یہاں چند باتیں قابل غور ہیں:
1-اس روایت میں (فَأُجْهِضَتْ) کا لفظ ثابت ہے یا نہیں یہ خود محتمل ہے کیونکہ دیگر روایتوں میں یہ لفظ نہیں ہے۔
2-ان طرق سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ اس روایت میں عدم قضا کا لفظ یا تو دارقطنی کا ہے یا کسی اور راوی کا۔
3-کسی نص کے تعلق سے کسی کا فہم اس پر دلالت نہیں کرتا ہے کہ یہ اس کی ذاتی رائے بھی ہو۔
4-گویا اس روایت سے یہ بالکل بھی ثابت نہیں ہوتا ہے کہ یہ کسی ایک شخص کی بھی ذاتی رائے ہے۔
• اب غور کریں کہ حائضہ عورت کے سلسلے میں نص صریح ہے کہ وہ قضا کرے گی،
دوسری دلیل:
ابن حزم رحمہ اللہ کا موقف یہ بیان کیا جاتا ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں حاملہ و مرضعہ پر کچھ بھی واجب ہونے کا انکار کرتے ہیں۔
جبکہ آپ نے ابن حزم کا قول اوپر دیکھا کہ وہ بالکل صراحت کےساتھ کہہ رہے ہیں:
ولم يوجب الله تعالى القضاء إلا على المريض،
اس نص صریح کی موجودگی میں ان کی طرف کسی اور بات کو منسوب کرنا مناسب نہیں ہے اور خصوصا جبکہ ابن حزم ظاہری ہیں اور نصوص کے ظاہری معنی پر عمل کرنے کی وجہ سے مشہور ہیں۔
تیسری دلیل:
اس اجماع کے نقض میں ایک منطقی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ ابن عمر،
اس کا پہلا جواب یہ ہے کہ یہ اس طرح کی عقلی دلیل کے ذریعہ نص صریح اور اجماع امت کی مخالفت کرنا نامناسب ہے۔
دوسرا جواب یہ ہے کہ ان اسلاف نے تو یہ کہا ہے کہ اگر روزہ کی وجہ سے بچہ پر خوف ہو تو وہ روزہ ترک کرے گی اور فدیہ ادا کرے گی۔جبکہ حالتِ حائض یا نفاس میں روزہ اس پر حرام ہوتا ہے لہذا ایسی صورت میں نہ قلتِ لبن کا اندیشہ ہے اور نہ ہی خوف علی الولد کی شرط پائی جاتی ہے۔لہذا ایسی صورت میں فدیہ کی بات ان کے قول سے مطابقت نہیں رکھتی ہے۔
تیسرا جواب یہ ہے کہ یہاں روزہ توڑنے کا سبب حیض یا نفاس ہے کیونکہ نفاس یا حائض رضاعت اور حمل کی نسبت زیادہ خاص عذر ہے،
"یعنی اگر دو سبب جمع ہوجائے،
لہذا حالت حائض ونفاس میں روزہ توڑنے کے لیے رضاعت کا سبب غیر مؤثر ہے۔
شیخ ابو المعز محمد علی فرکوس جزائزی،
"المرضعة في زمن النفاس تقضي ولا تَفدي؛
"یعنی: مرضعہ نفاس کے سبب سے جو روزہ ترک کرے گی اس کی وہ قضا کرے گی،
خلاصہ:
خوف علی النفس کی صورت میں متعدد اہل علم نے جو اجماع نقل کیا ہے اس کے رد میں نہ کوئی واضح دلیل ہے اور نہ ہی نفاس کے تعلق سے جو اجماع نقل کیا گیا ہے اس کے خلاف کوئی دلیل ہے۔لہذا احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ بحث وتحقیق کے نام پر عام اہل علم کی مخالفت سے اجتناب کیا جائے اور اپنے فہم پر ان کے فہم کو مقدم سمجھا جائے۔ هذا ما عندي والله الموفق





