جب کسی علاقہ میں مختلف لوگ ایک ساتھ رہتے سہتے اور بستے ہیں تو کبھی کبھی زمین،
جب دو شخص میں تنازع ہوتا ہے تو ایک شخص مدعی (دعویٰ کرنے والا) ہوتا ہے اور دوسرا مدعی علیہ (جس پر دعویٰ کیا گیا)۔جس نے دعویٰ پیش کیا ہے یعنی مدعی اس کی ذمہ داری یہ ہے کہ اپنے دعویٰ کے ثبوت میں دلائل و براہین پیش کرے اور دوسرا شخص مدعی کے دعویٰ نہ پیش کرنے کی صورت میں قسم کھائے گا۔جیسا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اَلْبَیِّنَةُ عَلي الْمُدَّعِيْ وَالْيَمِيْنُ عَلي الْمُدَّعٰي عَلَيْهِ (ترمذی:1341)
یعنی دعویٰ کرنے والا دلیل دے گا اور دلیل نہ دینے کی صورت میں جس پر دعویٰ کیا گیا ہے وہ قسم کھائے گا۔
شریعت کا یہ بنیادی اصول جو پوری دنیا میں مروج بھی ہے اور عدالتوں میں عملاً رائج بھی ہے کہ پہلے مدعی سے دعوی کے مطابق دلیل طلب کی جائے بصورت دیگر مدعی علیہ قسم کھائے گا۔اس واضح اصول اور ہدایت کے باوجود بہت سے لوگ جھگڑا ہونے کی صورت میں مدعی ہیں مگر قسم کے لیے آمادہ ہیں اور دلائل کی عدم موجودگی میں مدعی علیہ الگ قسم کھانے کے لیے آمادہ رہتا ہے۔
جب مدعی کے پاس دلیل نہیں ہوتی تو اسے گھبراہٹ ہوتی ہے کہ ابھی مدعی علیہ قسم کھا کر ہڑپ لے گا۔ایسا ہی ایک صحابی کے ساتھ پیش آیا،
اِنَّ الَّذِيْنَ يَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَاَيْمَاْنِهِمْ ثَمَناََ قَلِيْلاََ اُوْلٰئِكَ لَا خَلَاْقَ لَهُمْ فِيْ الْاخِرَةِ وَلَاْ يُكَلَّهُمُ اللّٰهُ وَلَا يَنْظُرُ اِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيْهِمْ وَلَهُمْ عَذَاْبُُ اَلِيْمُُ (آل عمران:77)
اللہ تعالی نے آیت کریمہ کے ذریعہ واضح کردیا کہ مدعی کے پاس دلیل نہ ہونے کی صورت میں مدعی علیہ قسم کھائے گا،





