ہم لوگ جب اپنا مکان،
عمارت کی تعمیر میں یقینا یہ فکر قابل قدر ہے۔اگر تعمیر اس ایمان کے ساتھ کی جائے کہ اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ َِزِلْْزَالَہَا وَاَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَا(زلزال 1,2) جب یہ زلزلہ آئے گا تو سب کچھ زمین بوس ہی نہیں بلکہ زمیں دوز بھی ہوجانا ہے۔
مگر ملک کی تعمیر ہم اوپر سے کرنا چاہتے ہیں جبکہ ملک کی تعمیر عمارتوں کی تعمیر سے بہت مشکل ہے۔ملکوں کی تعمیر میں کبھی کبھی بہت لمبی مدت لگتی ہے،
آسمان سے کوئی فرشتہ نہ پہلے کبھی آیا اور نہ ہی مستقبل میں کبھی آئے گا۔جو لوگ دنیا کی ہوا کھا کر دنیا آشنا ہیں انہی میں پاکیزہ صفت کو تلاش کرنا پڑے گا مگر اس سے پہلے اس صفت کا حامل خود ہونا پڑے گا۔بصورت دیگر لوگ جس صفت کے حامل ہوں گے اسی قماش کا قائد تلاش کریں گے شرابی شرابی کو ترجیح دے گا،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے افراد کا تزکیہ اور تطہیر کی اور یہی حکم بھی تھا کیونکہ پہلے بنیاد کی اینٹوں کو مضبوط بنانا تھا اور پھر اسی کو جوڑ کر ملک کی تعمیر کرنی تھی۔اس لیے اللہ تعالٰی نے فرمایا: يَا اَيُّهَا الْمُدَّثِّرْ. قُمْ فَاَنْذِرْ. وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ. وَثِيَاْبَكَ فَطَهِّرْ (المدثر: 1 تا 4) اے کپڑا اوڑھنے والے! کھڑے ہوجا اور آگاہ کر دے اور اپنے رب ہی کی بڑائی بیان کر،
آیت کریمہ میں ملک کی تعمیر کے لیے اپنی،
اللہ تعالٰی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مستحکم پلان کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا جس کا آغاز بنیاد سے ہونا تھا اور جس کی مدت کم سے کم تیئیس سال تھی اس لیے یہ خلافت اور اس خلافت کی اینٹ نیچے سے اوپر تک حد درجہ مضبوط ہونی تھی۔یہی وجہ ہے کہ اس وقت کی بڑی بڑی سوپر طاقتیں نہ تو ہلا سکیں اور نہ ہی گرا سکیں مگر ان لوگوں نے بڑی بڑی سلطنتوں کو ان کے مقابلے میں سامان ضرب و حرب سے خالی ہونے کے باوجود پرخچے اڑا کر ان کو تاریخ کا قصہ پارینہ بنا دیا۔
اب ہم لوگ ملک کا آغاز اور تطہیر کی شروعات قائدین سے کرنا چاہتے ہیں جو عقلی اعتبار سے بھی غلط ہے اور منطقی اعتبار سے بھی اور ہم اسے شرعی اعتبار سے بھی غلط مانتے ہیں۔ملک کے قائدین کو ہم اپنے قیمتی ووٹوں سے منتخب کرتے ہیں مگر کس طرح عیاں را چہ بیاں۔پہلے قائدین ڈاکوؤں اور غنڈوں کو استعمال کر کے الیکشن جیتتے تھے کیوں کہ ان کے توسط سے غریب اور کمزور ووٹرس اپنا قیمتی ووٹ خوف یا پیسے کی بنیاد پر ڈاکوؤں اور غنڈوں کو دے دیا کرتے تھے اور قائد جیت جاتا تھا۔مگر جب انھوں نے یہ سمجھ لیا کہ جب ہم ان کو جیتا سکتے ہیں تو پھر خود کیوں نہیں جیت سکتے،
ہمارے قائدین کو منتخب کرنے والے آسمان سے نہیں ٹپکتے بلکہ ہم خود منتخب کرتے ہیں جو سماج کے نچلے طبقے کے ہیں۔نچلا طبقہ بھی بیشتر کرپٹ ہے،
کرپشن میں نیچے سے اوپر تک ہر طبقہ کس طرح لت پت ہے اس کا ایک شخص نے تجربہ کیا اور اپنی ٹی وی کا کوئی ایک تار کھول کر میکینک کے پاس لے گیا۔اس نے بڑی دیر تک دیکھا اور کہا فلاں سامان خراب ہوگیا ہے تیرہ ہزار روپئے لگیں گے۔زیادہ خرچ کی وجہ سے اس نے معذرت کی اور ٹی وی واپس لے کر چلا آیا۔دوسرے دن اس نے اپنے فریزر کا تار کھولا میکینک کو بلایا اس نے بڑی توجہ سے دیکھا اور بتایا کہ کمپریسر خراب ہوگیا ہے اٹھارہ ہزار روپیہ خرچ ہے۔اس نے اس سے بھی مہلت لی۔تیسرے دن اس شخص نے اپنی بائک کا ایک پہیہ لیا،
یہ واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ کرپشن نیچے سے اوپر تک ہر جگہ ہے۔جب نیچے کا طبقہ کرپٹ ہوگا تو کرپٹ کو ہی منتخب کرے گا۔جو قوم ایک پلیٹ بریانی،





