چھٹی اور آخری قسط:
حاملہ اور مرضعہ کے روزے کا مسئلہ ایک مختلف فیہ مسئلہ ہے،
لہذا اصول کے مطابق ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ شرعی رخصت کی بنا پر جو خواتین حمل ورضاعت کی حالت میں رمضان کے روزے نہیں رکھ پاتیں ان پر بعد میں کیا واجب ہوتا ہے۔تاکہ علما کے مختلف اقوال میں سے کتاب وسنت سے سب سے قریب ترین قول کون سا ہے اسے معلوم کیا جاسکے اور اس پر عمل کیا جاسکے۔
اس لیے اب علما کے اقوال مع دلائل پیش کیے جا رہے ہیں۔
● پہلا قول: ان پر صرف فدیہ ہے،
عہد صحابہ سے لے کر دور حاضر تک علما کی ایک جماعت کا یہ موقف رہا ہے،
حالانکہ ایسی بات نہیں ہے۔جیسے کہ کہا گیا صحابہ کرام میں سے ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ فتوی ہے۔بسند صحیح ان سے یہ فتوی ثابت ہے۔اور صحابہ کرام میں سے کسی نے ان کی مخالفت نہیں کی ہے۔ابن قدامہ،
اسی وجہ سے شیخ محمد بن عمر بازمول نے اسے اجماع سکوتی قرار دیا ہے۔ (الترجیح فی مسائل الصوم والزکاۃ: 2/64)
سلف میں سے سعید بن المسیب،
اور ائمہ اربعہ میں سے امام مالک رحمہ اللہ کا یہ ایک قول ہے جسے ان کے شاگرد ابن وہب نے بیان کیا ہے،
مسلم بن یسار (المتوفی 100ھ او ما بعدھا) فرماتے ہیں: أدركت أهل المدينة وهم يخيرون المرضع والحامل في شهرها الذي تخاف على نفسها يفطران ويطعمان كل يوم مسكينًا۔(شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے شرح العمدہ کتاب الصیام (ص252) میں ان سے صیغہ جزم کے ساتھ نقل کیا ہے۔اور سعید بن منصور کی طرف احالہ کیا ہے لیکن سنن سعید بن منصور کا کتاب الصیام والا حصہ مطبوع نہیں ہے،
علامہ امیر صنعانی ابن عمر رضی اللہ عنہ کا اثر ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: "هذه فتيا من ابن عمر،
علامہ نواب صدیق حسن خان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "عن ابن عباس بسند صحيح أنه قال: لأم ولد له حامل أو مرضعة أنت بمنزلة الذين لا يطيقون الصوم،
شیخ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "وهذا مروي عن ابن عباس وعن ابن عمر رضي الله عنهما،
الغرض علمائے کرام نے سلف کی ایک جماعت کی طرف اس قول کو منسوب کیا ہے اور یہ ان کے نزدیک کبھی شاذ قول نہیں رہا ہے۔
معاصرین علمائے محققین کی ایک جماعت نے بھی اسے ہی راجح کہا ہے۔مثلا: علامہ البانی،
اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ کوئی شاذ قول نہیں بلکہ اجلائے علمائے سلف وخلف کی ایک جماعت کا مختار قول ہے۔
در اصل اسی غلط فہمی نے بہت سارے حضرات کی نظر میں اس قول کو نہایت کمزور کردیا ہے کہ یہ ایک شاذ قول ہے اور جمہور کی مخالفت سے مرعوب ہوکر کوئی اس کی طرف خاص توجہ نہیں دینا چاہتا۔حالانکہ دلائل کے اعتبار سے یہ سب سے قوی ہے اور علمائے سلف وخلف کی ایک جماعت نے اسے ہی اختیار کیا ہے۔
✿ اب اس قول کے دلائل ملاحظہ فرمائیں:
● پہلی دلیل: اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ”وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ“۔
اس آیت میں اس بات کی صراحت ہے کہ کچھ لوگوں پر صرف فدیہ واجب ہے،
ابتدائے اسلام میں یہ آیت سب کے لیے عام تھی،
پھر بعد میں کچھ لوگوں کے حق میں اس کا حکم منسوخ ہو گیا اور کچھ لوگوں کے حق میں اسے باقی رکھا گیا۔بہت سارے آثار میں اسی چیز کو بغیر تفصیل کے ”منسوخ“ کہا گیا ہے،
اگر منسوخ کا یہ معنی نہ لیا جائے تو لازم آئے گا کہ خود ابن عباس رضی اللہ عنہ تضاد کے شکار ہیں،
اور بعض جگہوں پر کہا ہے کہ یہ منسوخ ہے۔مثلا جہاں منسوخ ہونے کی بات کی ہے وہاں ان کے الفاظ پر غور کریں،
رُخِّصَ لِلشَّيْخِ الْكَبِيرِ وَالْعَجُوزِ الْكَبِيرَةِ فِي ذَلِكَ وَهُمَا يُطِيقَانِ الصَّوْمَ أَنْ يُفْطِرَا إِنْ شَاءَا أَوْ يُطْعِمَا كُلَّ يَوْمٍ مِسْكِينًا وَلَا قَضَاءَ عَلَيْهِمَا ثُمَّ نُسِخَ ذَلِكَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ {فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ} وَثَبَتَ لِلشَّيْخِ الْكَبِيرِ وَالْعَجُوزِ الْكَبِيرَةِ إِذَا كَانَا لَا يُطِيقَانِ الصَّوْمَ وَالْحُبْلَى وَالْمُرْضِعِ إِذَا خَافَتَا أَفْطَرَتَا وَأَطْعَمَتَا كُلَّ يَوْمٍ مِسْكِينًا. (المنتقى لابن الجارود: ص 103،
یہاں پر منسوخ ہونے کی بھی بات کر رہے اور بوڑھے بزرگ اور حاملہ ومرضعہ کے حق میں محکم اور ثابت ہونے کی بھی بات کر رہے ہیں۔اس سے واضح ہے کہ منسوخ سے مراد یہاں ”معروف اصطلاحی منسوخ“ نہیں بلکہ ”تخصیص“ ہے۔اور یہی علما نے توجیہ کی ہے،
یہ تو آیت کو متواتر قراءت ”يُطِيقُونَهُ“ پڑھنے کی صورت میں بات ہوئی۔اس آیت کی ایک اور مشہور قراءت بہت سارے سلف صالحین سے وارد ہے،
اسی طرح یہ قراءت عائشہ،
اس قراءت کا معنی ہے: جنھیں روزہ رکھنے میں کلفت اور پریشانی ہوتی ہو وہ روزہ نہ رکھیں اور فدیہ ادا کر دیں۔
علامہ ابن عبد البر فرماتے ہیں:
"وأما الذين كانوا يقرؤون (عَلَى الَّذِينَ يُطَوَّقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مَسَاكِينَ) فَهَذِهِ القراءة رويت عن ابن عَبَّاسٍ مِنْ طُرُقٍ،
(جو لوگ آیت کو اس طرح پڑھتے ہیں: ”عَلَى الَّذِينَ يُطَوَّقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مَسَاكِينَ“ تو یہ قراءت ابن عباس سے متعدد طرق سے مروی ہے،
ابن عبد البر رحمہ اللہ نے اس قراءت کی صورت میں سلف کی ایک جماعت سے نقل کیا ہے کہ وہ اس آیت کو بوڑھے مرد وعورت اور حاملہ ومرضعہ جنھیں روزہ رکھنے میں پریشانی ہوتی ہو اور روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں ان کے حق میں محکم کہا ہے۔اور مجھے کوئی ایک بھی ایسا قول نہیں ملا جنھوں نے آیت کو محکم کہا ہو اور حاملہ ومرضعہ کا اس کے حکم میں داخل ہونے سے انکار کیا ہو۔ہاں بعض سلف کے یہاں یہ تو موجود ہےکہ انھوں نے صرف بوڑھے مرد وعورت کے ذکر پر اکتفا کیا ہے اور انھوں نے حاملہ ومرضعہ کا ذکر نہیں کیا ہے۔لیکن کسی سے ایک بھی ایسا قول نہ ملا کہ حاملہ اور مرضعہ اس میں داخل نہیں ہیں۔وفوق کل ذی علم علیم
یہاں پر قضا کے قائلین کو غور کرنا چاہیے کہ وہ اس آیت کو محکم مانتے ہیں یا منسوخ؟
اگر وہ اسے منسوخ کہیں تو جنھوں نے محکم کہا ہے ان کا قول رد کرنے کی ان کے پاس کیا دلیل ہے؟
نیز منسوخ ماننے کی صورت میں بوڑھے مرد وعورت کا حکم وہ کس دلیل سے بیان کرتے ہیں؟
اور اگر کہیں کہ منسوخ نہیں،
اگر ”داخل نہیں“،
ظاہر سی بات ہے سبھی حاملہ ومرضعہ کو اس میں داخل مانتے ہیں،
حالانکہ داخل ماننے کی صورت میں خود قرآن کا نص ہے کہ ان کے اوپر فدیہ واجب ہے۔
آپ ”وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ“ میں یہ تو تسلیم کریں کہ ”الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ“ میں حاملہ ومرضعہ داخل ہیں لیکن ”فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ“ کا انکار کردیں یہ کہاں کا انصاف ہے؟
اس لیے راجح یہ ہے کہ یہ آیت جو بھی ”الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ“ کے اندر داخل ہیں ان کے حق میں فدیہ کے وجوب پر نص ہے۔اور یہی بات شیخ محمد بن عمر بازمول نے کہی ہے۔ (الترجیح فی مسائل الصوم والزکاۃ: 2/64)
اور جب یہ نص ہے تو حاملہ ومرضعہ کو مریض کے اوپر ”قیاس“ کرکے ”فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ“ کا حکم دینا قطعا جائز نہیں۔ لا قیاس فی مقابل النص
● دوسری دلیل: ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
رُخِّصَ لِلشَّيْخِ الْكَبِيرِ وَالْعَجُوزِ الْكَبِيرَةِ وَهُمَا يُطِيقَانِ الصَّوْمَ،
(بوڑھے مرد وعورت کو طاقت رکھنے کی صورت میں یہ رخصت دی گئی کہ چاہیں تو فدیہ دیں،
✿ ابن عباس رضی اللہ عنہ کی یہ تفسیر حدیثِ مرفوع کے حکم میں ہے۔
محدثین کرام نے مرفوع حکمی کے جو اصول بیان کیے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ کوئی صحابی کسی چیز کے متعلق جب یہ کہے: «أُمِرْنا بكذا», «نُهِينا عن كذا», «رُخِّصَ لنا», «أُبِيحَ لنا», «حُرِّمَ علينا», «أُوجِبَ علينا» تو گرچہ یہ لفظًا موقوف ہولیکن حکمًا مرفوع ہے۔چاہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے ایک زمانے کے بعد کہا ہو یا وفات کے تھوڑے دنوں کے بعد یا آپ کی زندگی میں۔چاہے بطور احتجاج کہا ہو یا بغیر احتجاج کے،
اور یہاں ابن عباس رضی اللہ عنہ نے «رُخِّصَ لنا» کہا ہے۔اسی طرح سنن ابی داود میں اس آیت کے متعلق ان کے الفاظ ہیں: «أُثْبِتَتْ لِلحُبلى والمُرْضِع» (حاملہ ومرضعہ کے لیے اس آیت کو ثابت رکھا گیا)
لہذا محدثین کرام کے بیان کردہ اصول کے مطابق یہ گرچہ لفظا موقوف ہو لیکن حکمًا مرفوع ہے۔
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ گرچہ قضا کے قائلین میں سے ہیں لیکن اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
"قوله رضي الله عنه: «رخِّص»: إذا قال الصحابي هكذا بالبناء للمجهول،
فإن قال قائل: أفلا يجوز أن يكون ابن عباس رضي الله عنهما فهم ذلك اجتهادًا،
(ابن عباس رضی اللہ عنہ کا ”رُخِّصَ“ کہنا تو جب صحابی صیغہ مجہول کے ساتھ اس طرح کہے تو اس کا فاعل نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہوتے ہیں۔اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح صیغہ مجہول کے ساتھ کہیں تو فاعل اللہ تعالی ہوتے ہیں۔بنا بریں اس طرح کی حدیث مرفوع حکمی کے قبیل سے ہے۔ہم مرفوع صریح نہیں کہتے کیونکہ صحابی نے اس بات کی صراحت نہیں کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رخصت دی ہے،
اگر کوئی کہے: کیا یہ جائز نہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے اجتہاد سے یہ سمجھا ہو،
اس کا جواب یہ ہے کہ اگر ایسا ہوتا تو اس طرح یقین کے ساتھ نہ کہتے۔یعنی کہ اجتہاد کی صورت میں اس طرح یقین کے ساتھ ”رُخِّصَ“ نہ کہتے،
شیخ رحمہ اللہ نے صاف طور پر یہاں اس تفسیر کو حکما مرفوع کہا ہے۔اور محتمل اشکالات کا پہلے ہی جواب دے دیا ہے کہ ان کی بنا پر اسے مرفوع حکمی ماننے سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔
یہی بات ان سے پہلے علامہ شوکانی رحمہ اللہ نے کہی ہے،
(یہ ایک تو ابن عباس کی طرف سے قرآن کی تفسیر ہے۔نیز اس میں مرفوع ہونے کی بھی اطلاع ہے)
علامہ شوکانی کا اشارہ مذکورہ صیغہ کی طرف ہے،
جب اس تفسیر کا حکم حدیثِ مرفوع کا ہوا تو آیت میں اس بات کی صراحت ہے کہ ان کے لیے صرف فدیہ ہے،
"أن استدلال ابن عباس رضي الله عنهما بهذه الآية استدلال عميق جداً،
والجواب: أن الله تعالى لما جعل الفدية عديلاً للصوم في مقام التخيير دل ذلك على أنها تكون بدلاً عنه في حال تعذر الصوم،
یہاں شیخ رحمہ اللہ نے عمر رسیدہ بزرگ کے معاملہ میں اس استدلال کو ”عمیق جدا“ کہا ہے۔اور ابن عباس رضی اللہ نے ان کے ساتھ ہی حاملہ ومرضعہ کو بھی بیان کیا ہے۔اور بلا شبہ ان کی تفسیر آیت کے بالکل موافق ہے،
اس لیے یہ دونوں دلیلیں اس مسئلہ میں نص کی حیثیت رکھتی ہیں کہ حاملہ ومرضعہ پر صرف فدیہ ہے،
● تیسری دلیل: انس بن مالک الکعبی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"إن الله تعالى وضع عن المسافر الصوم،
ایک مستقل مضمون میں اس حدیث کے متعلق بالتفصیل بیان کیا جاچکا ہے کہ اس کی صحت پر محدثین نے کلام کیا ہے۔اور اس کے وارد شدہ الفاظ سے یہ واضح ہے کہ راوی حدیث سے اس کے الفاظ کو ضبط کرنے میں چوک ہوئی ہے،
● چوتھی دلیل: صحابہ کرام کا فتوی:
دو جلیل القدر صحابہ عبد اللہ بن عباس اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بسند صحیح مروی ہے کہ حاملہ ومرضعہ اگر روزے نہ رکھ سکیں تو بعد میں ان پر صرف فدیہ ہے،
صحابہ کرام میں سے اور کسی دوسرے صحابی نے ان دونوں کی مخالفت نہیں کی ہے۔اگر پہلی دونوں دلیلیں نہ بھی ہوتیں پھر بھی اختلاف کی صورت میں صحابہ کرام کے اس قول پر عمل کرنا اولی اور اقرب الی الصواب ہوتا۔
✿ اس دلیل پر وارد بعض اعتراضات اور ان کا جائزہ:
پہلا اعتراض: یہ صحابہ کرام کا قول ہے اور اقوال صحابہ حجت نہیں۔
✿ جائزہ: صحابی کا قول حجت ہے یا نہیں اس بارے میں علمائے کرام کے درمیان اختلاف ہے۔علمائے اصول نے اسے مختلف فیہ ادلہ میں سے شمار کیا ہے۔
علامہ ابن القیم رحمہ اللہ نے اعلام الموقعین (5/543،
محققین علما کے اقوال کا خلاصہ یہ ہے کہ راجح قول کے مطابق قول صحابی دو شرطوں کے ساتھ حجت ہے۔استاد محترم شیخ صالح العصیمی حفظہ اللہ (عضو ہیئۃ کبار العلماء) ایک درس میں فرماتے ہیں کہ راجح قول کے مطابق قول صحابی دو شرطوں کے ساتھ حجت ہے:
پہلی شرط: ان کا قول کتاب وسنت کی کسی دلیل سے نہ ٹکراتا ہو۔
دوسری شرط: کسی دوسرے صحابی نے ان کی مخالفت نہ کی ہو۔
اگر کسی صحابی کے قول میں یہ دو شرطیں پائی جاتی ہیں تو وہ حجت ہے،
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ اپنے منظومۃ القواعد الفقہیہ میں فرماتے ہیں:
قولُ الصحابي حُجَّةٌ على الأَصَحّ .... ما لَمْ يُخالِفْ مثلَهُ فَمَا رَجَحْ
(قول صحابی راجح قول کے مطابق حجت ہے،
اب یہاں غور کرنے والی بات یہ ہے کہ کیا ان دونوں صحابہ کرام کے فتووں میں یہ دونوں شرطیں پائی جاتی ہیں یا نہیں؟
✿ پہلے: پہلی شرط کو دیکھتے ہیں:
قرآن کی کسی آیت سے ان دونوں کے قول کی کوئی مخالفت لازم نہیں آتی،
جہاں تک ”وَمَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سفر فعدة مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ“ والی آیت کی بات ہے تو وہ اس مسئلہ میں نص نہیں،
جہاں تک انس بن مالک الکعبی رضی اللہ عنہ کی حدیث کا تعلق ہے تو اس کے متعلق تفصیلی بحث گزری کہ اس سے قضا کے وجوب پر استدلال کرنا غلط استدلال ہے۔اور مسئلہ میں کوئی دوسری ایسی حدیث نہیں جو ان دونوں صحابہ کرام کے فتووں سے ٹکراتی ہو۔
لہذا بلا شبہ یہاں پہلی شرط موجود ہے۔
✿ دوسری شرط: یعنی کسی دوسرے صحابی نے ان کی مخالفت نہ کی ہو۔
تو یہ شرط بھی الحمد للہ یہاں موجود ہے۔کسی دوسرے صحابی سے ان کی مخالفت ثابت نہیں ہے۔
مجموعی طور پر ان کے فتووں کی مخالفت میں تین آثار وارد ہیں۔
1–ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: «تُفْطِرُ الْحَامِلُ وَالْمُرْضِعُ فِي رَمَضَانَ،
یہ اثر ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں ہے۔اس کی مفصل تخریج پہلے پیش کی جاچکی ہے۔
2–ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: «أن امرأة صامت حاملا فاستعطشت في شهر رمضان،
یہ اثر ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں۔اس کی بھی تفصیلی تخریج پیش کی جاچکی ہے۔
اس پر ایک بات یہ کہی جاتی ہے کہ امام ابو عبید القاسم بن سلام رحمہ اللہ نے قضا کے قائلین میں ابن عمر رضی اللہ عنہ کا نام بھی شمار کیا ہے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ جب ان سے مروی سند ہمیں مل چکی اور دلائل سے ثابت ہوگیا کہ یہ اثر ان سے ثابت نہیں تو صرف کسی کی طرف سے نام ذکر کردینے سے یہ ان سے ثابت نہیں ہو جائے گا اور اس کا ضعف ختم نہیں ہو جائے گا۔اہل علم پر یہ مخفی نہیں۔
اس کے بالمقابل علامہ ابن عبد البر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْمَرْوَزِيُّ: لَا نَعْلَمُ أَحَدًا صَحَّ عَنْهُ أَنَّهُ جَمَعَ عَلَيْهِمَا الْأَمْرَيْنِ الْقَضَاءَ وَالْإِطْعَامَ إِلَّا مُجَاهِدًا. قال: وروي ذلك عن عطاء وعن ابن عُمَرَ أَيْضًا وَلَا يَصِحُّ عَنْهُمَا،
(ابو عبد اللہ المروزی فرماتے ہیں: ہمیں نہیں معلوم کہ مجاہد کے علاوہ کسی سے قضا وفدیہ دونوں کا جمع کرنا ثابت ہے۔فرماتے ہیں: عطاء اور ابن عمر سے بھی یہ مروی ہے لیکن ثابت نہیں ہے۔ابن عمر سے جو ثابت ہے وہ یہ کہ ان پر صرف فدیہ ہے،
3–علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: "عَلَيْهِمَا الْقَضَاءُ إذَا أَفْطَرَتَا وَلَا فِدْيَةَ عَلَيْهِمَا"۔(أحكام القرآن للجصاص: 1/220)
(ان دونوں–یعنی حاملہ ومرضعہ-پر روزہ چھوڑنے کی صورت میں قضا ہے،
✿ اس اثر کا درجہ: لا اصل لہ (اس کی کوئی اصل نہیں ہے)
اسے ابو بکر الجصاص نے بلا سند علی رضی اللہ عنہ روایت کی ہے۔دوسری جگہ بھی کہیں اس کی کوئی سند نہ مل سکی۔اور ایسی احادیث جن کی اسانید کا کوئی اتہ پتہ نہ ہو ان کے متعلق محدثین حکم لگاتے ہوئے فرماتے ہیں: ”ليس له أصل“ یا ”لا أصل له“۔(تدريب الراوي: 1/350)
ایسی بلا سند روایت کو رد کرنے میں تردد کرنا محدثین کے اصول کے خلاف ہے۔
نتیجہ یہ نکلا کہ ان دونوں صحابہ کرام نے کسی دوسرے صحابی کی کوئی مخالفت نہیں کی ہے۔بلکہ علامہ ابن قدامہ المقدسی،
● شریعت کے بہت سارے ایسے مسائل ہیں جن میں کتاب وسنت کے نصوص ہمارے سامنے موجود نہیں ہیں اور ہم بلا چوں وچراں صحابہ کرام کے فتاوے کی روشنی میں بخوشی عمل کرتے ہیں اور کبھی اس میں تردد نہیں کرتے۔میں یہاں اس طرح کی صرف تین مثالیں پیش کرتا ہوں۔
✿ پہلی مثال: عید کی مبارکبادی کے سلسلے میں کتاب وسنت کے نصوص ہمارے سامنے موجود نہیں ہیں،
✿ دوسری مثال: حج یا عمرہ کے واجبات میں سے کوئی واجب اگر کسی سے فوت ہوجائے تو ”دم“ کے ذریعہ اس کی بھرپائی کی جاتی ہے۔ہر سال حجاج کرام اس مسئلہ پر عمل کرتے ہیں اور ہم بھی حجاج کرام کو اس کی رہنمائی کرتے ہیں،
یہاں پر عمل کرتے وقت ہمیں یہ اشکال نہیں ہوتا کہ یہ تو قول صحابی ہے،
✿ تیسری مثال: ابھی لاک ڈاؤن کے زمانے میں ہم نے گھروں میں عید کی نماز ادا کی ہے اور اس موقع پر سب نے بڑھ چڑھ کر انس رضی اللہ عنہ کے عمل سے استدلال کیا ہے۔حالانکہ بعض دوسرے صحابہ کرام سے اس کے برعکس دوسرے فتاوے بھی سامنے آئے تھے،
✿ تنبیہ: بوڑھے مرد وعورت جو روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں ان کے متعلق بھی قول صحابی کو حجت مانا جاتا ہے اور ابن عباس وانس رضی اللہ عنہما کے آثار سے استدلال کیا جاتا ہے۔
ان کے لیے فدیہ پر اکتفا کو لے کر کوئی اعتراض نہیں کیا جاتا۔حالانکہ ان پر فدیہ کے لیے جو دلیلیں ہیں وہی حاملہ ومرضعہ کے لیے بھی ہیں۔جس آیت سے ان پر فدیہ کے لیے استدلال کیا جاتا ہے اسی آیت میں ابن عباس رضی اللہ عنہ نے حاملہ ومرضعہ کا بھی ذکر کیا ہے۔اگر کوئی آیت کو منسوخ کہہ کر قابل استدلال نہیں سمجھتا تو بوڑھے مرد وعورت کےحق میں بھی اسے ناقابل استدلال ہونا چاہیے۔
نیز اس میں ابن عباس کی تفسیر اور انس رضی اللہ عنہ کے عمل کو بلا تردد بطور دلیل پیش کیا جاتا ہے۔اگر قول صحابی حجت نہیں تو یہاں بھی رد کر دیا جانا چاہیے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ نہ آیت منسوخ ہے اور نہ شروط کے ساتھ قول صحابی کی حجیت کا انکار درست ہے۔
✿ قول صحابی کی حجیت کے متعلق شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا موقف:
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"من قال من العلماء قول الصحابي حجة فإن كان لم يخالفه غيره من الصحابة ولا عرف نص يخالفه ثم إذا اشتهر ولم ينكروه كان إقراراً على القول فقد يقال إجماع إقراري أنهم أقروه لم ينكره أحد منهم وهم لا يقرون على باطل۔
وأما إذا لم يشتهر فهذا إن عرف أن غيره لم يخالفه فقد يقال هو حجة وأما إذا عرف أنه خالفه فليس بحجة بالاتفاق. وأما إذا لم يعرف هل وافقه غيره أو خالفه لم يجزم بأحدهما۔
ومتى كانت السنة تدل على خلافه كانت الحجة في سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم لا فيما يخالفها بلا ريب عند أهل العلم"۔(مجموع الفتاوى:1/283)
"اہل علم میں جو لوگ اس بات کے قائل کے ہیں کہ صحابی کا قول حجت ہے،
✿ جائزہ: شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے قول صحابی کو اولا دو قسموں میں تقسیم کیا ہے: ان کا قول صحابہ کے درمیان مشہور تھا یا مشہور نہیں تھا۔
اگر مشہور تھا اور انھوں نے کتاب وسنت کے کسی نص کی یا کسی دوسرے صحابی کی مخالفت نہیں کی ہے تو یہ اجماع اقراری (سکوتی) ہے۔
اور اگر مشہور نہیں تھا تو اس کی تین قسمیں ہیں:
پہلی قسم: معلوم ہو کہ کسی دوسرے صحابی نے ان کی مخالفت نہیں کی ہے تو ان کا قول حجت ہے۔
دوسری قسم: معلوم ہو کہ کسی دوسرے نے ان کی مخالفت کی ہے تو ان کا قول حجت نہیں۔
تیسری قسم: کچھ بھی پتہ نہ چلے کہ کسی دوسرے نے مخالفت کی ہے یا موافقت تو اس کے متعلق یقین کے ساتھ کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ حجت ہے یا نہیں۔
یہاں غور کرنے والی بات یہ ہے کہ جب خود وہ کہہ رہے کہ ان کا قول مشہور نہیں تھا تو کسی دوسرے نے مخالفت کی ہے یا نہیں کی اسے معلوم کرنے کا کیا طریقہ ہوگا۔اگر دوسرے صحابہ کرام سے یہ مل جائے کہ ان تک یہ بات پہنچی اور انھوں نے مخالفت نہیں کی تو یہ ”غیر مشہور“ ہی کہاں رہ گیا؟
یہ تو مشہور کے ضمن میں داخل ہوگیا۔کوئی قول غیر مشہور ہو اور پتہ بھی چلے کہ کسی دوسرے صحابی نے اس کی مخالفت نہیں کی ہے یہ بالفعل ممکن نہیں سوائے ایک صورت کے،
اگر علما کسی قول صحابی کے متعلق یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کسی دوسرے صحابی نے ان کی مخالفت نہیں کی ہے تو ان کا قول معتبر ہے الا یہ کہ اس کے خلاف کوئی دلیل مل جائے کہ فلاں دوسرے صحابی سے ان کی مخالفت ثابت ہے۔
اب زیر بحث ابن عمر وابن عباس رضی اللہ عنہما کے فتووں پر غور کرتے ہیں۔
اولا: یہ کسی ایک صحابی کا معاملہ نہیں ہے۔
ثانیا: یہ دونوں ایسے صحابہ ہیں جو نشرِ علم کے لیے وقف تھے اور کثیر تعداد میں لوگ اپنے دینی مسائل کے لیے ان کی طرف رجوع کرتے تھے۔
ثالثا: ابن عمر رضی اللہ نے متعدد بار یہ فتوی دیا ہے۔ایک مرتبہ اپنی بیٹی کو،
اگر شیخ الاسلام کی تقسیم کے مطابق اسے غیر مشہور کے زمرے میں رکھا بھی جائے تو یہ اس کی پہلی قسم کے اندر بلاشبہ داخل ہے جسے انھوں نے حجت کہا ہے۔کیونکہ خود انھوں نےصراحت کی ہے کہ کسی دوسرے صحابی نے ان کی مخالفت نہیں کی ہے۔اور یہ فیصلہ کرنے والے وہ اکیلے نہیں ہیں،
ورنہ پہلی قسم کی پھر کوئی مثال ہی نہیں ملے گی،
لہذا شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی اس تقسیم کے مطابق بھی ان دونوں صحابہ کرام کا فتوی زیر بحث مسئلہ میں حجت ہے۔
یہ تمام باتیں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی مذکورہ عبارت کے سلسلے میں ہیں،
علامہ ابن القیم رحمہ اللہ نے اعلام الموقعین میں بڑے شرح وبسط کے ساتھ اس مسئلہ کو بیان کیا ہے،
وإن لم يشتهر قوله أو لم يعلم [هل] اشتهر أم لا فاختلف الناس: هل يكون حجة أم لا؟
فالذي عليه جمهور الأمة أنه حجة،
(اگر کسی صحابی کی دوسرے صحابی نے مخالفت نہ کی ہو،
اور اگر ان کا قول مشہور نہ ہو،
پھر علامہ ابن القیم رحمہ اللہ نے بہت سارے دلائل سے ثابت کیا ہے کہ امام شافعی قول جدید وقول قدیم دونوں کے مطابق اسے حجت مانتے تھے۔اور ان کے متعلق یہ کہنا کہ وہ اسے قول جدید میں حجت نہیں مانتے تھے غلط نسبت ہے۔
علامہ ابن القیم رحمہ اللہ نے یہاں جس چیز کو شرح وبسط کے ساتھ بیان کیا ہے در اصل وہ ان کے سب سے جلیل القدر شیخ علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا ہی بیان کردہ اصول ہے۔ان سے پہلے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے مجموع الفتاوی (20/14) میں اسے بیان کیا ہے،
"وأما أقوال الصحابة؛
(اقوال صحابہ اگر منتشر ہوں اور ان کے زمانے میں ان پر نکیر نہ کی گئی ہو تو جمہور علما کے نزدیک وہ حجت ہیں۔اور اگر ان کا آپس میں اختلاف ہو تو مختلف فیہ اقوال کو کتاب وسنت کی طرف لوٹایا جائے گا اور کسی ایک کا قول باتفاق علما دوسرے پر حجت نہ ہوگا۔اور اگر کسی صحابی نے کوئی بات کہی اور بعض دوسرے صحابہ نے ان کی مخالفت میں کچھ نہ کہا اور اس صحابی کا قول منتشر بھی نہ ہوا تو اس بارے میں اختلاف ہے کہ وہ حجت ہے یا نہیں۔جمہور علما مثلا ابوحنیفہ،
اور ابھی بیان کیا گیا کہ علامہ ابن القیم رحمہ اللہ نے بہت سارے دلائل سے ثابت کیا ہے کہ امام شافعی قول جدید وقول قدیم دونوں کے مطابق اسے حجت مانتے تھے۔اور ان کے متعلق یہ کہنا کہ وہ اسے قول جدید میں حجت نہیں مانتے تھے غلط نسبت ہے۔
پتہ چلا کہ زیر بحث مسئلہ میں دونوں صحابہ کرام کا فتوی جمہور علما کے اصول کے مطابق بلا شبہ حجت ہے۔
✿ قول صحابی کی حجیت کے متعلق شیخ البانی رحمہ اللہ کا منہج:
کہا جاتا ہے کہ شیخ البانی رحمہ اللہ کے نزدیک قول صحابی علی الاطلاق حجت نہیں ہے۔اور اس کے لیے شیخ البانی رحمہ اللہ کا درج ذیل کلام پیش کیا جاتا ہے:
"نحن نعرف أن هناك قولاً بأن قول الصحابي حجة،
"ہمیں یہ معلوم ہے کہ اہل علم کا ایک قول یہ بھی ہے کہ صحابی کا قول حجت ہے لیکن یہ قول علی الاطلاق نہیں ہے اور نہ ہی کسی عالم نے اسے علی الاطلاق قبول کیا ہے۔صحابی کا قول بعض اوقات حجت ہوتا ہے،
✿ جائزہ: شیخ البانی رحمہ اللہ کے اس کلام سے ان کے متعلق یہ فیصلہ کرنا صحیح نہیں ہے کہ ان کے نزدیک قول صحابی علی الاطلاق حجت نہیں ہے۔اس کے کئی اسباب ہیں:
پہلا سبب: شیخ البانی رحمہ اللہ نے مذکورہ باتیں ایک سائل کے سوال کے جواب میں کہی ہیں۔اس لیے جب تک سوال نہ دیکھا جائے ان کے کلام کے سیاق کو سمجھنا مشکل ہے۔
اس لیے پہلے سوال وجواب کا نص ملاحظہ فرمائیں،
السؤال: قول الصحابة لابد ألا يكون مخالفاً لقول الله وقول رسوله،
الجواب: كيف اختلاف تنوع؟ أضرب لك مثلاً: بعضهم يقول: إن مس المرأة ينقض الوضوء،
(سائل کہتا ہے: صحابہ کرام کا قول ضروری ہے کہ اللہ اور اور رسول کے قول کے مخالف نہ ہو۔اگر ایسا ہے تو صحابہ کرام کا (آپسی) اختلاف اختلاف تنوع کے قبیل سے ہے،
جس کے جواب میں شیخ فرماتے ہیں: کیسا اختلاف تنوع؟ میں تمھیں ایک مثال دیتا ہوں،
پھر مذکورہ باتیں شیخ نے پیش کی ہیں۔اس سیاق کو سامنے رکھنے سے بالکل واضح ہوجاتا ہے کہ صحابہ کرام کے درمیان اگر آپس میں اختلاف ہو (جیسا کہ عورت کا چھونا ناقض وضو ہے یا نہیں اس کی شیخ نے مثال دی) اس صورت میں شیخ نے مذکورہ باتیں پیش کی ہیں۔
دوسرا سبب: علما نے شیخ البانی رحمہ اللہ کے منہج پر کتابیں تصنیف کی ہیں اور ان کے اقوال ومنہج کے دراسہ کے بعد ثابت کیا ہے کہ دوسرے علما کی طرح آپ بھی معروف شرائط کی بنیاد پر قول صحابی کی حجیت کے قائل تھے۔ (المنہج السلفی عند الشیخ الالبانی لعمرو عبد المنعم سلیم:ص47-48)
تیسرا سبب: شیخ سے سوال کیا گیا کہ سلف صالحین کے اقوال اگر صحیح سند سے ثابت ہوں تو کیا ان پر علی الاطلاق عمل کیا جائے گا؟
آپ نے جواب دیا: اس مسئلہ میں کوئی مطرد قاعدہ نہیں ہے۔لیکن ممکن ہے کہ اس کے متعلق بعض ضوابط مقرر کیے جائیں،
بسا اوقات بعض حضرات غلو کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ”ھُم رجال،
اس لیے واجب ہے کہ ہم غور وفکر سے کام لیں اور اپنے خاص آراء کو لے کر مگن نہ رہیں۔بلکہ ہمارے اوپر واجب ہے کہ ہم حقیقت میں سلفی بنیں،
چوتھا سبب: نماز تراویح والے مسئلہ میں شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: خلفائے راشدین یا فقہائے صحابہ میں سے کسی سے بھی اگر گیارہ رکعت سے زیادہ ثابت ہوجاتا تو اسے جائز کہنے کے علاوہ ہمارے پاس کوئی چارہ نہ تھا۔کیونکہ ان کی فضیلت،
پانچواں سبب: شیخ رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا: قول الصحابي إذا لم يوجد له مخالف علمت أنكم ذكرتم أنه بشرط أن يشتهر هذا القول عن الصحابي هل لا بد من شرط الاشتهار أو لو أن الصحابي قال قولا ولم نعلم أحدًا خالفه وليس هناك من يرده لا من كتاب ولا من سنة ولا من إجماع فهل يقدم هو على القياس والاجتهاد۔
(قول صحابی کا اگر کوئی مخالف نہ ہو تو مجھے پتہ ہے کہ آپ نے یہ شرط ذکر کی ہے کہ وہ قول صحابی سے مشہور ہو۔کیا مشہور ہونے کی شرط ضروری ہے یا کسی صحابی نے کوئی بات کہی اور ہمیں پتہ نہ چل پایا کہ کسی نے ان کی مخالفت کی ہے یا نہیں اور کتاب وسنت واجماع سے بھی اس کی تردید نہ ہوتی ہو تو اسے قیاس واجتہاد پر مقدم کیا جائےگا یا نہیں؟)
جس کے جواب میں آپ نے فرمایا:
لا شك أن قول الصحابي إذا لم يكن له مخالف وبالطبع أول ما يدخل في هذا القيد أنه ليس مخالفًا للسنة فلا شك أن قوله أبرك وأنفع وأصوب من قول من جاء من بعده فأنا بقول لكني لا أستطيع أني ألزم الآخرين بهذا الذي أقول أن الذي اطمئننت إليه أخيرًا أن قول الصحابي أنا أحتج به لنفسي بالشرط المذكور آنفًا فإذا اختلف قول صحابي مع قول إمام من أئمة المسلمين فقول الصحابي أحب إليّ من قول ذاك الإمام لكن هنا أيضًا قد يأتي شيء من التفصيل لا بد منه إذا كان جماعة من أئمة المسلمين خالفوا هذا الصحابي في فتواه هنا بيضعضع موقفنا الأول وقد نميل إلى الموقف الآخر والحقيقة أن الذي أريد أن أنصح به طلاب العلم أن لا يتصوروا أنه يمكن أن يقطع في كل مسألة برأي لأنو لا بد أن يبقى باب الاجتهاد مفتوحًا لكن لكل إنسان أن يدلوا بدلوه وأن يقدم برأيه ولو أنه آثره على رأي غيره باختصار إذا اختلف قول صحابي مع قول تابعي أو إمام من أئمة المسلمين فقول الصحابي عندي هو المعتمد أما إذا كثرت الأقوال من أئمة معروفين بالفقه والعلم مخالفين لهذا الصحابي فحين ذاك يكون لنا موقف آخر۔(الدرر في مسائل المصطلح والأثر مسائل أبي الحسن المصري المأربي: ص28-29)
(بلا شک اگر قول صحابی کا کوئی مخالف نہ ہو اور طبعی طور پر اس قید میں سب سے پہلے یہ داخل ہوگا کہ ان کا قول سنت کا مخالف نہ ہو تو بلا شک ان کا قول ان کے بعد آنے والے دوسروں کے اقوال سے زیادہ بابرکت،
لیکن اس تفصیل کو بھی بیان کرنا ضروری ہے کہ ائمہ کرام کی ایک جماعت اگر کسی صحابی کے فتوی کی مخالفت کرتی ہے تو اس وقت ہمارا پہلا موقف متزلزل ہوجاتا ہے۔ہوسکتا ہے یہاں ہم دوسرا موقف اپنائیں۔درحقیقت یہاں میں طلبہ علم کو نصیحت کرنا چاہوں گا کہ وہ یہ نہ سوچیں کہ ہر مسئلہ میں کوئی حتمی رائے رکھنا ممکن ہے،
خلاصہ کلام یہ کہ اگر صحابی کا قول کسی تابعی یا کسی امام کے قول سے متعارض ہو تو صحابی کا قول ہی میرے نزدیک معتمد ہے،
شیخ رحمہ اللہ نے یہاں صریح طور پر قول صحابی کو حجت کہا ہے اور دوسروں کے اقوال کے مقابلے اسے ہی معتمد کہا ہے۔صرف کتاب وسنت کی مخالفت کی صورت میں اس کی حجیت کا انکار کیا ہے۔یا یہ کہ کوئی صحابی کسی مسئلہ میں متفرد ہوں اور ان کی مخالفت میں ائمہ فقہ اور اہل علم کے اقوال بہ کثرت ہوں تو قول صحابی کو وہ حجت نہیں مانتے۔اس کا معنی یہ نہیں کہ ایسی صورت میں اس قول صحابی کی مخالفت کو ضروری سمجھتے ہیں بلکہ پہلے جس طرح حجت مانتے تھے اب ایسی خاص صورت میں حجت نہیں مانتے۔
اب زیر بحث مسئلہ پر غور کریں۔یہاں صحابی متفرد نہیں ہیں بلکہ دو دو مشہور فقہائے صحابہ کا یہ قول ہے۔کتاب وسنت کے نصوص بھی مخالفت میں نہیں بلکہ تائید میں ہیں۔اور سلف کی ایک جماعت نے ان کی موافقت کی ہے جیسا کہ علامہ امیر صنعانی،
واضح ہو کہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے عملی طور پر حاملہ ومرضعہ والے زیر بحث مسئلہ میں قول صحابی کو ہی اختیار کیا ہے۔اور دوسرے دلائل کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنہ کے قول کی بنا پر اس مسئلہ میں فدیہ کے موقف کو راجح قرار دیا ہے۔
شیخ البانی رحمہ اللہ کی زبانی ان کا موقف اور سبب ترجیح سننے کے لیے لنک پر کلک کریں:
اس لیے شیخ البانی رحمہ اللہ کے قول سے فدیہ کے موقف کی تردید کرنا مناسب نہیں۔
✿ دوسرا اعتراض: ابن عباس وابن عمر رضی اللہ عنہما کے فتاوے خصوصی واقعات سے متعلق ہیں اور قاعدہ ہے ”وَقائِعُ الأَعْيانِ لا عُمُومَ لَها“۔
✿ جائزہ: قارئین کرام! دونوں صحابہ کرام کے آثار کی جو تفصیلی تخریج میں نے پیش کی ہے اسے دیکھیں! ان کے الفاظ پر غور فرمائیں! آپ پر واضح ہوگا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے یہ فتوی ایک بار کسی خاص واقعہ کے تناظر میں نہیں دیا ہے۔بلکہ متعدد بار انھوں نے یہ فتوی دیا ہے جسے ان کے سب سے قریبی شاگرد نافع ابوعبد اللہ المدنی نے بیان فرمایا ہے۔ایک بار انھوں نے یہ فتوی اپنی بیوی کو دیا ہے،
کیونکہ واقعۃ العین کا معنی یہ ہے کہ جن کے ساتھ واقعہ پیش آیا ہے وہ حکم صرف ان کے ساتھ خاص ہے،
1–سالم مولی حذیفہ کا جوانی کی عمر میں حذیفہ کی بیوی کا دودھ پینا۔
2–خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کی گواہی کو دو گواہوں کی گواہی کا درجہ دینا۔
کسی واقعہ کو کب واقعۃ العین قرار دیا جائے اور کب نہیں،
اس لیے سب سے پہلا سوال یہی ہے کہ کیا کسی عالم دین نے ابن عمر وابن عباس رضی اللہ عنہما کے فتووں پر واقعۃ العین کا حکم لگایا ہے؟ اگر لگایا ہو تو یہ دیکھنے کی ضرورت ہوگی کہ ان کا دعوی کہاں تک صحیح ہے۔
جہاں تک حکم لگانے کی بات ہے تو میرے علم کی حد تک پوری امت میں سے کسی نے ان کے فتووں پر واقعۃ العین کا حکم نہیں لگایا ہے۔شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے بھی نہیں۔ان کے متعلق یہ کہنا صحیح نہیں کہ انھوں نے ان کے فتووں پر واقعۃ العین کا حکم لگایا ہے۔شیخ رحمہ اللہ کے الفاظ پر غور کریں،
وأما ما ورد عن بعض السلف من أنها تطعم ولا تصوم،
(بعض سلف سے جو یہ بات مروی ہے کہ حاملہ،
شیخ رحمہ اللہ کا یہ قول دلائل کی روشنی میں راجح ہے یا مرجوح یہ الگ مسئلہ ہے،
اوپر واقعۃ العین کا مفہوم بیان کیا جاچکا ہے،
دوسری بات: علمائے کرام فرماتے ہیں کہ واقعۃ العین کی تمیز کا ایک طریقہ یہ ہے کہ وہ واقعۃ شرعی دلائل کے مخالف ہو جیسا کہ شیخ شنقیطی نے اپنے ایک درس میں کہا ہے۔اور اس کی توجیہ ممکن نہ ہو سوائے اس کے کہ اسے واقعۃ العین قرار دیا جائے۔اوپر واقعۃ العین کی جو مثالیں دی گئیں ان پر غور کرنے سے اسے آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر دونوں صحابہ کرام کے فتاوے کتاب وسنت کی کس دلیل کے مخالف ہیں کہ ان پر واقعۃ العین کا حکم صادر کیا جائے؟
بلکہ قضا کو واجب کرنے کے لیے نہ قرآن کی کوئی آیت ہے اور نہ حدیث انس الکعبی سے استدلال صحیح ہے جیسا کہ گزرا۔سب سے بڑی دلیل وہی مریض پر قیاس ہے۔کیا اس صورت میں کسی بھی واقعہ پر واقعۃ العین کا حکم لگانے کی شریعت میں ایک بھی نظیر موجود ہے؟
یہ تو اس صورت کی بات ہے جب حقیقت میں صرف کوئی ایک واقعہ اس طرح کا پیش ہوا ہوتا۔اور یہاں تو معاملہ ہی الگ ہے۔ایک نہیں دو دو صحابہ کرام سے یہ مروی ہے اور دونوں سے کئی کئی صورتوں اور حالات میں۔
لہذا کسی بھی صورت میں اسے واقعۃ العین قرار دینا صحیح نہیں۔
ان مذکورہ چار دلائل (آیت صوم،
● دوسرا قول: حاملہ ومرضعہ دونوں پر صرف قضا ہے،
یہ عطا،
واضح ہو کہ ان میں سے بہت سارے علما سے ایک سے زائد اقوال منقول ہیں۔
✿ اس قول کی دلیلیں:
● پہلی دلیل: اللہ تعالی کا ارشاد ہے: "فَمَنْ كَانَ مِنكُمْ مَّرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ"۔
وجہ استدلال: آیت میں مریض کے لیے قضا کی صراحت ہے۔اور حاملہ ومرضعہ مریض کی طرح ہیں۔دونوں کے درمیان وجہ شبہ عارضی مشقت اور ضرر ہے۔لہذا جس طرح مریض پر عذر زائل ہونے کے بعد قضا ضروری ہے اسی طرح ان پر بھی ضروری ہے۔
✿ جائزہ: آیت میں اللہ تعالی نے صرف مریض اور مسافر کا حکم بیان کیا ہے،
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا:
"المرأة إذا كانت من النفساء في شهر رمضان أو من الحوامل أو من المرضعات هل عليها القضاء أو الإطعام،
جس کے جواب میں آپ نے آیت مذکورہ کو بیان کرنے کے بعد فرمایا: "وقد بين الله تعالى أن على من أفطره بعذر أن يقضيه من الأيام الأخر،
یہاں شیخ صراحت کر رہے ہیں کہ حاملہ ومرضعہ کا یہ حکم آیت کے نص سے نہیں بلکہ مریض پر قیاس کے ذریعہ ہے۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہاں قیاس کی کوئی ضرورت ہے؟
اہل علم کے مابین یہ معروف ہے کہ نص کی موجودگی میں قیاس فاسد اور باطل ہے۔علامہ ابن القیم رحمہ اللہ نے اعلام الموقعین میں اس کے متعلق ایک فصل ہی قائم کیا ہے: الفصل الثاني: في سقوط الرأي والاجتهاد والقياس،
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں متعدد جگہوں پر کہا ہے کہ نص کی موجودگی میں قیاس فاسد ہے۔(فتح الباری: 2/356،
اور پہلے قول کی دلیل میں بیان کیا جاچکا ہے کہ آیت ”وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ“ حاملہ،
نیز بیان کیا گیا کہ اس کی تفسیر میں ابن عباس رضی اللہ کا قول حکمًا مرفوع ہے۔
اور آیت میں صراحت ہے کہ ایسے لوگوں پر فقط اور فقط ”فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ“ ہے،
اگر بالفرض مان بھی لیا جائے کہ یہاں قیاس کی گنجائش ہے تو دیکھنے کی ضرورت ہے کہ مریض کے اوپر قیاس کرنا اولی وانسب ہے یا عمر رسیدہ بزرگ مرد وعورت پر۔
واضح رہے کہ شرعی طور پر ایک دو دن بیمار رہنے والے شخص کا بھی یہی حکم ہے کہ اسے بعد میں قضا کرنا ہے۔اور حاملہ ومرضعہ کے ساتھ مشقت کا معاملہ ایک دو دن کا نہیں مہینوں مہینوں کا ہوتا ہے بلکہ سال دو سال تک۔وہ بھی صرف ایک حمل میں،
کوئی کہہ سکتا ہے کہ بہت سارے مریض مہینوں تک یا بعض سالوں تک بھی بیمار رہتے ہیں۔تو اس کا انکار نہیں،
یقینا اس کا حکم وہی ہے،
دوسری بات: مریض کو صرف اپنے نفس پر خوف ہوتا ہے،
اسی وجہ سے بعض قضا کے قائلین نے اس قول کی مخالفت کی ہے اور بچے پر خوف کی صورت میں فدیہ کو بھی واجب کہا ہے۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ قیاس کرنے والوں کے نزدیک خود علت (وجہ شبہ) کو لے کر اختلاف ہے۔انھیں خود اطمینان نہیں ہے کہ مطلقا حاملہ ومرضعہ کو مریض کے اوپر قیاس کیا جائے یا بعض خاص قسم کی حاملہ ومرضعہ کو۔
اسی لیے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بچے پر خوف کی صورت میں انھیں فدیہ بھی دینا ضروری ہے،
شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ بھی ان کی موافقت کرتے ہیں،
اسی طرح شیخ خالد المشیقیح بھی ان کی موافقت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "أما إذا كانتا خائفتين على ولديهما فقط فيجوز لهما الفطر،
اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے نزدیک ایک عام مریض اور وہ حاملہ ومرضعہ جو بچے پر خوف کی وجہ سے روزہ ترک کرتی ہیں دونوں کا معاملہ یکساں نہیں ہے،
تیسری بات: ایک ہی خاتون کی حمل ورضاعت کی حالت یکساں نہیں ہوتی۔رضاعت کی مدت میں عموما وہ صحت مند ہوتی ہے لیکن بچے کی وجہ سے روزہ ترک کرنا پڑتا ہے۔جب کہ حمل کی حالت میں خود بستر پر پڑی رہتی ہے۔اسی وجہ سے بعض آثار میں ”الحامل علی نفسہا والمرضع علی ولدہا“ کی بات آئی ہے۔قیاس کی صورت میں کیا دونوں کو ایک مان کر مریض پر قیاس کرنا صحیح ہے؟
خود قیاس کرنے والے آپس میں اس قیاس میں متفق نہیں ہیں۔
دوسرے قول کے قائلین دونوں کو ایک ہی مانتے ہیں،
امام مالک صرف حاملہ کو مریضہ مانتے ہیں مرضعہ کو مریضہ مانتے ہی نہیں۔
اب آپ خود ہی فیصلہ کریں کہ یہاں علت (وجہ شبہ) کی حیثیت کتنی مضبوط ہے جس پر قیاس کی بنیاد ہے،
بلکہ اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو قیاس کرنے کی صورت میں حاملہ ومرضعہ کو بوڑھے مرد وعورت پر قیاس کرنا مریض پر قیاس کرنے سے کہیں زیادہ اولی وانسب ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ رب العالمین جو ہم انسانوں کا خالق ہے،
اس رب نے حاملہ کے لیے قرآن کریم کے اندر دو اوصاف بیان کیے ہیں: وہن اور کرہ۔
اللہ تعالی کا ارشاد ہے: (حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَى وَهْنٍ) [لقمان:14], اور دوسری جگہ ہے: {حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا} [الأحقاف:15]
اب دیکھا جائے کہ یہ دونوں اوصاف وقتی مریض کے یہاں زیادہ پائے جاتے ہیں یا عمر رسیدہ بزرگ کے یہاں؟ اور کیا وہن مرض ہےبھی یا نہیں؟
خود قرآن کریم میں اللہ تعالی نے عمر رسیدہ بزرگ کو اس وصف سے متصف کیا ہے لیکن کسی بھی مفسر نے وہن کو مرض نہیں کہا ہے۔بعض مشائخ فرماتے ہیں کہ ہم نے وہن کی تفسیر میں چالیس سے زیادہ مفسرین کا قول دیکھا کسی نے وہن کو مرض شمار نہیں کیا ہے۔لہذا حاملہ جس کی صفت اللہ نے وہن بیان کی ہے اسے مریض کے مشابہ کہنا صحیح نہیں۔ایک حاملہ وہن کا شکار ہوتی ہے،
حاملہ اور بوڑھے بزرگ کے درمیان اللہ تعالی کے بیان کردہ اس ”گہری مشابہت“ کا ملاحظہ فرمائیں اور فیصلہ کریں کہ دونوں کے مابین یہ علت زیادہ قوی ہے یا مرض کی علت جس کا اعتبار کرنے والے آپس میں خود مختلف ہیں۔
✿ دوسری دلیل: انس بن مالک الکعبی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "إن الله تعالى وضع عن المسافر الصوم،
گزشتہ قسط میں اس حدیث کے متعلق بالتفصیل بیان کیا جاچکا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے:
انس بن مالک الکعبی رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کی سند ومتن میں شدید اضطراب ہے۔امام نسائی،
جب کہ امام ترمذی،
اس کے الفاظ پر غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں مختلف طرح کی چیزوں کو ایک ہی سیاق میں بیان کیا گیا ہے جن کا حکم الگ الگ ہے،
اس کی مزید تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ امام ابوحاتم رازی نے جس طریق کی تصحیح کی ہے اس کے الفاظ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ حاملہ ومرضعہ سے آدھی نماز بھی ساقط ہے۔اور اس کا کوئی قائل نہیں۔
علامہ ابن القیم رحمہ اللہ نے دلالت اقتران کب قوی ہوتی ہے اور کب ضعیف اس کے متعلق ایک نفیس قاعدہ بیان کیا ہے،
لہذا اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے حاملہ ومرضعہ سے روزوں کی قضا کا مطالبہ کرنا صحیح نہیں۔واللہ اعلم بالصواب
✿ تیسری دلیل: حاملہ ومرضعہ کی دو صورتوں پر بعض علما نے اجماع کا دعوی کیا ہے کہ ان پر قضا واجب ہے۔پہلی صورت ہے: حاملہ ومرضعہ اپنے نفس پر خوف کی وجہ سے روزہ ترک کریں۔اور دوسری صورت ہے: مرضعہ نفاس کی حالت میں روزے ترک کریں۔
✿ جائزہ: یہ دونوں دعوے خلاف صواب ہیں۔صحیح یہ ہے کہ اس میں سلف کے زمانے سے اختلاف رہا ہے۔اور جنھوں نے فدیہ کا قول اختیار کیا ہے انھوں نے مطلقًا فدیہ کی بات کی ہے،
✿ چوتھی دلیل: اسے علمائے اسلام اور فقہائے امت نے اختیار کیا ہے،
✿ جائزہ:
اولا: یہ کوئی دلیل نہیں جس کی اتباع ضروری ہو۔
ثانیا: یہ خلاف حقیقت بھی ہے۔شروع ہی میں بیان کیا گیا ہے کہ صحابہ،
اسی طرح خلف میں سے شیخ البانی،
ثالثا: جمہور اسے اختیار کرنے میں متفق نہیں ہیں،
پتہ چلا کہ یہ ایک غلط فہمی ہے کہ فدیہ کے قول کو شاذ قول کہا جائے اور قضا کے قول کو جمہور کا متفقہ قول کہا جائے۔
● تیسرا قول: قضا اور فدیہ دونوں واجب ہیں۔
یہ قول مجاہد،
اس قول کے قائلین قضا کے لیے مریض پر قیاس کرتے ہیں،
پہلے بیان کیا جاچکا ہے کہ نص کی موجودگی میں قیاس درست نہیں۔اس لیے قضا کا حکم درست نہیں۔البتہ فدیہ کا حکم چونکہ دلائل کے موافق ہے اس لیے صرف فدیہ کا حکم صحیح ہے۔
● چوتھا قول: حاملہ پر صرف قضا ہے فدیہ نہیں اور مرضعہ پر قضا وفدیہ دونوں ہیں۔
یہ امام مالک کا مشہور قول ہے۔لیث بن سعد نے بھی یہی کہا ہے۔ (المدونۃ الکبری: 4/310)
ان کی دلیل یہ ہے کہ حاملہ مریض کے حکم میں ہے لیکن مرضعہ مریض نہیں۔اس لیے دونوں کا حکم مختلف ہے۔
یہ تفریق درست نہیں،
● پانچواں قول: نہ ان پر قضا ہے،
یہ علامہ ابن حزم رحمہ اللہ کا مذہب ہے۔اور اس پر انھوں نے (المحلی:4/410) میں کافی لمبی چوڑی بحث پیش کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ قضا یا فدیہ کے وجوب کے لیے نہ کوئی نص ہے نہ اجماع،
لیکن ان کی پوری بات تسلیم نہیں کی جاسکتی۔یہ صحیح ہے کہ اس مسئلہ میں کوئی اجماع نہیں،
اس مسئلہ میں اس کے علاوہ بھی اور اقوال ہیں لیکن طوالت کی وجہ سے انہی پر اکتفا کیا جاتا ہے۔
✿ خلاصہ کلام یہ کہ حاملہ ومرضعہ کے روزے کے مسئلہ میں تابعین کے زمانے سے لے کر آج تک شدید اختلاف رہا ہے۔اور ان میں سے دلائل کے اعتبار سے صرف فدیہ پر اکتفا کرنے والا قول راجح اور اقرب الی الصواب معلوم ہوتا ہے۔
هذا ما تبين لي والعلم عند الله وهو أعلم وعلمه أتم وأحكم





