ایک وقت وہ تھا جب عوامی مسائل کے حل کے لیے سیاسی،
لیکن موجودہ وقت کی حکومت تمام تر مخالفتوں،
ریل اور بس کرایوں میں بے تحاشہ اضافہ:
مودی حکومت آنے کے بعد ہی ۱۵ فیصد ریل کرائے میں اضافہ کیا گیا تھا اور ہر سال کرایہ بڑھتا ہی رہا ہے لیکن مسافروں کے لیے کوئی سہولت نہیں۔ٹرینوں میں انسانوں کو بھوس کی طرح ٹھونس دیا جاتا ہے اور یہ اتر بھارت کی طرف جانے والی ٹرینوں کے ساتھ زیادہ تر ہی ہوتا ہے۔جن مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا کر کے لوگ سفر کرتے ہیں وہ ناقابل بیان ہے۔چالو ڈبوں کا حال ناگفتہ بہ رہتا ہے،
اوپر سے پولس والوں کی ظلم وزیادتی،
خوردنی اشیاء کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ:
بازاروں میں بکنے والی اشیاء کو من مانی بیچنے والوں پر نہ کوئی گرفت ہے نہ روک ٹوک۔من مانی سب کچھ ہورہا جو جتنے میں بیچنا چاہے کوئی منع کرنے والا نہیں ہے۔حکومت و انتظامیہ سب مل جل کر عوام کو لوٹ رہے ہیں۔اب احتجاج دھرنے مظاہرے عوامی مفادات کے لیے نہیں ہوتے بلکہ احتجاج کی دھمکی دے کر صرف خانہ پوری ہی کی جاتی ہے اور اندرونی طور پر حکومت سے مفاہمت کر لی جاتی ہے بہت بڑے پیمانے پر ڈیل ہوجاتی ہے۔ذاتی مفاد کے لیے عوامی مسائل کے حل کے لیے لڑنے والے سوشل ورکرس دھرنا احتجاج مظاہرہ کرنے والے عوامی لیڈران عوامی مفادات کو قربان کر دیتے ہیں اور حکومت وقت سے سودے بازی بھی کر لیتے ہیں۔
کچھ ایام قبل مہاراشٹر کی ایک پارٹی کے چیف نے ٹول ناکہ کے خلاف تحریک شروع کی تھی اور ٹول نہ دینے کا اعلان بھی کیا تھا۔کئی ٹول ناکوں پر ان کے ورکرس نے احتجاج کر کے ٹول ناکوں پر تعینات وصولی کرنے والوں کو نہ صرف ٹول لینے سے منع کیا بلکہ ان کو زدو کوب بھی کیا گیا اس کا نتیجہ مثبت برآمد بھی ہوا۔
حکومت کو جھکنا پڑا اور اپنے فیصلے پر نظر ثانی کے لیے تیار بھی ہوگئی۔لیکن اچانک کیا سودے بازی ہوئی کہ ٹول ناکے کے خلاف احتجاج کو واپس لے لیا اور معاملہ جہاں کا تھا وہاں رہ گیا۔یہ ہے ہمارے سیاست دانوں کا وطیرہ۔
ٹول ناکہ:
نوگڈھ سے ممبئی آنے میں دو ہزار سے زیادہ کار کا ٹول لگ جاتا ہے۔قدم قدم پر ٹول ناکہ بنا ہوا ہے۔یہ ٹول ناکے مافیاؤوں کے قبضے میں ہیں۔حکومت اور مافیا دونوں مل کر زبردست وصولی کرتے ہیں نہ حساب نہ کتاب،
حکومتوں کے مظالم دیکھ کر لگتا ہے جیسے آج لوگوں کی قوت برداشت بہت بڑھ گئی ہے۔مہنگائی بڑی تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں بے حد وحساب اضافہ ہو رہا ہے۔کھانے پینے والی چیزوں پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔دال چاول سبزی ترکار ی کی قیمیتیں آسمان چھو رہی ہیں۔دال روٹی تک کے لالے پڑے گئے ہیں۔
غربت ومفلسی کا عالم یہ ہے کہ بچہ مزدوری میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔کم عمر بچے محنت مزدوری کرکے،
سرکاری اسکولوں میں پڑھائی نہیں ہوتی،
پرائیویٹ اسکولوں میں کیا ہوتا ہے مت پوچھیے،
سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کو مناسب دوائیں نہیں ملتی ہیں،
سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کی حالت زار پر رونا آتا ہے۔کورونا جیسی مہلک بیماری میں یومیہ دیکھا جارہا ہے کہ مریضوں کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے۔جانوروں سے زیادہ بری حالت ہے کورونا مریضوں کی۔
افسوس ناک بات یہ ہے کہ کھانسی زکام والے مریضوں کو کورونا بتا کر الگ تھلگ کر دیا جاتا ہے۔آج مریض جس اذیت و عذاب سے گزر رہے ہیں وہ بیان نہیں کیا جاسکتا ہے۔
کئی اسپتالوں میں مریض وقت پر دوا نہ پانے کی وجہ سے دم توڑ دیتے ہیں۔کتنی حاملہ عورتیں اسپتالوں کے سامنے وقت پر علاج نہ ہونے پر موت کی آغوش میں چلی گئی ہیں،
کسی سرکاری محکمہ میں ٹھیک سے کام کاج نہیں ہورہا ہے۔پولس اسٹیشین ٹارچر سیل بنے ہوئے ہیں۔ایسا لگتا ہے پولس والے عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے لوٹ مار کرنے،
لاک ڈاؤن میں مزدوروں اور مسافروں کا پولس نے مار مار کے کس بل نکال دیا،
دو ٹرکوں کا ٹکر 29 لوگوں کی ہلاکت اور ٹرین سے کٹنے کی واردات اور بہت سے مقامات پر حادثات میں اموات ہوئی ہیں جن کا کوئی اعداد وشمار نہیں۔سیکڑوں لوگوں نے بھکمری وفاقہ کشی سے تنگ آکر خودکشی کرلی ہے۔اور یہ حکومت کی لاپرواہی وغفلت سے ہوئی ہے۔ایسا لگتا ہے حکومت عوام کے خلاف اقدام کررہی ہے۔
حکومت کی طرف سے بڑی بڑی ترقیاتی اسکیمیں بنتی ہیں کروڑوں کا بجٹ ہوتا ہے (ابھی ہزاروں لاکھ کروڑ مودی جی نے عوامی فلاح بہود کے لیے اعلان کیا ہے۔مودی جی جب سے برسر اقتدار آئے ہیں تو صرف اعلانات ہی کرتے ہیں۔دینا تو کچھ نہیں ہے اعلان کر کے کانوں کو خوش کردیتے ہیں) لیکن اس بجٹ کا بڑا حصہ سیاست دانو ں اعلیٰ افسروں اور ان کے دلالوں کی جیب میں جاتا ہے اور عوام کے حصے میں پھوٹی کوڑی نہیں۔
خراب سڑکیں،
عدالتیں انصاف کے لیے بنی ہیں لیکن یہاں انصاف کے علاوہ سب کچھ ہوتا ہے۔مقدموں کی تاریخ پر تاریخ ملتی رہتی ہے اور انسان کنگال ہوجاتا ہے۔معاشی تنگ دستی کا شکار ہوجاتا ہے۔یہاں اکثر فیصلے طاقتوں کے حق میں ہوتے ہیں۔اگر کسی حق دار کے حق میں فیصلہ ہو بھی گیا تو اتنی تاخیر ہوچکی ہوتی ہے کہ انصاف ملنا نہ ملنا برابر ہوتا ہے۔آج کے دور میں انسان کو برباد کرنے والی دوچیزیں ہیں ایک بیماری اور دوسری مقدمہ بازی۔
انصاف لوگوں کا حق ہے۔اگر خدا نخواستہ کوئی شخص کسی نہ ناکردہ گناہ میں گرفتار ہوجاتا ہے تو ہندوستان کا قانون شیطان کی آنت کی طرح بڑھتا جاتا ہے اور انصاف ملتے ملتے وہ بے گناہ شخص اپنے قیمتی ایام جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزار رہا ہوتا ہے۔کتنے مقدمات ایسے ہیں جن میں معمولی جرم کی بنا پر ہزاروں لوگ جیل میں ہیں۔نہ ان کی تاریخ چلتی ہے اور نہ انصاف کی امید ہے۔آج ظالم کو مظلوم قاتل کو مقتول بنادیا جاتا ہے۔
عدالتیں بھی مشکوک ہوگئی ہیں۔عدالتیں دباؤ میں کام کرتی ہیں۔عدل وانصاف کا جنازہ نکل گیا ہے۔
ملک میں ایسی خراب صورت حال ہے۔اور سب سے خراب بات یہ ہے کہ کسی بھی پروٹسٹ کا اس سرکار پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔سیاسی لیڈران اب عوامی لڑائی نہیں لڑتے۔الیکشن سے بدلاؤ بھی نہیں آتا۔مسلم پارٹی اور مسلم لیڈران والے ٹوٹکے بھی اب کسی کام کے نہیں رہے۔مسلم دلت اتحاد والی پڑیا بھی کارگر نہیں لگ رہی۔اللہ خیر کرے!
اللہ رب العالمین ہمیں نیک اعمال کی توفیق دے،





