چوتھی قسط: حاملہ ومرضعہ کے متعلق ابن عباس رضی اللہ عنہ کے اثر کی تخریج
پانچویں قسط: حدیث «إن الله وَضَعَ عن المُسافِر الصَّومَ،
انس بن مالک الکعبی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،
یہ حدیث بہت ساری کتب حدیث میں موجود ہے،
امام ترمذی نے اسے روایت کرنے کے بعد حسن کہا ہے۔حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی حسن کہا ہے،
امام منذری نے امام ترمذی کی تحسین نقل کی ہے اور اس پر کوئی کلام نہیں کیا ہے،
حالانکہ اس کی سند ومتن میں شدید اضطراب ہے،
یہی معاملہ امام ابو حاتم رازی کا ہے۔(دیکھیں: العلل لابن ابی حاتم:1/266)
جب کہ امام یعقوب بن سفیان الفسوی رحمہ اللہ نے اس کی صراحت کی ہے،
امام ابن الترکمانی فرماتے ہیں:
بَيَّن البيهقي في هذا الباب اضطراب سند هذا الحديث،
شیخ احمد بن محمد بن صدیق الغماری فرماتے ہیں: "هذا الحديث وقع فيه اضطراب شديد في السند والمتن"۔(المداوي لعلل الجامع الصغير وشرحي المناوي:2/318)
شیخ اثیوبی فرماتے ہیں: "اعلم أن هذا الحديث مضطرب اضطرابًا شديدًا،
(جان لو کہ یہ حدیث سخت قسم کی مضطرب حدیث ہے۔اور امام نسائی نے اس باب کی احادیث ذکر کرتے ہوئے اسے بیان بھی کیا ہے)
اس کے باوجود شیخ اثیوبی نے امام ترمذی کی تحسین پر ہی اپنی موافقت ظاہر کی ہے۔
شیخ حماد انصاری نے ”تحفۃ السائل عن المرضع والحامل“ (ص106) میں اسے ضعیف کہا ہے اور امام ترمذی کی تحسین پر تعقب بھی کیا ہے۔
امام ابو حاتم رازی نے اس کے بعض طرق کو بیان کرنے کے بعد ایک طریق کو راجح قرار دیاہے،
اس حدیث کی سند ومتن پر غور کرنے سے اس کا اضطراب بالکل واضح ہو جاتا ہے۔
✿ یہ حدیث کئی مختلف طرق سے مروی ہے،
● پہلا: ابو ہلال الراسبی عن عبد اللہ بن سوادہ القشیری عن انس بن مالک الکعبی
ابو ہلال الراسبی سے ان کے دس سے زائد تلامذہ نے اسے روایت کی ہے۔اور ان کے الفاظ میں شدید اختلاف ہے۔چند نمونے ملاحظہ فرمائیں:
■ 1- إن الله تعالى وضع عن المسافر الصوم،
یہ امام ترمذی کے الفاظ ہیں۔امام بغوی نے ان ہی کے طریق سے روایت کی ہے،
■ 2– «إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ شَطْرَ الصَّلاةِ،
اس میں مسافر سے روزہ ساقط ہونے کی بات ہی نہیں آئی ہے۔اگر دلالت اقتران سے یہاں استدلال کیا گیا تو نتیجہ نکلے گا کہ جس طرح مسافر سے آدھی نماز کی قضا کا بعد میں مطالبہ نہیں کیا جائے گا اسی طرح حاملہ ومرضعہ سے بھی مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔
امام ترمذی نے وکیع کے طریق سے یہ حدیث روایت کی ہے۔لیکن وکیع سے ہی مروی دوسری کتابوں میں اس کے الفاظ دوسرے ہیں۔
■ 3- «إن الله عز وجل وضع شطر الصلاة عن المسافر،
ہدبہ بن خالد کے طریق سے ہی امام طبرانی نے بھی المعجم الکبیر میں روایت کی ہے اور وہاں لفظ کچھ یوں ہے:
■ 4– «إن الله وضع شطر-أو نصف-الصلاة عن المسافر،
اس میں بھی پہلے جملے میں مسافر سے صرف آدھی نماز کے سقوط کی بات ہے،
امام طبرانی نے یہ لفظ ابو ہلال الراسبی کے اور تین شاگردوں سے روایت کی ہے: ابو نعیم،
جب کہ شیبان بن فروخ سے دوسرے لوگوں نے روایت کی ہے اور ان کے یہاں لفظ کچھ دوسرے ہی ہیں۔مثلا ابوبکر الباغندی ”احادیث شیبان بن فروخ وغیرہ“ (ص15،
■ 5- «إن الله وضع شطر الصلاة أو نصف الصلاة عن المسافر،
اسی طرح ابو نعیم کی بات ہے،
■ 6- «إن الله وضع عن المسافر نصف الصلاة ووضع عن المسافر الصوم أو الصيام وعن الحبلى والمرضع»غور کریں! طبرانی کے یہاں مریض کا ذکر تھا،
■ 7- «إِنَّ اللهَ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ شَطْرَ الصَّلَاةِ،
یہ امام بیہقی کے الفاظ ہیں۔لیکن امام بیہقی نے اسے روایت کرنے کے بعد اس پر نقد کیا ہے،
گرچہ امام ابو داود نے ان کی توثیق کی ہے۔ابن معین نے کبھی صدوق،
لیکن امام احمد فرماتے ہیں: "يحتمل في حديثه،
ابن سعد کا کہنا ہے: فيه ضعف۔امام بخاری اور عقیلی دونوں نے اپنے ”الضعفاء“ میں انھیں ذکر کیا ہے۔
امام نسائی نے ”لیس بالقوی“ اور دارقطنی نے ضعیف کہا ہے۔
ابن عدی نے انھیں ”الکامل فی ضعفاء الرجال“ میں ذکر کیا ہے۔اور ان کے ترجمہ میں کہا ہے: ولأبي هلال غير ما ذكرت،
امام ابن حبان نے ان کے متعلق مفسر جرح کی ہے،
"بل: ضعيفٌ يُعتبر به في المتابعات والشواهد،
(الطبقات لابن سعد: 7/278،
علما کے ان اقوال سے واضح ہے کہ ان کے حفظ کے اندر کافی خلل تھا،
● دوسرا طریق: اس کی سند کے اندر شدید اختلاف ہے۔
بعض طرق میں ”أيوب،
بعض میں ”أيوب،
بعض میں ”عن أبي قلابة،
بعض میں ”أيوب السختياني عن رجل من بني عامر عن رجل من قومه“ ہے۔
بعض میں ”حماد عن الجريري عن أبي العلاء عن رجل من قومه“ ہے۔
بعض میں ”يحي بن أبي كثير قال: حدثني أبو قلابة الجرمي قال: حدثني أبو أمية أو أبو المهاجر عن أبي أمية“ ہے۔
بعض میں ”عن أبي قلابة عن عبيد الله بن زيادة عن أبي أمية أخي بني جعدة“ ہے۔
امام ابو حاتم رازی نے ان میں سے پہلے طریق کو صحیح کہا ہے۔
اس کے الفاظ کے اندر بھی شدید اختلاف ہے۔بعض نمونے ملاحظہ فرمائیں:
■ 1- «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ وَضَعَ شَطْرَ الصَّلَاةِ عَنِ الْمُسَافِرِ،
اس میں مسافر کے روزے کا کوئی ذکر نہیں۔
■ 2- «إن الله وضع عن المسافر والحامل والمرضع الصوم وشطر الصلاة»
اس میں مسافر،
■ 3- «وشطر الصلاة عن الحبلى»
اس میں حاملہ کی آدھی نماز کے ساقط ہونے کی بات ہے۔اور ایوب السختیانی سے اس لفظ کو شعبہ نے روایت کی ہے۔(المعرفہ والتاريخ:2/469)
اس کے علاوہ بھی متعدد الفاظ مروی ہیں جن میں نکارت بالکل واضح ہے۔
اب جس کے الفاظ میں اس قدر شدید اضطراب ہو اس کے سیاق اور اقتران سے استدلال کہاں تک درست ہو سکتا ہے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں۔
اگر تسلیم بھی کرلیا جائے کہ یہ صحیح یا حسن درجے کی حدیث ہے جیسے کہ بعض علما نے کہا ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان میں سے کون سا لفظ ثابت ہے؟ تمام مروی الفاظ یا بعض خاص الفاظ؟
یقینا کوئی بھی تمام مروی الفاظ کو علی الاطلاق ثابت شدہ نہیں کہہ سکتا ورنہ حاملہ ومرضعہ سے بھی آدھی نماز کے سقوط کو قبول کرنا لازم آئے گا،
واضح رہے کہ اس حدیث سے قضا وفدیہ دونوں کے قائلین استدلال کرتے ہیں۔لیکن صحیح ماننے کی صورت میں در اصل یہ قضا کے قائلین کے خلاف حجت ہے،
فدیہ کے قائلین کا استدلال یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں مسافر اور حاملہ ومرضعہ سے روزے کو معاف ہونے کی صراحت کی ہے۔اس حدیث کا منطوق صرف ”وضع“ یعنی سقوط صوم ہے۔اس میں قضا یا فدیہ کی سرے سے کوئی بات ہی نہیں کی گئی ہے۔اور آیت ”وعلی الذین یطیقونہ فدیۃ طعام مسکین“ اور عبد اللہ بن عباس وعبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے آثار سے پتہ چلتا ہے کہ ان پر صرف فدیہ ہے،
علامہ ابن الترکمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "وعلى تقدير سلامته من الاضطراب ليس هو بمطابق لهذا الباب،
(اگر مان لیا جائے کہ اس میں اضطراب نہیں،
در حقیقت یہی اس حدیث کا صحیح مفہوم ہے جو علامہ ابن الترکمانی نے بیان کیا ہے۔واضح رہے کہ وہ حنفی المسلک ہیں،
جہاں تک مسافر کا مسئلہ ہے کہ اس پر قضا واجب ہے تو اس پر قضا کے وجوب کے لیے یہ حدیث دلیل نہیں ہے،
قطعا نہیں۔
اس کا صاف مطلب یہ کہ یہ حدیث کسی کے لیے بھی قضا کے وجوب پر دلالت نہیں کرتی،
اسی حدیث سے استدلال کرتے ہوئے علامہ ابن حزم رحمہ اللہ نے قضا وفدیہ دونوں کی نفی کی ہے،
لیکن فدیہ کے وجوب کے لیے چونکہ آیت ”وعلی الذین یطیقونہ فدیۃ طعام مسکین“ موجود ہے جو کہ حاملہ ومرضعہ کے حق میں محکم ہے (تفصیلات آگے آرہی ہیں) اس لیے فدیہ کا انکار صحیح نہیں۔البتہ قضا کے لیے چونکہ کوئی دوسری دلیل نہیں اس لیے اس کا انکار برحق ہے۔
✿ اس حدیث سے استدلال میں وجوب قضا کے قائلین کا پورا دار ومدار دلالت اقتران پر ہے۔دلالت اقتران کا معنی یہ ہے کہ ایک ہی سیاق میں مسافر اور حاملہ ومرضعہ کو بیان کیا گیا ہے،
یہ استدلال ضعیف ہے،
ہاں بعض جگہوں پر قوی قرائن کی بنیاد پر دلالت اقتران کی حجیت کو تسلیم بھی کیا جاتا ہے۔شیخ ابو عاصم الشحات البرکاتی اپنی کتاب ”دلالۃ الاقتران ووجہ الاحتجاج بها عند الأصوليين“ (ص: 69) کے آخر میں خلاصۃ البحث میں فرماتے ہیں:
إنَّ دلالةَ الاقترانِ لا تقوى على إثباتِ الأحكامِ وحدها،
(دلالت اقتران بذات خود احکام کے اثبات کی قوت نہیں رکھتا،
اس لیے ہمیں حدیث انس کو بغور دیکھنے کی ضرورت ہے کہ یہاں قرینہ اس استدلال کی تائید کرتا ہے یا تضعیف؟
پہلے ہی بیان کیا جا چکا ہے کہ اس حدیث کی سند ومتن میں علما نے شدید اضطراب کی بات ہے۔جنھوں نے اس کی تحسین کی ہے یا اس کے بعض طرق کو صحیح کہا ہے ہم انھی کے الفاظ پر غور کرتے ہیں،
اوپر بیان کیا گیا کہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کی تحسین کی ہے،
امام ترمذی کے الفاظ یہ ہیں: "إن الله تعالى وضع عن المسافر الصوم،
(اللہ تعالی نے مسافر سے روزہ اور اس کی آدھی نماز معاف کر دی ہے اور حاملہ ومرضعہ سے روزے کو)
اس میں ”وضع“ کے سیاق میں مسافر کے روزے،
قائلین قضا کے مطابق اس ”وضع“ کا معنی ”وضع فی مدۃ العذر“ ہے۔یعنی عذر کی مدت میں ساقط ہے،
بالکل ایک ہی سیاق میں ”شطر الصلاۃ“ کا بھی موجود ہونا بہت بڑا قرینہ ہے کہ یہاں ”وضع“ کا معنی ”وضع فی مدۃ العذر“ نہیں ہے،
نیز ”شطر الصلاۃ“ کا موجود ہونا اس بات پر بھی قوی قرینہ ہے کہ یہاں سیاق میں جن چیزوں کو بیان کیا گیا ہے سب کا حکم یکساں نہیں ہے،
مشہور شارحین حدیث امام خطابی،
امام خطابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"قد يجمع نظم الكلام أشياء ذات عدد مسوقة في الذكر،
(کبھی کبھی نظم کلام ایک ہی سیاق میں بہت ساری ایسی چیزوں کو جمع کر لیتا ہے جن کا حکم الگ الگ ہوتا ہے۔اس لیے کہ نماز کا جو آدھا حصہ ساقط کیا گیا ہے وہ ایسا سقوط ہے جس کی قضا نہیں ہے،
علامہ طیبی رحمہ اللہ نے بھی یہی بات ذکر کی ہے۔(الكاشف عن حقائق السنن: 5/1599)
یہاں محل شاہد ان کا یہ بیان کرنا ہے کہ اس سیاق میں جن چیزوں کا تذکرہ کیا گیا ہے سب کا حکم الگ الگ ہے،
اور علامہ توربشتی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "الصوم" منصوب،
(”الصوم“ منصوب ہے،
اور علامہ ابو الحسن سندی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "وقد وضع الله عن المسافر صوم الفرض بمعنى وضع عنه لزومه في تلك الأيام وبين عدة من أيام أخر فكيف صوم النفل (والحامل والمرضع) أي إذا خافتا على الحمل والرضيع أو على أنفسهما ثم هل هو وضع إلى قضاء أو لا وهذا الحديث ساكت عنه فكل من يقول بقضائه لا بد له من دليل قوله"۔(حاشية السندي على سنن ابن ماجه:1/512)
(اللہ تعالی نے مسافر سے فرض روزہ ساقط کر دیا ہے،
ان تمام شارحین حدیث کی تشریحات سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ یہاں پر سیاق میں ایک ہی قسم کی چیزوں کا تذکرہ نہیں ہے،
لہذا صرف اقتران کو دلیل بنا کر حاملہ ومرضعہ کو مسافر کے مشابہ قرار دینا قرین انصاف نہیں ہے۔دلالت اقتران ایک تو خود ضعیف حجت ہے،
یہ تو اس سیاق کی بات ہوئی جس کی امام ترمذی نے تحسین کی ہے۔
✿ امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ نے جس سیاق کو صحیح کہا ہے اس سے تو اس کا ضعف مزید آشکارا ہو جاتا ہے۔واضح رہے کہ امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ نے”ایوب عن ابی قلابہ عن انس بن مالک القشیری“ کے طریق کو صحیح کہا ہے۔ورنہ بیان کیا گیا کہ اس کے طرق میں شدید اختلاف ہے۔
امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ نے جس طریق کی تصحیح کی ہے اس کے الفاظ پر غور فرمائیں:
■ سنن النسائی الصغری (4/180،
■ سنن النسائی الکبری (3/151،
■ صحیح ابن خزیمہ (2/983،
■ تفسیر طبری (3/435،
■ الخلافیات للبیہقی (5/59،
■ المتفق والمفترق للخطیب البغدادی (1/129) کے الفاظ: "إِنَّ الله وضع عن المسافر والحامل أو المرضع الصوم وشطر الصلاة"
ان تمام الفاظ پر غور فرمائیں کہ یہاں اقتران کس بات پر دلالت کر رہا ہے؟
مذکورہ تمام کتابوں میں اقتران اس بات پر دلالت کر رہا ہے کہ حاملہ ومرضعہ سے آدھی نماز بھی معاف ہے۔امام نسائی اور ابن خزیمہ کے یہاں مسافر سے صوم وصلاۃ کے سقوط پر ہی حبلی ومرضع کو عطف کیا گیا ہے،
اور تفسیر طبری،
کیا اس حدیث کے دلالت اقتران سے حجت پکڑتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ حاملہ ومرضعہ سے بھی آدھی نماز معاف ہے؟
✿ خلاصۂ کلام یہ کہ حدیث انس بن مالک الکعبی میں شدید اضطراب ہے۔اس کے سیاق اور اقتران کو دلیل بنانے کی صورت میں یہ لازم آتا ہے کہ حاملہ ومرضعہ سے آدھی نماز بھی معاف ہے جس کا کوئی قائل نہیں۔
لہذا اس کے اقتران کو دلیل بنانا ممکن نہیں۔
✿ دلالت اقتران کے سلسلے میں علامہ ابن القیم رحمہ اللہ کا نفیس قاعدہ:
علامہ ابن القیم رحمہ اللہ نے دلالت اقتران کب قوی ہوتی ہے اور کب ضعیف اس پر اپنی کتاب ”بدائع الفوائد“ (4/1627-1629) میں بڑا ہی نفیس کلام پیش کیا ہے۔فرماتے ہیں: "دلالة الاقتران: تظهر قوَّتها في موطنٍ،
"دلالت اقتران کسی جگہ قوی ہوتی ہے،
جب دو کلمہ کو ایک ساتھ جمع کیا جائے اور دونوں پر کسی ایک لفظ کا اطلاق کیا جائے،
پھر انھوں نے حدیث "الفطرة خمس" سے اس کی مثال پیش کی ہے۔اس حدیث میں کئی کلمات کو ایک ساتھ جمع کرکے اس پر ”الفطرۃ“ کا اطلاق کیا گیا ہے۔حدیث کے الفاظ ہیں: "الفِطْرَةُ خَمْسٌ: الخِتَانُ،
لہذا لفظ ”الفطرۃ“ کا حکم یہاں سب کو شامل ہے۔یہ الگ مبحث ہے کہ ”الفطرۃ“ سے مراد کیا ہے؟ واجب،
یہاں غور کریں اس سیاق میں وارد تمام مسائل کو کلمات کی شکل میں ذکر کیا گیا ہے۔مستقل جملوں کی شکل میں نہیں۔
اگر کہیں پر اقتران جملوں کے مابین ہو تو وہاں پر اس کی دلالت قوی نہیں بلکہ نہایت ضعیف ہوتی ہے۔علامہ ابن القیم رحمہ اللہ اسے بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
"وأما الموضع الذي يظهر ضعف دلالة الاقتران فيه فعند تعدد الجمل واستقلال كل واحدة منهما بنفسها كقوله: "لا يبولن أحدكم في الماء الدائم ولا يغتسل فيه من جنابة " وقوله: "لا يقتل مؤمن بكافر ولا ذو عهد في عهده" فالتعرض لدلالة الاقتران ههنا في غاية الضغف والفساد،
(اور دلالت اقتران اس وقت ضعیف ہوتی ہے جب متعدد جملے ہوں اور ہر جملہ دوسرے سے مستقل ہو۔مثال کے طور پر: «لاَ يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِى الْمَاءِ الدَّائِمِ،
✿ یہاں جس دلالت اقتران کو علامہ ابن القیم رحمہ اللہ نے ضعیف کہا ہے اس پر غور کریں۔جب متعدد جملے ہوں اور ہرجملہ دوسرے جملے سے مستقل ہو اس وقت دلالت اقتران ضعیف ہوتی ہے۔اور اس کی انھوں نے دو مثالیں دی ہیں۔دوسری مثال تو ہماری اس زیر بحث حدیث کے بالکل مشابہ ہے۔
وہ مثال ہے: "لا يقتل مؤمن بكافر،
واضح ہو کہ اس حدیث کے اقتران سے استدلال کرتے ہوئے احناف نے یہ کہا ہے کہ جس طرح ایک مؤمن کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اسی طرح ایک ذمی کو بھی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔کہتے ہیں اس کا معنی ہے: "وَلَا يُقْتَلُ ذُو الْعَهْدِ بِالْكَافِرِ"۔ یعنی حرمتِ دم کے اندر احناف کے نزدیک مسلم وذمی دونوں کا درجہ برابر ہے۔ان کی دلیل اسی حدیث کا اقتران ہے۔کیونکہ ”لَا يُقْتَلُ“ کے سیاق میں دونوں کو بیان کیا گیا ہے۔ (المبسوط للسرخسی:26/135)
علامہ ابن القیم رحمہ اللہ اسی استدلال پر رد کر رہے ہیں کہ یہاں پر دلالت اقتران ضعیف ہے،
پہلے جملہ میں ایک مستقل حکم بیان کیا گیا ہے کہ کسی مؤمن کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا،
دو مستقل جملوں کے درمیان صرف واو عطف کی وجہ سے دونوں کا ایک حکم ایک مان لینا کیونکہ دونوں پر ”لَا يُقْتَلُ“ داخل ہے انتہائی ضعیف استدلال ہے۔
پھر آگے علامہ ابن القیم نے مثال دے کر واضح کیا ہے کہ کب دلالت اقتران قوی ہوتی ہے۔فرماتے ہیں: "وإنما يشترك حرف العطف في المعنى إذا عطف مفردًا على مفرد،
(حرف عطف کے ذریعہ معنی کے اندر اس وقت اشتراک ہوتا ہے جب مفرد کو مفرد پر عطف کیا جائے،
محترم قارئین! اوپر دیکھیں علامہ ابن القیم نے دلالت اقتران کب قوی ہوتی ہے وہاں بھی ”قام زید وعمرو“ کی طرح ہی ایک مثال پیش کی ہے،
اسی طرح کی ایک حدیث: «لَيَكُونَنَّ مِنْ أُمَّتِي أَقْوَامٌ يَسْتَحِلُّونَ الْحِرَ وَالْحَرِيرَ وَالْخَمْرَ وَالْمَعَازِفَ۔(صحيح البخاري:7/106،
لیکن اگر جملہ کا عطف جملہ پر ہو تو وہاں دلالت اقتران نہایت ضعیف ہوتی ہے،
✿ اب آتے ہیں زیر بحث حدیث "إن الله تعالى وضع عن المسافر الصوم،
محترم قارئین! غور فرمائیں! یہاں پر مفرد کا عطف مفرد پر ہے یا جملے کا عطف جملے پر؟
واضح ہے کہ یہاں ”وعن الحامل أو المرضع الصوم أو الصيام“ ایک مستقل جملہ ہے اور اس کا عطف ایک جملہ پر ہے،
جس طرح "لا يقتل مؤمن بكافر" ایک مستقل جملہ تھا،
اور جس طرح "ولا ذو عهد في عهده" ایک مستقل جملہ تھا۔اور پہلے جملہ پر عطف کی وجہ سے اس کا معنی ”ولا يقتل ذو عهد في عهده“ نکلا۔اسی طرح ”وعن الحامل أو المرضع الصوم أو الصيام“ ایک مستقل جملہ ہے،
لہذا جس طرح وہاں پر دوسرے جملے کا حکم پہلے جملے سے بالکل الگ ہے،
علامہ ابن القیم رحمہ اللہ کا یہ قاعدہ نہایت ہی نفیس قاعدہ ہے،
✿ خلاصۂ کلام: انس بن مالک الکعبی رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کی سند ومتن میں شدید اضطراب ہے۔امام نسائی،
جب کہ امام ترمذی،
اس کے الفاظ پر غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں مختلف طرح کی چیزوں کو ایک ہی سیاق میں بیان کیا گیا ہے جن کا حکم الگ الگ ہے،
اس کی مزید تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ امام ابو حاتم رازی نے جس طریق کی تصحیح کی ہے اس کے الفاظ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ حاملہ ومرضعہ سے آدھی نماز بھی ساقط ہے۔اور اس کا کوئی قائل نہیں۔
علامہ ابن القیم رحمہ اللہ نے دلالت اقتران کب قوی ہوتی ہے اور کب ضعیف اس کے متعلق ایک نفیس قاعدہ بیان کیا ہے،
لہذا اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے حاملہ ومرضعہ سے روزوں کی قضا کا مطالبہ کرنا صحیح نہیں۔
والله أعلم وعلمه أتم وأحكم
چھٹی قسط: حاملہ اور مرضعہ پر روزہ ترک کرنے کی صورت میں قضا ہے یا فدیہ؟





