عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ،
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے،
جب بھی کسی قوم میں بے حیائی (بدکاری وغیرہ) علانیہ ہونے لگتی ہے تو ان میں طاعون اور ایسی بیماریاں پھیل جاتی ہیں جو ان کے گزرے ہوئے لوگوں میں نہیں تھیں۔
جب وہ ناپ تول میں کمی کرتے ہیں تو ان کو قحط سالی،
جب وہ اپنے مالوں کی زکاۃ دینا بند کرتے ہیں تو ان سے آسمان کی بارش روک لی جاتی ہے۔اگر جانور نہ ہوں تو ان پر کبھی بارش نہ برسے۔
جب وہ اللہ اور اس کے رسول کا عہد توڑتے ہیں تو اللہ ان پر دوسری قوموں میں سے دشمن کو مسلط کردیتا ہے پھر وہ ان سے چھین لیتا ہے بعض ان چیزوں کو جو ان کے ہاتھ میں تھیں۔
جب بھی ان کے امام (سردار اور لیڈر) اللہ کے قانون کے مطابق فیصلے نہیں کرتے اور جو اللہ نے اتارا ہے اسے اختیار نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ ان میں آپس کی لڑائی ڈال دیتا ہے۔
مذکورہ حدیث کے اندر پانچ اہم باتوں کا تذکرہ کیا ہے کہ جب یہ پانچ چیزیں یا پانچ گناہ بالکل عام ہو جائیں،
وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَّا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنكُمْ خَاصَّةً ۖ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ (سوره انفال:٢٥)
"اور تم ایسے وبال سے بچو! جو خاص کر صرف ان ہی لوگوں پر واقع نہ ہوگا جو تم میں سے ان گناہوں کے مرتکب ہیں اور یہ جان رکھو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔"
حدیث کے اندر سب سے پہلے فحاشی کا تذکرہ کیا گیا ہے۔اگر آج ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ فحاشی بالکل عام ہوچکی ہے۔فحاشی کے تمام ذرائع فحش لٹریچر،
کورونا وائرس یا COVID-19 کے پھیلنے کی شروعات دسمبر ٢٠١٩ء میں چین کے Wuhan شہر سے ہوئی۔شریعت مطہرہ کا ایک قانون ہے کہ جس جگہ وبا پھیلی ہوئی ہے اگر ہم اس جگہ ہیں تو پھر وہاں سے دوسری جگہ منتقل نہ ہوں اور اگر ہم اس جگہ نہیں ہیں تو پھر وہاں داخل نہ ہوں۔وبا سے لڑنے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے اس سے بہتر کوئی تدبیر ہو ہی نہیں سکتی ہے۔وہاں کے لوگوں نے اس چیز کا خیال نہ کیا اور ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے رہے جس کے نتیجے میں یہ وبا صرف وہیں تک محدود نہ رہ کر اس نے سب سے پہلے چین اور پھر پوری دنیا کو اپنی چپیٹ میں لے لیا۔آج پوری دنیا اس سے جوجھ رہی ہے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے سارے کاروبار بند کر دیے گئے،
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو بہت سی پریشانیوں سے بچانے کے لیے زکوٰۃ جیسا شاندار نظام ہمیں عطا فرمایا ہے جیسا کہ ایک غیر مسلم بھائی نے بھی اپنی ٹویٹ میں اس کا اعتراف کرتے ہوئے کہا: "بہت ساری ویڈیوز اور تصاویر دیکھنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اس نازک صورتحال میں لوگوں کو ان کے گھر تک پہنچانے اور ان کو کھانا وغیرہ مہیا کرانے میں زکوٰۃ نے بہت اہم رول ادا کیا ہے،
جیسا کہ اوپر ذکر کی ہوئی حدیث میں بتایا گیا کہ جب لوگ اپنے مالوں کی زکوٰۃ دینا بند کر دیتے ہیں تو آسمان سے بارشیں روک لی جاتی ہیں(جس کے نتیجے میں ہمیں پانی کی قلت کے علاوہ اور بھی بہت ساری دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے) لیکن اس سال ایسا نہیں ہوا۔لوگوں نے خوب جم کر صدقہ و خیرات کیے جس کے نتیجے میں ہم دیکھ رہے کہ الحمد للّہ ثم الحمدللہ وقت سے پہلے ہی بارش شروع ہوگئی ہے۔کچھ نیکیاں ایسی ہوتی ہیں جن کے اثرات ہمیں فوراً دیکھنے کو مل جاتے ہیں۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اگر زکوٰۃ کے نظام کو صحیح طریقہ سے شریعت کے مطابق چلایا جائے،
اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ ہمیں زیادہ سے زیادہ صدقات و خیرات کرنے کی توفیق دے اور جو بارشیں ہورہی ہیں ان کو ہمارے لیے نفع بخش بنائے۔آمین





